امام غزالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Al-Ghazālī (Algazel)
أبو حامد الغزالي
معروفیت Hujjat ul-Islam[1]
پیدائش 1058
تس ایران, سلجوقی سلطنت
وفات December 19, 1111 (عمر 52–53)
تس ایران, سلجوقی سلطنت
علاقہ

سلجوقی سلطنت (نیشاپور)[2]:292
خلافت عباسیہ(بغداد)/(یروشلم)/(دمشق)

[2]:292
شعبۂ عمل تصوف, Theology (Kalam), فلسفہ, منطق, Islamic Jurisprudence
مؤثر شخصیات Al-Juwayni, Abu Talib al-Makki, Harith al-Muhasibi
متاثر شخصیات

Qadi Abu Bakr ibn al-Arabi
Ibn Tumart[3]
Abu Madyan
Fakhruddin Razi[4]
جلال الدین سیوطی[5]
Al-Nawawi[6]
موسیٰ بن میمون[7]
ایکویناس سینٹ[8]
Raymund Martin
Ibn al-Haj al-Abdari
Nicholas of Autrecourt
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی[9]
مرزا عبدالقادر بیدل

Kant
طوس میں قائم ہارونیہ کی عمارت، اس کے قریب ہی امام غزالی کا مقبرہ ہے

اسلام کے نہایت مشہور مفکر اور متکلم تھے۔ نام محمد اور ابو حامد کنیت تھی جبکہ لقب زین الدین تھا۔ ان کی ولادت 450ھ میں طوس میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم طوس و نیشا پور میں ہوئی۔

نیشا پور سے وزیر سلاجقہ نظام الملک طوسی کے دربار میں پہنچے اور 484ھ میں مدرسہ بغداد میں مدرس کی حیثیت سے مامور ہوئے۔ جب نظام الملک اور ملک شاہ کو باطنی فدائیوں نے قتل کردیا تو انہوں نے باطنیہ، اسماعیلیہ اور امامیہ مذاہب کے خلاف متعدد کتابیں لکھیں ۔ اس وقت وہ زیادہ تر فلسفہ کے مطالعہ میں مصروف رہے جس کی وجہ سے عقائد مذہبی سے بالکل منحرف ہو چکے تھے۔ ان کا یہ دور کئی سال تک قائم رہا۔ لیکن آخر کار جب علوم ظاہری سے ان کی تشفی نہ ہوئی تو تصوف کی طرف مائل ہوئے اور پھر خدا ،رسول ، حشر و نشر تمام باتوں کے قائل ہوگئے۔

488ھ میں بغداد چھوڑ کر تلاش حق میں نکل پڑے اور مختلف ممالک کی خاک چھانی۔ یہاں تک کہ ان میں ایک کیفیت سکونی پیدا ہوگئی اور اشعری نے جس فلسفہ مذہب کی ابتدا کی تھی۔ انہوں نے اسے انجام تک پہنچا دیا۔ ان کی کتاب’’ المنقذ من الضلال‘‘ ان کے تجربات کی آئینہ دار ہے۔ اسی زمانہ میں سیاسی انقلابات نے ان کے ذہن کو بہت متاثر کیا اور یہ دو سال تک شام میں گوشہ نشین رہے۔ پھر حج کرنے چلے گئے ۔ اور آخر عمر طوس میں گوشہ نشینی میں گزاری۔

ان کی دیگر مشہور تصانیف احیاء العلوم، تحافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت اور مکاشفتہ القلوب ہیں۔ ان کا انتقال505ھ کو طوس میں ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Hunt_Janin_p_83 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ 2.0 2.1 Griffel, Frank (2006). Meri, Josef W.. ed. Medieval Islamic civilization : an encyclopedia. New York: Routledge. ISBN 0415966906.
  3. ^ Frank Griffel, Al-Ghazali's Philosophical Theology, p 77. ISBN 0199724725
  4. ^ Frank Griffel, Al-Ghazali's Philosophical Theology, p 75. ISBN 0199724725
  5. ^ Andrew Rippin, The Blackwell Companion to the Qur'an, p 410. ISBN 1405178442
  6. ^ Frank Griffel, Al-Ghazali's Philosophical Theology, p 76. ISBN 0199724725
  7. ^ The Influence of Islamic Thought on Maimonides Stanford Encyclopedia of Philosophy, June 30, 2005
  8. ^ Karin Heinrichs, Fritz Oser, Terence Lovat, Handbook of Moral Motivation: Theories, Models, Applications, p 257. ISBN 9462092753
  9. ^ Muslim Philosophy, Islamic Contributions to Science & Math, netmuslims.com
  1. ^ The Quran
  2. ^ The Great Fiqh
  3. ^ Al-Muwatta'
  4. ^ Sahih al-Bukhari
  5. ^ Sahih Muslim
  6. ^ Jami` at-Tirmidhi
  7. ^ Mishkât Al-Anwar
  8. ^ The Niche for Lights
  9. ^ Women in Islam: An Indonesian Perspective by Syafiq Hasyim. Page 67
  10. ^ ulama, bewley.virtualave.net
  11. ^ 1.Proof & Historiography - The Islamic Evidence. theislamicevidence.webs.com
  12. ^ Atlas Al-sīrah Al-Nabawīyah. Darussalam, 2004. Pg 270
  13. ^ Umar Ibn Abdul Aziz by Imam Abu Muhammad ibn Abdullah ibn Hakam died 829