ابن سینا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسلم سائنسدان
ابو علاعلی الحسین ابن عبداللہ ابن سینا
حکیم بو علی سینا
ولادت 980ء یا 370ھ
وفات 1037ء یا 428ھ
پورا نام شرف الملك, حجت الحق, الشيخ الرئيس
شہریت ایرانی اوزبكي
خطہ وسط ایشیا اور فارس
Jurisprudence شیعہ ۔ اثنا عشری [1]
دلچسپی طب, فلسفہ, منطق, علم الکلام, طبیعیات, شاعری, سائنس
قابل ذکر نظریات بابائے جدید طب ، نظریہ حرکیات, بانی عطریات و علم الروائح
قابل ذکر کام القانون فی الطب
کتاب الشفاء


انکا مکمل نام علی الحسین بن عبد اللہ بن الحسن بن علی بن سینا (980 تا 1037 عیسوی) ہے جو کہ دنیائے اسلام کے ممتاز طبیب اور ، فلسفی ہیں۔ ابوعلی سینا کو مغرب میں Avicenna کے نام سے جانا جاتا ہے۔ “الشیخ الرئیس” ان کا لقب ہے ۔ اسلام کے عظیم تر مفکرین میں سے تھے، اور مشرق کے مشہور ترین فلسفیوں اور اطباء میں سے تھے ۔

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

صفر 370 ہجری 980ء عیسوی کو فارس کے ایک چھوٹے سے گاؤں “افنشہ” میں پیدا ہوئے، ان کی والدہ اسی گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں جبکہ ان کے والد “بلخ” (موجودہ افغانستان) سے آئے تھے، بچپن میں ہی ان کے والدین بخارا (موجودہ ازبکستان) منتقل ہوگئے جہاں ان کے والد کو سلطان نوح بن منصور السامانی کے کچھ مالیاتی امور کی ادارت سونپی گئی، بخارہ میں دس سال کی عمر میں قرآن ختم کیا، اور فقہ، ادب، فلسفہ اور طبی علوم کے حصول میں سرگرداں ہوگئے اور ان میں کمال حاصل کیا،

حالات زندگی[ترمیم]

سلطان بخارا نوح ابن منصور بیمار ہو گئے۔ کسی حکیم کی دوائی کارگر ثابت نہ ہو رہی تھی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے سلطان نوح بن منصور کے ایک ایسے مرض کا علاج کیا تھا جس سے تمام تر اطباء عاجز آچکے تھے، ابن سینا جیسے کم عمر اور غیر معروف طبیب کی دوائی سے سلطان صحت یاب ہوگئے۔ چنانچہ سلطان نے خوش ہوکر انعام کے طور پر انہیں ایک لائبریری کھول کر دی تھی، بیس سال کی عمر تک وہ بخارا میں رہے، اور پھر خوارزم چلے گئے جہاں وہ کوئی دس سال تک رہے (392-402 ہجری) خوارزم سے جرجان پھر الری اور پھر ہمدان منتقل ہوگئے جہاں نو سال رہنے کے بعد اصفہان میں علاء الدولہ کے دربار سے منسلک ہوگئے، اس طرح گویا انہوں نے اپنی ساری زندگی سفر کرتے گزاری ۔

آخری ایام[ترمیم]

ان کا انتقال ہمذان میں شعبان 427 ہجری 1037 عیسوی کو ہوا، کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ “قولنج” کے مرض میں مبتلا ہوگئے تھے، اور جب انہیں اپنا اجل قریب نظر آنے لگا تو انہوں نے غسل کرکے توبہ کی، اپنا مال صدقہ کردیا اور غلاموں کو آزاد کردیا.

حکیم بو علی سینا

علمی خدمات و کارہائے نمایاں[ترمیم]

بو علی کا حافظہ بہت تیز تھا۔ جلد ہی سلطان نوح بن منصور کا کتب خانہ چھان مارا اور ہمہ گیر معلومات اکٹھی کر لیں۔ اکیس سال کی عمر میں پہلی کتاب لکھی۔ ایک روایت کے مطابق بو علی سینا نے اکیس بڑی اور چوبیس چھوٹی کتابیں لکھی تھیں۔ بعض کے خیال میں اس نے ننانوے کتابیں تصنیف میں لائیں۔

علمی خدمات[ترمیم]

ابن سینا نے علم ومعرفت کے بہت سارے زمروں میں بہت ساری تصانیف چھوڑیں ہیں جن میں اہم یہ ہیں:

ادبی علوم[ترمیم]

اس میں منطق، لغت اور شعری تصانیف شامل ہیں.

نظری علوم[ترمیم]

اس میں طبیعیات، ریاضی، علومِ الہی وکلی شامل ہیں.

عملی علوم[ترمیم]

اس میں کتبِ اخلاق، گھر کی تدبیر، شہر کی تدبیر اور تشریع کی تصانیف شامل ہیں.

ان اصل علوم کے ذیلی علوم پر بھی ان کی تصانیف ہیں

ریاضی کی کتابیں[ترمیم]

ابن سینا کی کچھ ریاضیاتی کتابیں یہ ہیں:

  • رسالہ الزاویہ،
  • مختصر اقلیدس،
  • مختصر الارتماطیقی،
  • مختصر علم الہیئہ،
  • مختصر المجسطی،
  • اور “رسالہ فی بیان علہ قیام الارض فی وسط السماء” (مقالہ بعنوان زمین کی آسان کے بیچ قیام کی علت کا بیان) یہ مقالہ قاہرہ میں 1917 میں شائع ہوچکا ہے.

طبیعیات اور اس کے ذیلی علوم[ترمیم]

  • رسالہ فی ابطال احکام النجوم (ستاروں کے احکام کی نفی پر مقالہ)،
  • رسالہ فی الاجرام العلویہ (اوپری اجرام پر مقالہ)،
  • اسباب البرق والرعد (برق ورعد کے اسباب)،
  • رسالہ فی الفضاء (خلا پر مقالہ)،
  • رسالہ فی النبات والحیوان (پودوں اور جانوروں پر مقالہ).
ہزار سالہ تقریبات برائے بو علی سینا پر GDR جوبلی یادگار ٹکٹ پر بو علی سینا کی تصویر

طبی کتب[ترمیم]

ابن سینا کی سب سے مشہور طبی تصنیف “کتاب القانون” ہے جو نہ صرف کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہے بلکہ انیسویں صدی عیسوی کے آخر تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی، ان کی دیگر طبی تصانیف یہ ہیں:

  • کتاب الادویہ القلبیہ،
  • کتاب دفع المضار الکلیہ عن الابدان الانسانیہ،
  • کتاب القولنج،
  • رسالہ فی سیاسہ البدن وفضائل الشراب،
  • رسالہ فی تشریح الاعضاء،
  • رسالہ فی الفصد،
  • رسالہ فی الاغذیہ والادویہ،
  • ارجوزہ فی التشریح،
  • ارجوزہ المجربات فی الطب،

اور کئی زبانوں میں ترجم ہوکر شائع ہونے والی

  • “الالفیہ الطبیہ”.

موسیقی[ترمیم]

ابن سینا نے موسیقی پر بھی لکھا، ان کی موسیقی پر تصانیف یہ ہیں:

  • مقالہ جوامع علم الموسیقی،
  • مقالہ الموسیقی،
  • مقالہ فی الموسیقی.

اہم تصانیف[ترمیم]

  • کتاب الشفاء
  • القانون فی الطب
  • اشارات

تاثرات[ترمیم]

تاجکستان کے نوٹ پر بو علی سینا کی تصویر

یورپ میں انکی بہت سی کتابوں کے ترجمے ہوئے اور وہاں ان کی بہت عزت کی جاتی ہے۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Corbin, (1993) p.170


بیرونی روابط[ترمیم]