احمد بن وحشیہ
ان کا نام “ابو بکر احمد بن علی” ہے اور ابن وحشیہ کے نام سے مشہور ہیں، جیسا کہ “الفہرست” میں مذکور ہے، وہ تیسری صدی ہجری کے سائنسدان تھے، جادو اور طلسمات میں ان کی تصانیف بہت مشہور ہیں جن میں “کتاب طرد الشیاطین”، کتاب السحر الکبیر، کتاب السحر الصغیر قابلِ ذکر ہیں، ان کی کیمیا پر بھی کچھ تصانیف ہیں جو کہ یہ ہیں: کتاب الاصول الکبیر، کتاب الاصول الصغیر، کتاب شوق المستہام فی معرفہ رموز الاقلام.
ابن وحشیہ کی زراعت پر “الفلاحہ النبطیہ” قدیم زرعی تصانیف میں قابلِ قدر مقام رکھتی ہے، اس کتاب میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نبطی اسلاف بہت عظیم علم کے مالک تھے، کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب قدیم بابلی کتب سے منقول ہے، اس کتاب کی تصنیف کا زمانہ کوئی 291 ہجری کا بتایا جاتا ہے، اس کتاب کا تذکرہ یہودی فلاسفر “ابن میمون” نے اپنی کتاب “مورہ نبوشیم” میں وثنیوں کے عقائد کے باب میں کیا ہے جہاں انہوں نے ستاروں کی عبادت اور زراعت کے تعلق پر بحث کی ہے، “الفلاحہ النبطیہ” میں صرف زرعی قواعد ہی بیان نہیں کیے گئے بلکہ اس سے بڑھ کر وہمی اور خرافی اعتقادات اور انباط اور ان کے پڑوسیوں کے درمیاں قائم ازمنۂ قدیم سے چلتی ہوئی روایات پر ہے.