ابن النفیس
وکیپیڈیا سے
ان کا نام “الحسن علاء الدین علی بن ابی الحزم” ہے، ابن النفیس یا کبھی کبھی قرش جو ماورائے نہر کا ایک شہر ہے کی نسبت سے قرشی کے نام سے جانے جاتے تھے، طبیب اور فلسفی تھے، دمشق میں 607 ہجری کو پیدا ہوئے، اور قاہرہ میں 687 ہجری کو وفات پائی.
دمشق میں طب کے مشہور علماء سے طب کی تعلیم حاصل کی خاص طور سے مہذب الدین دخوار سے، پھر مصر چلے گئے اور مستشفی الناصری (الناصری ہسپتال) میں خدمات انجام دیں اور پھر المستشفی المنصوری میں جسے سلطان قلاوون نے تعمیر کرایا تھا، اس ہسپتال کے سربراہ اور سلطان بیبرس کے طبیبِ خاص مقرر ہوئے، وہ سلطان کے گھر میں امراء اور اکابرین طب کی مجلس میں شرکت کیا کرتے تھے.
ان کی وصف میں کہا گیا ہے کہ وہ طویل القامت شیخ تھے، ڈھیلے گال اور دبلے تھے، صاحبِ مروت تھے، انہوں نے قاہرہ میں ایک گھر بنوایا تھا جس کے ایوانوں تک انہوں نے رخام لگوائی تھی، وہ چونکہ شادی شدہ نہیں تھے چنانچہ انہوں نے اپنا گھر، مال اور تمام کتب بیمارستانِ منصوری کے لیے وقف کردی تھیں.
وہ مشہور طبی مؤرخ اور “عیون الانباء فی طبقات الاطباء” کے مصنف ابن ابی اصیبعہ کے ہم عصر تھے، دونوں نے ایک ساتھ ہی ابن دخوار سے طب کی تعلیم حاصل کی تھی اور کئی سالوں تک مستشفی الناصری میں ایک ساتھ کام کرتے رہے، مگر ابن ابی اصیبعہ نے اپنی کتاب “عیون الانباء فی طبقات الاطباء” میں ابن النفیس کا تذکرہ نہیں کیا، کہا جاتا ہے کہ اس تجاہلِ عارفانہ کی وجہ ان دونوں کا آپس میں کسی بات پر اختلاف تھا، مگر پھر بھی ابن النفیس بہت ساری تاریخی کتب اور تراجم میں مذکور ہیں جن میں قابلِ ذکر عماد الحنبلی کی “شذرات الذہب” اور امام سیوطی کی “حسن المحاضرہ” ہے، اس کے علاوہ مستشرقین کی ایک بہت بڑی تعداد نے ان کے بارے میں لکھا ہے جن میں بروکلمن، مایرہاف اور جارج سارٹن شامل ہیں.
ابن النفیس کی شہرت صرف طب تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ لغت، فلسفہ، فقہ اور حدیث کے اپنے زمانے کے بڑے علماء میں شمار کیے جاتے تھے، ان کی تصنیفات میں غیر طبی موضوعات پر بھی بہت ساری کتب ہیں جن میں کچھ قابلِ ذکر یہ ہیں: الرسالہ الکاملیہ فی السیرہ النبویہ اور فاضل بن ناطق.
طب میں وہ اپنے زمانے کے مشہور اطباء میں سمجھے جاتے تھے، اس حوالے سے ان کی بہت ساری تصنیفات ہیں، ان کی طبی تصنیفات میں جرات اور آزادیء اظہارِ رائے کا بھرپور مظاہرہ ملتا ہے جو ان کے زمانے کے علماء میں بالکل مفقود ہے، وہ اپنے زمانے کے علماء کے برعکس ابن سینا اور جالینوس کے بر خلاف جاتے ہوئے ان پر کھلی تنقید کرتے نظر آتے ہیں، ان کی اہم تصنیفات یہ ہیں:
آنکھوں کے طب میں “المذہب فی الکحالہ. المختار فی الاغذیہ. شرح فصول ابقراط. شرح تقدمہ المعرفہ. شرح مسائل حنین بن اسحق. شرح الہدایہ. ابن سینا کی کتاب القانون کا اختصار “الموجز فی الطب”. شرح قانون ابن سینا. بغیہ الفطن من علم البدن. “شرح تشریح القانون” اس کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ ابن النفیس فیزیالوجی کی ایک اہم دریافت پر اپنے ہم عصر اور آج کے تمام اطباء پر سبقت لے گئے، انہوں نے آج کی جدید سائنس سے کئ سو سال پہلے Lung Circulation تفصیل سے بیان کی تھی.