الحموی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ان کا نام “الشیخ الامام شہاب الدین ابو عبد اللہ یاقوت بن عبد اللہ الحموی الرومی البغدادی” ہے، تاریخ میں ان کی پیدائش کے متعلق کچھ نہیں ملتا، تاہم یہ ثابت ہے کہ انہیں روم سے قیدی بناکر دوسرے قیدیوں کے ساتھ بغداد لایا گیا تھا جہاں انہیں ایک غیر تعلیم یافتہ تاجر “عسکر الحموی” کو فروخت کردیا گیا چنانچہ انہی سے منسوب ہوکر یاقوت الحموی کہلائے.

عسکر الحموی نے انہیں پڑھنے پر ڈال دیا اس امید کے ساتھ کہ وہ نہ صرف انہیں فائدہ پہنچائیں گے بلکہ دوسری تاجر برادری کے حساب کتاب مرتب کرنے میں معاون ثابت ہوں گے، انہوں نے صرف ونحو اور لغت کے دوسرے قاعدے سیکھے، عسکر الحموی نے انہیں تجارتی اسفار میں استعمال کیا پھر انہیں آزاد کردیا، آزاد ہونے کے بعد انہوں نے نسخِ کتب کو ذریعۂ روزگار بنایا، اس کام سے انہیں بہت ساری کتب کے مطالعہ کا موقع ملا اور ان کے علمی افق میں اضافہ ہوا.

کچھ عرصہ بعد وہ عسکر الحموی کے پاس دوبارہ لوٹ آئے جنہوں نے ان پر پھر نظرِ کرم کی اور انہیں اپنے تجارتی اسفار کا نگران بنادیا، اس کام سے انہوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور منفرد جغرافیائی معلومات اکٹھی کیں، پھر حلب گئے اور وہاں سے خوارزم جاکر سکونت اختیار کرلی، 616 ہجری میں جب چنگیز خان نے خوارزم پر شبِ خون مارا تو اپنا سب کچھ چھوڑ کر موصل چلے گئے اور آخر کار پھر حلب آگئے جہاں 626 ہجری میں انتقال کر گئے.

ان کی اہم تصانیف میں ان کی مشہور ترین کتاب “معجم البلدان” ہے جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہوچکی ہے، اس کتاب میں دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ زمین کی تصویر اور متقدمین اور متاخرین کا زمین کے بارے میں تصور زیرِ بحث لایا گیا ہے، کتاب میں برید، الفرسخ، المیل، الکورہ جیسے الفاظ کی کثرت سے تکرار ہے.