جابر بن حیان

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
15 ویں صدی کے ایک یورپی مصور کا تخلیق کردہ جابر بن حیان کا خاکہ

ان کی اندازاَ تاریخ پیدائش 731ء اور مقام طوس یا خراسان تھا۔ جابر بن حیان کا روزگار دوا سازی اور دوا فروشی تھا۔ يعنی کہ جابر بن حیان ايک حکيم بھی تھے ـ بہت چھوٹی عمر میں ہی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو ان کی ماں نے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی۔ جابر بن حیان نے کچھ ہوش سنبھالی تو ماں انہیں کوفہ کے مضافات میں اپنے ميکے پرورش پانے کے لئے بھیج دیا۔ لہذا اچھی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ جوان ہونے کے بعد انہوں نے کوفے میں رہائش اختيار کی۔ اس زمانے میں کوفہ میں علم و تدریس کے کافی مواقع تھے۔ کوفہ میں جابر نے امام جعفر صادق (۴) کی شاگردی اختیار کی جن کے مدرسے میں مذہب کے ساتھ ساتھ منطق، حکمت اور الکیمیا جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ اس وقت کی رائج یونانی تعلیمات نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ علم حاصل کرنے کےدوران اس نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو سونا بنانے کے جنون میں مبتلا دیکھا تو خود بھی یہ روش اپنا لی۔ کافی تجربات کے بعد بھی وہ سونا تیار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن کیمیا میں حقیقی دلچسپی کی وجہ سے اس نے تجربات کا سلسلہ ختم نہ کیا۔

تاریخ کا سب سے پہلا کیمیا دان اور عظیم مسلمان سائنسدان طوس میں اپنے باپ کی جلا وطنی (ايک روايت کے مطابق وفات) کے دوران پیدا ہوا۔ جابر کا تعلق عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلے اذد سے تھا۔ اس نے اپنے والد کے آبائی شہر کوفہ میں اپنی تجربہ گاہ تعمیر کی۔

فہرست

[ترمیم] نظريات

جابر کی فکر میں نظریہ میزان کی حیثیت کلیدی ہے۔ قرآن کریم میں لفظ میزان متعدد جگہ پر آیا۔ اس سے کائنات توازن کے علاوہ دونوں جہاں میں اللہ کا عدل اور روز قیامت کی جزاوسزا بھی مراد ہے کائنات کا ذرہ ذرہ میزان کی منہ بولتی تصویر ہے۔ آفتاب ‘ ماہتاب‘جمادات ‘ حیوانات ‘نباتات ‘تمام جاندار و غیر جاندار اشیاءکی حرکت اور سکون کا دارومدار میزان پر ہے۔ میزان کا ئناتی اصولوں کا مرکز و محور ہے۔ جابر کےنزدیک اعداد اسی توازن کا مظہر ہيں جس کی بنیاد پر دنیا وجود میں آئی اور قائم ہے۔ یوں انیسویں صدی کے انگریز مفکروں کی طرح جابر بن حیان نے بھی سائنسی نظام کا رشتہ اپنے دینی عقائد کے ساتھ منسلک کر ليا تھا۔

[ترمیم] خدمات

جابر بن حیان کا مصورانہ خاکہ

جابر نے کیمیاء کی اپنی کتابوں میں فولاد بنانے، چمڑے کو رنگنے، دھاتوں کو صاف کرنے، موم جامہ بنانے، لوہے پر وارنش کرنے، خضاب تیار کرنے کے علاوہ دیگر بہت سی اشیا بنانے کے طریقے درج کیے۔ انہوں کے کئی اشیاء کے سلفائڈ بنانے کے بھی طریقے بتائے۔ انہوں نے شورے اور گندھک کے تیزاب جیسی چیز دنیا میں سب سے پہلی بار ایجاد کی۔ جو کہ موجودہ دور میں بھی نہایت اہمیت کی حامل اور سنسنی خیز ہے۔ اانہوں نے سب سے پہلے قرع النبیق کے ذریعے کشید کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔

یہ امرقابل ذکر ہے کہ پوری دنیا میں علمی "سائنسی" اور فکری حوالے سے دوسری صدی عیسویں کے بعد کوئی اہم شخصیت پیدا نہ ہوئی تھی۔ بقراط، ارسطو، اقلیدس ، ارشمیدیش، بطلیموس اور جالینوس کے بعد صرف سکندریہ کی آخری محقق ہائپاتيا چوتھی صدی عیسوی میں گزری تھی۔ لہذا علمی میدان میں چھائی ہوئی تاریکی میں روشن ہونے والی پہلی شمع جابر بن حیان تھی۔ اس کے بعد گیارھویں صدی تک مسلمان سائنسدانوں اور مفکروں کا غلبہ رہا۔

[ترمیم] تراجم كتب

جابر بن حیان کی تمام تصانیف کا ترجمہ لاطینی کے علاوہ دیگر یورپی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ تقریباَ آٹھ نو سو سال تک کیمیاکے میدان میں وہ تنہا چراغ راہ تھا۔ اٹھارھویں صدی میں جدید کیمیا کے احیاء سے قبل جابر کے نظریات کو ہی حرف آخر خیال کیاگیا۔ بطور کیمیادان ان کا ایمان تھا کہ علم کیمیا میں تجربہ سب سے اہم چیز ہے۔ اس نے عملی طور پر دنیا کو دکھایا کہ کچھ جاننے اور سیکھنے کے لئے صرف مطالعے اور علم کے علاوہ خلوص اور تندہی کے ساتھ تجربات کی بھی ضرورت ہے۔ وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی سوچ اور تجربے میں منہمک رہتے۔ گھر نے تجربہ گاہ کی صورت اختیار کر لی۔ سونا بنانے کی لگن میں انہوں نے بے شمار حقائق دریافت کئے اور متعدد ایجادات کیں۔ جابر بن حیان نے اپنے علم کیمیا کی بنیاد اس نظرئیے پر رکھی کہ تمام دھاتوں کے اجزائے ترکیبی گندھک اور پارہ ہیں۔ مختلف حالتوں میں اور مختلف تناسب میں ان دھاتوں کے اجزائے ترکیبی ملنے سے دیگر دھاتیں بنیں۔ ان کے خیال میں دھاتوں میں فرق کی بنیاد اجزائے ترکیبی نہیں بلکہ ان کی حالت اور تناسب تھا۔ لہذا معمولی اور سستی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنا ممکن تھا۔ ان میں مشاہدہ ذہانت لگن اور انتھک محنت کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔ دوسرے وہ یہ سمجھتے تھے کہ منزل مقصود کبھی نہیں آتی یعنی جسے پالیا وہ منزل نہیں۔ اس شعور نے انہیں کائنات کی تحقیق میں آگے ہی آگے بڑھتے جانے کی دھن اور حوصلہ دیا۔ جابر قرع النبیق نامی ایک آلہ کے موجد تھے جس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ ميں کمیائی مادوں کو پکایا جاتا اور مرکب سے اٹھنے والی بخارات کو نالی کے ذریعہ آلہ کے دوسرے حصہ میں پہنچا کر ٹھنڈا کر لیاجاتا تھا۔ یوں وہ بخارات دوبارہ مائع حالت اختیار کر ليتے۔ کشیدگی کا یہ عمل کرنے کے لئے آج بھی اس قسم کا آلہ استعمال کیاجاتا ہے۔ اس کا موجودہ نام ریٹاٹ ہے۔ ایک دفعہ اس میں بھورے رنگ کے بخارات اٹھے اور آلہ کے دوسرے حصہ ميں جمع ہو گئے جو تانبے کا بنا ہوا تھا۔ حاصل شدہ مادہ اس قدر تیز تھا کہ دھات گل گئی۔ جابر نے مادہ کو چاندی کے کٹورے ميں ڈالا تو اس میں بھی سوراخ ہو گئے۔ چمڑے کی تھیلی میں ڈالنے پر بھی یہی نتیجہ نکلا۔

جابر نے مائع کو انگلی سے چھوا تو وہ جل گئی۔ اس کاٹ دار اور جلانے کی خصوصیت رکھنے والے مائع کو انہوں نے تیزاب یعنی ریزاب کا نام ديا۔ پھر اس تیزاب کو دیگر متعدد دھاتوں پر آزمایا لیکن سونے اور شیشے کے علاوہ سب دھاتیں گل گئیں۔ جابر مزید تجربات میں جٹ گیا۔ آخر کار اس نے بہت سے کیمیائی مادے مثلاًگندھک کا تیزاب اور ایکوار یجیا بنائے۔ حتٰی کہ انہوں نے ایک اییسا تیزاب بنایا جس سے سونے کو بھی پگھلانا ممکن تھا۔ انہوں نے دھات کا کشتہ بنانے کے عمل میں اصلاحات کیں اور بتایا کہ دھات کا کشتہ بنانے سے اس کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ عمل کشید اور تقطیر کا طریقہ بھی جابر کا ایجاد کردہ ہے۔ انہوں نے قلماؤ یعنی کرسٹلائزیشن کا طریقہ اور تین قسم کے نمکیات دریافت کیے۔ اس کے علاوہ لوہے کو زنگ سے بچانے لو ہے پر وارنش کرنے، موم جامہ بنانے، چمڑے کو رنگنے اور خضاب بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔

[ترمیم] دیگر علوم اور کتابیں

جابر بن حیان نے کیمیا کی کتب کے علاوہ اقلیدس کی کتاب "ہندسے"، بطلیموس کی کتاب "محبطی" کی شرحیں بھی لکھیں۔ نیز منطق اور شاعری پر بھی رسالے تصنیف کئے۔ اس سب کے باوجود جابر مذہبی آدمی تھے اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے پیروکار تھے۔

ان کی تحریروں میں200 سے زیادہ کتابیں شامل ہیں۔

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں