ابو الوفا البوزجانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ابو الوفا البوزجانی

آپ خراسان کے شہر بوز جان میں 940 میں پیدا ہوئے۔ اس کا شمار اسلامی دور کے عظیم ریاضی دانوں میں ہوتا ہے۔ اس نے الجبراء اور جیومیٹی میں ایسے نئے مسائل اور قائدے نکالے جو اس سے بیشتر موجود نہ تھے، اس مثلثات یعنی ٹرگنومیٹری کے اولین موجدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ان کا نام “ابو الوفاء محمد بن یحیی بن اسماعیل بن العباس البوزجانی” ہے، عرب کے عظیم ترین ریاضی دان تھے، ریاضی علوم کی ترقی میں ان کا بہت بڑا کردار ہے، رمضان 328 ہجری کو بوزجان جو ہراہ اور نیسابور کے درمیان چھوٹا سا شہر ہے میں پیدا ہوئے، عددیات اور حسابیات کی تعلیم اپنے ماموں ابی عبد اللہ محمد بن عنبسہ اور چاچا ابی عمرو المغازلی سے حاصل کی، بیس سال کے ہوئے تو بغداد چلے گئے جہاں اپنی تصانیف، مقالہ جات اور اقلیدس، دیوفنطس اور خوارزمی کی کتب پر تشریحات کے وجہ خوب شہرت حاصل کی.

370 ہجری میں ابا حیان التوحیدی نے بوزجانی کو وزیر ابن سعدان سے متعارف کرایا جن کے گھر میں ان کی مشہور مجالس منعقد ہوئیں، ان مجالس کا احوال ابا حیان نے کتاب “الامتاع والؤانسہ” میں رقم کرکے اسے بوزجانی کو پیش کی.

بغداد میں انہوں نے اپنی زندگی تصنیف، رصد اور تدریس میں گزاری، انہیں 377 ہجری کو سرایہ میں بنائی گئی شرف الدولہ کی رصد گاہ کا رکن منتخب کیا گیا، ان کی وفات غالباً 3 رجب 388 ہجری کو ہوئی.

بوزجانی کو فلک اور ریاضی کے چند ائمہ میں گنا جاتا ہے، ان کی اس حوالے سے بہت قیمتی تصانیف ہیں، ہندسہ میں سب سے زیادہ شہرت پانے والے سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں، جبر میں انہوں نے خوارزمی کے کام میں ایسے اضافے کیے جو جبر اور ہندسہ کے تعلق کی بنیاد ہیں، وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے نسبی مثلث وضع کیا اور اسے ریاضی کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کیا، اس کے علاوہ ان کے بے شمار ریاضیاتی اور ہندسی تجربات اور دریافتیں ہیں.

مثلثات - ٹرگنومیٹری[ترمیم]

مثلثات کے حوالے سے ان کی گراںقدر خدمات ہیں۔ جن میں جند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔[1]

\sin(\alpha \pm \beta) = \sin \alpha \cos \beta \pm \cos \alpha \sin \beta

\frac{A}{\sin a} = \frac{B}{\sin b} 
= \frac{C}{\sin c}

فنِ تصویر سازی میں بھی ان کا بڑا کردار ہے، اس حوالے سے ان کی کتاب “کتاب فی عمل المسطرہ والبرکار والکونیا” بڑی اہمیت کی حامل ہے، اس کتاب میں تصویر سازی اور اس کے لیے آلات کے استعمال کے خاص طریقے درج ہیں.

ان کی قیمتی اور نفیس تصانیف یہ ہیں: کتاب ما یحتاج الیہ العمال والکتاب من صناعہ الحساب یہ کتاب منازل الحساب کے نام سے بھی مشہور ہے، کتاب فیما یحتاج الیہ الصناع من اعمال الہندسہ، کتاب اقامہ البراہین علی الدائر من الفلک من قوس النہار، کتاب تفسیر کتاب الخوارزمی فی الجبر والمقابلہ، کتاب المدخل الی الارتماطیقی، کتاب معرفہ الدائر من الفلک، کتاب الکامل، کتاب استخراج الاوتار، کتاب المجسطی.

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بوزجانی عرب اور مسلمانوں کے سب سے مایہ ناز سائنسدان تھے جن کے تجربات اور تصانیف کا سائنس کی ترقی میں بڑا اہم کردار ہے، خاص طور سے فلک، مثلثات اور اصولِ تصویر سازی میں، انہوں نے بڑے ہندسی اور جبری کلیے وضع کرکے تحلیلی ہندسہ کی دریافت کی راہ ہموار کی.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Jacques Sesiano, "Islamic mathematics", p. 157, in Selin, Helaine; D'Ambrosio, Ubiratan, eds. (2000), Mathematics Across Cultures: The History of Non-western Mathematics, Springer, ISBN 1-4020-0260-2