متعدد کائناتیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

متعدد کائناتیں یا Multiverse (ابھی تک) تصوراتی متعدد کائناتیں ہیں جن میں ہماری کائنات بھی شامل ہے جو باہم مل کر سارے وجود کو تشکیل دیتے ہیں، متعدد کائناتیں بعض علمی نظریات کا نتیجہ ہیں جن میں بالآخر ان متعدد کائناتوں کا وجود لازمی قرار پاتا ہے، یہ نتیجہ علم کونیات میں کوانٹم نظریہ میں بنیادی ریاضی کو واضح کرنے کی کوششوں کے نتیجہ میں سامنا آتا ہے، متعدد کائناتوں میں مختلف کائناتوں کو بعض اوقات متوازی کائناتیں بھی کہا جاتا ہے اور ہر کائنات کی اندرونی ساخت اور ان کائناتوں کے آپس میں تعلق کا انحصار مختلف نظریات پر ہے، متعدد کائناتوں کا قیاس کونیات، طبیعیات، فلک، فلسفہ، لاہوت اور سائنس فکشن میں بھی ملتا ہے، اس سیاق میں متوازی کائناتوں کو مختلف ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے جیسے متبادل کائناتیں، کوانٹم کائناتیں، متوازی دنیائیں، متبادل حقیقتیں وغیرہ.

ہمارے ٹیلی سکوپ 14 ارب نوری سال تک دیکھنے کے قابل ہیں.. مگر اس کے آگے کیا ہے؟ علماء کے نتائج کے مطابق ہم جانتے ہیں کہ کائنات ایک عظیم دھماکے سے وجود میں آئی.. مگر اس سے پہلے کیا تھا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب مختلف زمانوں میں فلسفیوں، مذہبیوں اور مفکروں نے دینے کی کوشش کی ہے کہ جو کائنات ہمیں نظر آتی ہے اس کے آگے کیا ہوسکتا ہے؟ کائنات کیسے اور کہاں سے آئی؟ علماء (یعنی سائنسدان مولوی نہیں!!) کا خیال ہے کہ ماضی قریب میں رائج تمام نظریات کے مقابلے میں آج ہم اس حوالے سے منطقی اور متوازن جوابات دینے کے قابل ہیں کہ 13.7 ارب سال پہلے عظیم دھماکے سے کائنات کی پیدائش سے قبل کیا تھا؟ اور اس کی جانی پہچانی حدود کے ماوراء کیا ہے؟

1954ء میں پرنسٹن یونیورسٹی میں کے طالب علم Hugh Everett نے ایک بنیادی خیال پیش کیا کہ ہماری کائنات سے مشابہ متوازی کائناتیں موجود ہوسکتی ہیں اور ان ساری کائناتوں کا ہماری کائنات سے تعلق ہوسکتا ہے، وہ ہماری شاخ ہوسکتی ہیں جبکہ ہم دیگر کائناتوں کی شاخ ہوسکتے ہیں، ان متوازی کائناتوں میں ہماری جنگوں کا انجام اس سے قطعی مختلف ہوسکتا ہے جس سے ہم واقف ہیں.. بہت ممکن ہے کہ ہماری کائنات کے ناپید انواع دوسری کائناتوں میں پھل پھول کر ترقی کر گئی ہوں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسری کائناتوں میں ہم انسان ناپید ہوچکے ہوں..!!

یہ حیران کن حد تک سائنس فکشن سا لگتا ہے جس میں شاید کئی مرتبہ متعدد اور متوازی کائناتوں اور ابعاد کا خیال پیش کیا جاچکا ہے، مگر ایک نوجوان طبیعیات دان جس کے سامنے سارے زندگی پڑی ہو اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ اس قسم کے نظریات پیش کر کے اپنا مستقبل خطرے میں ڈالے؟ دراصل اپنے متعدد کائناتی نظریے سے ہیو ایوریٹ کوانٹم طبیعیات سے متعلق ایک مشکل سوال کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا، کوانٹم اجسام غیر مستقر انداز میں کیوں پیش آتے ہیں؟ کوانٹم درجہ اب تک دریافت ہونے والا ادنی تر درجہ ہے، کوانٹم طبیعیات کی ابتداء اس وقت ہوئی جب 1900ء میں میکس پلانک نے یہ مفہوم پہلی مرتبہ علمی برادری میں پیش کیا، شعاعوں سے متعلق پلانک کی تحقیق ایسی دریافتوں پر منتج ہوئی جو روایتی طبیعیات کے قوانین سے متصادم تھی، ان دریافتوں نے اس کائنات میں روایتی قوانین سے قطعی مختلف قوانین کے وجود کی طرف اشارہ کیا جو انتہائی گہرائی میں کام کرتے ہیں.

کوانٹم درجہ پر تحقیق کرنے پر طبیعیات دانوں نے دنیا کے حوالے سے عجیب امور اخذ کئے، اس درجہ پر موجود اجزاء اتفاقی طور پر مختلف صورتوں کے حامل تھے، مثال کے طور پر علماء نے دیکھا کہ فوٹون (روشنی کے پیکٹ) ذرے اور لہر دونوں طرح سے پیش آرہے ہیں! ذرا سوچئے کہ آپ اپنے کسی دوست کے سامنے اچھے بھلے انسانی شکل میں کھڑے ہیں مگر آپ کا دوست جب دوسری طرف منہ پھیر کر دوبارہ آپ کی طرف دیکھتا ہے تو آپ گیس بن چکے ہوتے ہیں!!

ایک اہم بات جو علماء نے نوٹ کی ہے یہ ہے کہ الیکٹرون کا کوئی معینہ مقام نہیں ہے، ذرے پر تحقیق سے ایسے شواہد ملے ہیں کہ ذرہ ایک سے زائد مقامات پر ایک ہی وقت میں موجود ہوتا ہے، اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اربوں کے حساب سے متوازی کائناتیں وجود رکھتی ہیں چنانچہ جب ذرہ دوسرے مقام پر نظر آرہا ہوتا ہے تو اس وقت دوسری کائناتوں کے ذرے ہماری کائنات میں ایک نہ سمجھ آنے والے تعلق کے ذریعے ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں.

ایک اور مثال تاریک مادے کی ہے جو نظر نہیں آتا مگر اس کے تجاذب سے اسے پہچانا جاتا ہے اور جو کائنات کا نوے فیصد حصہ ہے، ممکنہ طور پر یہ تاریک مادہ متوازی کائناتوں میں بھی موجود ہے جو تجاذب کے اثر سے ہماری کائنات پر اثر انداز ہو رہا ہے، سٹرنگ نظریہ کے مطابق یہ تاریک مادہ متوازی کائناتوں کے درمیان منتقل ہوسکتا ہے.

درحقیقت کئی راستے ہمیں متعدد کائناتوں تک لے جاتیں ہیں، صرف سٹرنگ نظریہ ہی نہیں، بلکہ ذرے کا سلوک بھی جو ایک وقت میں کئی مقامات پر ہوسکتا ہے.

ان دو راستوں کے علاوہ ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کائناتی مستقل ایک معینہ عدد پر ہی کیوں رک گئے ہیں جیسے کشش، گیسوں کے عمومی قوانین اور دیگر، ہوسکتا ہے کہ یہ مستقل دوسری دنیاؤں میں مختلف قدریں رکھتے ہوں، مثلاً لا متناہی ہوں ؟!

سٹرنگ نظریہ کے بانی میشیو کاکو (Michio Kaku) کہتے ہیں جب ہم ایک کائنات کے وجود کی اجازت دیتے ہیں تو ساتھ ہی ممکنہ دوسری لامتناہی کائناتوں کے لئے بھی امکانات کے دروازے کھول دیتے ہیں، جہاں تک کوانٹم میکینکس کی بات ہے الیکٹرون کسی معینہ مقام پر نہیں ہوتا بلکہ مرکزے کے گرد تمام ممکنہ مقامات پر ہوتا ہے، مگر کائنات الیکٹرون سے بھی چھوٹی تھی (عظیم دھماکے یا بگ بینگ کے وقت) اور اگر ہم کوانٹم میکینکس کو تمام کائنات پر لاگو کریں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ کائنات تمام متعدد مختلف اور ممکنہ حالتوں میں بیک وقت موجود ہوگی، اور یہ مختلف اور ممکنہ حالتیں ہی دراصل متعدد کائناتیں ہیں..

یہاں کاکو کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ متعدد کائناتوں کو تسلیم کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں، یہ کائناتیں ہماری دنیا کی مختلف کہکشائیں نہیں ہیں بلکہ کہکشائیں تو دراصل اس دنیا کا حصہ ہیں، ممکنہ کائناتیں ہماری دنیا سے مشابہ یا مختلف ہوسکتی ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ ممکنہ کائناتوں کے طبیعاتی قوانین دوسری ممکنہ کائناتوں جیسے ہماری کائنات سے مختلف ہوں.

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ راجر پن روز اور سٹیفن ہاکنگ کا بھی یہی خیال ہے کہ کوانٹم نظریہ کو کائنات پر لاگو کرنے کا نتیجہ متعدد کائناتیں ہی ہوگا.

ممکنہ طور پر ان متعدد کائناتوں میں سے کچھ کائناتیں اس مرحلہ سے بھی گزری ہوں گی جس میں زندگی کو پروان چڑھنے کا موقع ملا ہوگا، اور جب بھی کسی کائنات سے کوئی کائنات پیدا ہوتی ہے طبیعاتی قوانین تھوڑے سے بدل جاتے ہیں.. اس طرح ایسی کائناتیں بھی پیدا ہوسکتی ہیں جن میں طبیعاتی قوانین عکسی ہوں چنانچہ ان کا انجام فناء ہوگا یعنی وہ فوراً ہی اپنے آپ میں ڈھیر ہوجائیں گی، ایسی کائناتوں کے تشکیل پانے کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا جن میں غلط ابعاد ہوں، یا ان کے طبیعاتی قوانین سیاہ شگافوں کے بننے میں مانع ہوں جن سے کوئی کائنات اپنی نوع کی حفاظت کرتی ہے.. یقیناً کچھ کائناتوں کے طبیعاتی قوانین درست ہوسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان میں ستارے اور سیاہ شگاف تشکیل پاسکتے ہوں گے.

علماء نے ایک ایسا خالی علاقہ دریافت کیا ہے جس کا رقبہ اب تک دریافت ہونے والے تمام خالی علاقوں سے زیادہ ہے، یہ خالی علاقہ ہم سے تقریباً 8 ارب نوری سال دوری پر واقع ہے اور اس کا قطر ایک ارب نوری سال سے تو کسی طرح کم قرار نہیں دیا گیا، یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ علماء نے کائنات میں کوئی خالی علاقہ دریافت کیا ہے، ہم اب تک 30 ایسے ضخیم علاقوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کا رقبہ کئی ملین نوری سالوں پر محیط ہے، مگر حال ہی میں دریافت ہونے والا یہ خالی علاقہ نظر آنے والی کائنات سے بھی کہیں بڑا ہے، اتنا بڑا کہ عظیم دھماکے کو ماننے والے علماء کو اس کی توجیہ بیان کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے..!!

مگر بعض علماء کا خیال ہے کہ وہ اس کی مناسب توجیہ بیان کر سکتے ہیں اگرچہ یہ حیران کن ہے، ان علماء کے مطابق یہ علاقہ ایک دوسری کائنات کا نشان ہے جو ہماری کائنات کی دیوار کو دبائے ہوئے ہے، کچھ تحقیق کار جن میں ساؤٹھ کیرولینا یونیورسٹی کی لورا (Laura Mersini-Houghton) بھی شامل ہیں کہتی ہیں: ” روایتی علمِ کونیات اس جیسے ضخیم خلاء کی توجیہ بیان نہیں کر سکتا ”.

علماء کا خیال ہے کہ یہ خالی علاقہ ہماری کائنات کے بننے کے انتہائی ابتدائے دور میں اس کی پڑوسی کائنات سے ٹکرانے کے نتیجہ میں تشکیل پایا ہے، جب ہماری پڑوسی کائنات ہماری کائنات کے اس حصہ سے ٹکرائی تو اس نے سارے مادے کو اس علاقہ سے ادھر ادھر دھکیل دیا اور اس طرح وہ علاقہ خالی ہوگیا یا اس میں انتہائی کم کائناتی اجسام رہ گئے.. اگر یہ درست ہوا تو پہلے سے دستیاب متعدد کائناتوں کے نظریاتی ماڈلوں سے مشابہ یہ پہلا تجرباتی ثبوت ہوگا ساتھ ہی یہ سٹرنگ نظریہ کی بھی دلیل ثابت ہوسکتا ہے، کچھ علماء کا کہنا ہے کہ اگر متعدد کائناتی نظریہ درست ہے تو ایسا ہی ایک مشابہ خلاء شمالی کرہ ارض کے آسمانی علاقہ میں ہونا چاہئے.

72 مشہور طبیعیات دانوں کے درمیان کرائی گئی ایک رائے شماری کے مطابق 60% علماء کا خیال ہے کہ متوازی کائنات کا نظریہ درست ہے، اس رائے شماری کے نتائج فرانس کے Sciences et Avenir میگزین میں جنوری 1998ء میں شائع کئے گئے تھے.

جو بھی ہو، ہمیں اللہ تعالٰی کا شکر گزا ہونا چاہئے کہ ہماری کائنات میں کوئی خلل نہیں ہے ورنہ بقول سٹیفن ہاکنگ: اگر کائنات مختلف ہوتی تو ہم یہاں یہ سوال کرنے کے لئے موجود نہ ہوتے کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟