ہارون الرشید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فارسی تصویر، ہارون رشید کی خیالی تصویر۔

ہارون الرشید (پیدائش 763ء، انتقال 24 مارچ 809ء) پانچویں اور مشہور ترین عباسی خلیفہ تھے۔ وہ 786 سے 24 مارچ 809ء تک مسند خلافت پر فائز رہے اور ان کا دور سائنسی، ثقافتی اور مذہبی رواداری کا دور کہلاتا ہے۔ ان کے دور حکومت میں فن و حرفت اور موسیقی نے بھی عروج حاصل کیا۔ ان کا دربار اتنا شاندار تھا کہ معروف کتاب "الف لیلی" شاید انہی کے دربار سے متاثر ہوکر لکھی گئی۔

ان کا دور ایک جائزہ[ترمیم]

ہارون تیسرے عباسی خلیفہ المہدی کے صاحبزادے تھے جنہوں نے 775ء سے 785ء تک حکومت کی۔ ہارون اس وقت خلیفہ بنے جب وہ عمر کے 22 ویں سال کے اوائل میں تھے۔ جس دن انہوں نے مسند خلافت سنبھالا اسی دن ان کی اہلیہ نے المامون کو جنم دیا۔ ہارون رشید کے دور میں عباسی خلافت کا دارالحکومت بغداد اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ انہوں نے بغداد میں نیا محل تعمیر کرایا جو اس سے قبل کے تمام محلات سے زیادہ بڑا اور خوبصورت تھا جس میں ان کا معروف دربار بھی تھا جس سے ہزاروں درباری وابستہ تھے۔ بعدازاں انہوں نے شام کے حالات کے پیش نظر دربار الرقہ، شام منتقل کردیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ بغداد دنیا کے کسی بھی مقام سے زیادہ بہتر ہے۔ ہارون ایک عادل بادشاہ تھا جو راتوں کو بھیس بدل کر دارالحکومت کی گلیوں میں چکر لگاکر عوام کے مسائل پوچھتا تھا۔

ادب اور فنون[ترمیم]

ہارون علم، شاعری اور موسیقی سے شغف رکھنے کے علاوہ خود ایک عالم اور شاعر تھا اور اسے جب بھی اپنی سلطنت یا پڑوسی سلطنتوں میں کسی عالم کا معلوم ہوتا وہ اسے اپنے دربار میں ضرور طلب کرتا۔ اس کے دور میں خلافت عباسیہ کے چین اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

حکومت[ترمیم]

عسکری شعبے میں ہارون ایک جانباز سپاہی تھا جس نے اسی وقت اپنی بہادری کے جوہر دکھادیئے تھے جب اس کے والد خلیفہ تھے۔ انہوں نے بعد ازاں بازنطینی سلطنت کے خلاف 95 ہزار کی فوج کی کمان سنبھالی جو اس وقت ملکہ ایرین کے زیرسربراہی تھی۔ ایرین کے معروف جنرل نیکٹس کو شکست دینے کے بعد ہارون کی فوج نے کریسوپولس (موجودہ اوسکودار، ترکی) میں پڑائو ڈالا جو قسطنطنیہ کے بالکل سامنے ایشیائی حصے میں قائم تھا۔ جب ملکہ نے دیکھا کہ مسلم افواج شہر پر قبضہ کرنے والی ہیں تو اس نے معاہدے کے لئے سفیروں کو بھیجا لیکن ہارون نے فوری ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام شرائط منظور کرنے سے انکار کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سفیر نے کہا کہ ملکہ نے بطور جنرل آپ کی صلاحیتوں کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے حالانکہ آپ ان کے دشمن ہیں لیکن وہ بطور ایک سپاہی آپ کی قدر کرتی ہیں۔ ہارون ان کلمات سے خوش ہوا اور سفیروں کو کہا کہ اپنی ملکہ سے کہہ دو کہ وہ ہمیں سالانہ 70 ہزار اشرفیاں عطا کرتی رہے تو کوئی مسلم فوج قسطنطنیہ کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ ملکہ نے اس شرط کو تسلیم کرلیا اور پہلے سال کا خراج عطا کیا جس پر مسلم افواج واپس گھروں کو لوٹ گئیں۔ کئی سال کے تک خراج کی ادائیگی کے بعد 802 نائسیفورس نے خراج کی ادائیگی سے انکار کرتے ہوئے جنگ کا اعلان کیا۔ ہارون ایک عظیم فوج لےکر نائسیفورس کے مقابلے پر آیا اور بحیرہ اسود کے کنارے شہر ہراکلیا کامحاصرہ کرکے نائسیفورس کو دوبارہ خراج کی ادائیگی پر رضامند کیا۔ لیکن خلیفہ کے بغداد پہنچتے ہی وہ ایک مرتبہ پھر مکر گیا جس پر ہارون 15 ہزار افراد کے ساتھ ایشیائے کوچک پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہوا جبکہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار تھی لیکن ہارون نے اسے زبردست شکست دی اور نائسیفورس زخمی ہوا اوراس کے 40ہزار فوجی مارے گئے۔ خراج کی ادائیگی پر رضامندی کے اظہار کے باوجود رومی بادشاہ ایک مرتبہ پھر مکر گیا جس پر ہارون رشید نے اس کے قتل کا حکم جاری کیا اور ایک مرتبہ پھر رومی سلطنت پر چڑھائی کی لیکن اسی وقت سلطنت عباسیہ کے ایک شہر میں بغاوت شروع ہوگئی جسے کچلنے کے لئے وہ اس جانب روانہ ہوا لیکن بیماری کے باعث انتقال کرگیا۔ اسے طوس میں دفنایا گیا۔


ہارون رشید سنین کے آئینے میں[ترمیم]

766: ہارون کی پیدائش

780: ہارون کی زیر قیادت بازنطینی سلطنت کے خلاف جنگ

782: ہارون کی زیر قیادت بازنطینی سلطنت کے خلاف ایک اور جنگ جس میں مسلم افواج آبنائے باسفورس تک پہنچ گئیں تاہم معاہدہ امن طے پایا ۔ ہارون کو الرشید کے خطاب سے نوازا گیا اور وہ خلافت کے لئے دوسرا امیدوار قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں اسے تیونس، مصر، شام، آرمینیا اور آذربائیجان کا گورنر بھی مقرر کیا گیا۔

14 ستمبر 786: ہارون کے بھائی الہادی کی پراسرار موت۔ ہارون کو خلیفہ قرار دیا گیا۔

791: ہارون کی بازنطینی سلطنت کے خلاف جنگ

800: ہارون نے تیونس میں ابراہیم ابن الاغلب کو نیم خودمختار گورنر مقرر کردیا۔

803: یحیی کا انتقال، ہارون کو مزید کئی اختیارات مل گئے۔

807: ہارون کی افواج نے قبرص پر قبضہ کرلیا۔

809: سلطنت کے مشرقی حصے میں سفر کے دوران انتقال، الامین نے خلافت سنبھالی۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]


ہارون الرشید
پیدائش: 763ء (145ھ) وفات: 809ء (193ھ)
مناصبِ اہل سنت
پیشرو
الہادی
خلیفۃ الاسلام
786ء  –  809ء
جانشین
امین الرشید