ابن اسحاق
وکیپیڈیا سے
ابن اسحاق (704ء تا 767ء) جن کا مکمل نام محمد بن اسحاق بن یسار بن خیار المدنی تھا، آٹھویں صدی کے قدیم ترین سیرت نگار ہیں جن کی مشہور کتاب سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سیرت ابن اسحاق کے نام سے مشہور ہے۔ یہ کتاب اب ناپید ہو چکی ہے مگر اس کتاب کا نثری حصہ سیرت ابن ہشام میں لیا گیا ہے۔ ان کی تاریخ اسلامی تاریخ کی قدیم ترین کتاب ہے۔
فہرست |
[ترمیم] حالات زندگی
محمد ابن اسحاق 85ھ (704ء) میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں ہوئی۔ تیس برس کی عمر میں وہ مصر چلے گئے۔ بعد میں ابن اسحاق بغداد چلے گئے جہاں بنو عباس نے بنو امیہ کا تختہ الٹ کر بغداد کو مرکزی شہر بنایا تھا ۔ وہاں85 ھ بمطابق 767ء میں انتقال کیا۔
[ترمیم] تصنیفات
ابن اسحاق کی کئی تصانیف تھیں جو اب اپنی اصل حالت میں نہیں ملتیں مگر ان کے حصے کچھ اور تصانیف میں ملتے ہیں۔ مثلاً سیرت ابن ہشام، جو ایک مشہور اور قدیم تاریخ کی کتاب ہے اصل میں ابن اسحاق کے شاگرد البقائی نے ترتیب دی اور بعد میں ابن ہشام نے مرتب کی۔ اس کتاب میں ابن اسحاق کے نثری حصے موجود ہیں۔ ابن اسحاق نے عربی شاعری بھی شامل کی تھی کیونکہ اس کو تبدیل کرنا اوزان کی وجہ سے قدرے مشکل ہوتا ہے اور تاریخ کے اصل واقعات محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ابن اسحاق کے شاگرد سلامہ ابن فضل الانصاری نے ابن اسحاق کی سیرت کو مرتب کیا تھا۔ یہ کتاب خود تو باپید ہو چکی ہے مگر اس کے حصے مشہور تاریخ طبری میں ملتے ہیں۔ دیگر کتب میں بھی بکھرے ہوئے حصے موجود ہیں مگر وہ کچھ زیادہ نہیں۔
[ترمیم] تنقید
ابن الاسحاق علم الانساب کے بہت بڑے ماہر تھے۔ وہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر تھے۔ انھوں نے اپنی معلومات کے مطابق، امام مالک کے بارہ میں یہ کہ دیا کہ وہ قبیلہ ذی اصبح کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں۔ مگر خود امام مالک اپنے آپ کو حمیر کی شاخ اصبح میں سے خیال کرتے تھے۔ اس اختلاف کی بنا پر دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ امام مالک نے جب حدیث کی کتاب موطا تیار کی تو کہا جاتا ہے کہ محمد بن اسحاق نے کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ، اس کا معالج ہوں(ایتونی بہ فانا بیطارہ) یہ بات امام مالک تک پہنچی تو وہ سخت برہم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے، یہود سے روایتیں نقل کرتا ہے (ھذا دجال من الدجالۃ یروی عن الیھود) ابن حبان نے کتاب الثقات میں لکھا ہے کہ محدثین کو محمد بن اسحاق پر یہ اعتراض تھا کہ خیبر ،قریظہ، نضیر کی جنگوں کے حالات وہ ان یہودیوں کی اولاد سے لے کر کتاب میں درج کرتے تھے جن کے آباء وجداد مسلمان ہوگئے تھے۔ اور چونکہ یہ باتیں انہوں نے یہود سے سنی ہوں گی اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ [1]
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ مولانا وحید الدین خان ،ڈائری جلد اول 30 جولائی 1983 ،ص:127