ابن جریر طبری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مکمل نام  :

أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد الطبری

ولادت :

224ھ / 838ء

وفات :

سوموار 28 شوال 310ھ / 17 فروری 923 ء

ابن جریر طبری عہد عباسی کے مشہور مفسر مورخ تھے۔ طبری کا تعلق طبرستان -موجودہ ایران کے علاقہ ماژندران- سے ہے۔
طبری کی تصانیف میں سب سے زیادہ اہم اور مقبول ان کی تفسیر جامع البيان عن تأويل آي القرآن اور تاریخ الرسل و الملوک ہیں۔ اول الذکر تفسیر طبری اور آخر الذکر تاریخ طبری کے نام سے مشہور ہیں۔ طبری فقہ شافعی کے پیروکار تھے، لیکن بعد میں ان کے آراء اور فتاوی کی بنیاد پر ایک مسلک وجود میں آیا جو ان ہی کی نسبت سے جریری کے نام سے مشہور ہوا۔

پیدائش[ترمیم]

محمد بن جریر بن یزید الطبری الآملی ابو جعفرRAHMAT.PNG کی پیدائش طبرستان کے علاقہ آمل میں خلیفہ عباسی المعتصم باللہ کے عہد خلافت میں سنہ 224 ہجری/838 عیسوی میں ہوئی ۔ آمل دریائے ھراز کے ساحل پر واقع ہے، بحیرہ خزر سے 20کلومیٹر جنوب میں، کوہِ البرز سے 10کلومیٹر شمال میں اور 180کلومیٹر مشرق میں تہران سے دور ہے۔

نام ونسب[ترمیم]

مکمل نام محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب اور کنیت ابو جعفر تھا۔ آمل طبرستان سے تعلق تھا اس لئے آملی اور طبری سے مشہور ہوئے۔ نیز آپ کی علمی استعداد، قابلیت اور اوصاف حمیدہ کی بنا پر الامام، المجتھد، المفسر، المحدث، الحافظ، الفقیہ، المورخ، اللغوی اور المقری کے القاب سے موصوف ہوئے۔ ان سے طبری کے علمی رتبہ کا پتہ چلتا ہے۔

پچپن و تعلیم[ترمیم]

آپ کے والد نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ابن جریر نبی کریم ﷺ کے دونوں مبارک ہاتھوں کے درمیان کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں کنکریاں ہیں جنھیں ابن جریر ایک ایک اٹھا کر پھینکتے جاتے ہیں۔ جب خواب کی تعبیر اس وقت کے علماء کرام سے معلوم کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ابن جریر بڑے ہوکر دین کی خدمت سر انجام دیں گے۔ اور یہ خواب گویا آپ کے تحصیل علم کا ایک سبب بن گیا۔
آپ نے قرآن مجید سات سال کی عمر میں حفظ کرلیا۔ آٹھ سال کے ہوئے تو امامت جیسا اہم فریضہ انجام دینے لگے۔ نو سال کی عمر میں حدیث لکھنا شروع کیا اور جب سولہ سال کی عمر کو پہنچے تو امام احمد بن حنبلRAHMAT.PNG کی زیارت کا شوق پیدا ہوا۔ چنانچہ آپ نے بغداد کا سفر کیا۔ اس دوران آپ کے اخراجات آپ کے والد ادا کرتے تھے۔ والد محترم نے انتقال کے وقت آپ کے لئے ایک زمین کا ٹکرا چھوڑا تھا جس سے آپ گذر بسر کیا کرتے تھے۔

شیوخ[ترمیم]

  1. محمد بن حميد الرازي التميمي (241ھ) رے۔
  2. ابو همام الوليد بن شجاع (243ھ) کوفہ۔
  3. عمران بن موسی الليثی البصری ( 240ھ) بصرہ۔
  4. احمد بن منيع البغوی ابو جعفر (244ھ)۔
  5. محمد بن العلاء الهمدانی ابو کريب (247ھ) کوفہ۔
  6. محمد بن عبدالملک بن الشوارب البصری الاموی (244ھ)۔
  7. محمد بن بشار العبدی البصری ( 252ھ)۔
  8. الامام الحافظ يعقوب بن ابراہيم الدورقی (252ھ)۔
  9. بشر بن عبدالاعلی الصنعانی البصری (245ھ)۔
  10. ربيع بن سليمان الازدی (250ھ)۔
  11. حسن بن محمد الزعفرانی البغدادی الشافعی (260ھ)۔
  12. اسماعيل بن يحيی المزنی (264ھ)۔
  13. محمد بن عبد اللہ بن عبدالحکم المالکی المورخ (264ھ)۔
  14. ہناد بن السری التمیمی (243ھ)۔
  15. سلیمان بن عبدالرحمٰن خلاد الطلحی (252ھ)۔
  16. یونس بن عبدالاعلیٰ الصدفی (264ھ)۔
  17. علی بن سراج المصری ابوالحسن (252ھ)۔
  18. احمد بن یحییٰ ثعلب الکوفی (308ھ)۔
  19. شیخ عباس بن ولید البیرونی (270ھ)۔

تحصیل علم کی غرض سے اسفار[ترمیم]

ابتدا میں طبری نے رے میں علم حاصل کیا پھر کوفہ کا رخ کیا۔ وہاں محمد بن بشار، اسماعیل بن محمد السدی، ہناد بن السری، محمد بن عبدالاعلیٰ الصنعانی، احمد بن منیع، یعقوب بن ابراہیم الدوقی اور محمد بن العلاء الھمدانی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ اس کے بعد شام اور بیروت گئے۔ وہاں عباس بن ولید البیرونی کی صحبت میں قرآن مجید کی مختلف روایات قرات کی مشق کی، پھر مصر روانہ ہوئے اور درمیان میں ایک بار پھر شام جانا ہوا ور پھر مصر واپسی ہوئی۔ وہاں فقہ شافعی کی تحصیل کی۔ آپ کے شیوخ میں اسماعیل بن ربیع بن سلیمان المرادی، اسماعیل بن ابراہیم المزنی، اور محمد بن عبدالحکم مشھور ہیں۔ مصر سے پھر آپ بغداد لوٹے اور ایک مرتبہ پھر اپنے آبائی وطن طبرستان کا قصد کیا۔ اس وقت طبرستان روافض کا گڑھ بن چکا تھا اور صحابہ پر سب وشتم کیا جاتا تھا (العیاذباللہ)۔ جن کے رد میں آپ نے فضائل شیخین ‏‏ رضوان اللہ علیھم لکھا اور اس کتاب کو وہاں املا کروایا۔ جس کے سبب آپ کا وہاں قیام کرنا جان کے لیے خطرہ بن گیا۔ مجبوراً آپ کو بغداد لوٹنا پڑا اور تاوفات آپ پھر بغداد میں ہی رہے۔

جمہور علماء کا ابن جریر طبری پر تاثرات و مدح[ترمیم]

صاحب وفیات الاعیان ابن خلکان لکھتے ہیں:

ابو جعفر محمد بن جرير بن خالد الطبري ، وقيل يزيد بن کثير ابن غالب؛ صاحب التفسير الکبير والتاريخ الشهير ، کان اماما في الفنون کثيرة منها التفسير والحديث والفقة والتاريخ وغير ذالک، وله مصنفات مليحة في الفنون عديدة تدل على سعة علمه وغزارته.

ابو جعفر محمد بن جریر خالد الطبری، جنہیں یزید بن کثیر بن غالب بھی کہا جاتا ہے، بڑے مفسر اور مشہور مورخ ہوئے ہیں۔ نیز فقہ، تاریخ وغیرہ مختلف فنون کے بھی امام تھے۔ مختلف فنون پر ان کی بہت سی تصانیف ہیں، جو ان کی وسعت علمی پر دلالت کرتی ہیں۔ مجتھد امام تھے کسی کی تقلید نہیں کی۔

ان کے علاوہ بہت سے اکابرین علماء نے ان کی مدح کی ہے جن میں ابن کثیرRAHMAT.PNG نے "البدایہ والنھایہ" میں، خطیب بغدادیRAHMAT.PNG نے "تاریخ بغداد" میں، امام سیوطیRAHMAT.PNG نے "طبقات المفسرین " میں اور امام سبکیRAHMAT.PNG نے "طبقات الشافیہ" میں، ان کے علاوہ ابن حجر عسقلانیRAHMAT.PNG نے "لسان المیزان" میں، امام ذہبیRAHMAT.PNG نے "سیر الاعلام النبلاء " اور "میزان الاعتدال" میں، امام ابن جوزیRAHMAT.PNG نے "المنتظم" میں اور بہت سے اکابرین نے آپ کی سوانح اور مدح بیان کیے ہیں ۔

چند مشہور شاگرد[ترمیم]

  1. ابو شعیب عبداللہ بن الحسن الحرابی (295) یہ آپ سے عمر میں بڑے تھے۔
  2. الامام الحافظ ابو قاسم سلیمان بن احمد الطبرانی (360)۔
  3. الشیخ القاضی ابو بکر بن کامل (350)۔
  4. الامام ابو احمد عبداللہ بن عدی (365)۔
  5. القاضی ابو الفرج المعانی بن زکریا النھروانی المعروف "ابن طرار" (390)۔

ابن جریر طبری کی چند تصانیف[ترمیم]

  1. جامع البیان فی تفسیر القرآن۔ یہ اہل سنت کے ہاں سب سے قدیم تفسیر اور ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے ۔
  2. تاریخ الطبری (تاریخ الرسل والملوک)۔ تاریخ کے لحاظ سے یہ کتاب بھی اولین ماخذ کا درجہ رکھتی ہے ۔
  3. تھذیب الآثار و تفصیل معانی ثابت عن رسول اللہ ﷺ ۔
  4. اختلاف الفقہاء ۔
  5. ادب النفوس الجیدہ واخلاق النفیسہ۔
  6. آداب القضاء۔
  7. آداب المناسک ۔
  8. التبصیر فی معالم التنزیل۔
  9. بسیط القول فی احکام الاسلام ۔
  10. الذیل المذیل ۔
  11. صریح السنہ۔

ابن جریر طبری پر شیعیت کا الزام[ترمیم]

یہ ایک سلسلہ چلا آتا ہے کہ تمام علماء حق کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جن میں امام اعظم ابو حنیفہRAHMAT.PNG، امام نسائیRAHMAT.PNG، امام بخاریRAHMAT.PNG غرض بڑے بڑے مشایخ بھی الزامات سے نہ بچ سکے ۔ ٹھیک اسی طرح ابن جریر طبری RAHMAT.PNG پر ان کے حاسدین نے شیعیت جیسا گھناؤنا الزام عائد کیا۔ الحمدللہ علماء حق نے اس کا رد کیا اور ان اکابرین کا دفاع کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا ۔ اکابرین امت اور علماء حق نے ان سارے الزامات کے مدلل جوابات دیے ہیں۔ ان اکابرین میں ابن کثیر، امام ذہبی، ابن حجر عسقلانی، ابن جوزی، ابن خزیمہ، ابن خلکان، ابو اسحاق شیرازی، امام سیوطی، ابن عساکر، خطیب بغدادی اور ان کے علاوہ بہت سے اکابرین نے احسن انداز سے دفاع کیا۔


وفات :

آپ نے عباسی خلیفہ المُقتدر باللہ کے عہد خلافت میں سوموار 27 شوال 310ھ / 17 فروری 923 ء کو 86 سال کی عمر میں بغداد میں وفات پائی ۔ جنازے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن کی تعداد اللہ تعالٰیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کئی مہینوں تک نماز جنازہ ادا کی جاتی رہی ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وفيات الأعيان وأبناء الزمان لابن خلکان۔
  2. طبقات المفسرين للسيوطي۔
  3. لسان الميزان لابن حجر عسقلاني۔
  4. معجم الأدباء إرشاد الأريب إلى معرفة الأديب لياقوت الحموي۔
  5. مختصر تاريخ دمشق لابن عساکر۔
  6. البداية والنهاية لابن کثير۔
  7. سير أعلام النبلاء للذهبي۔
  8. صريح السنة۔
  9. أبو جعفر محمد بن جریر الطبري، مولف: علي بن عبدالعزیز بن علي الشبل (ریاض، سعودی عرب)۔