مامون الرشید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ولادت[ترمیم]

ربیع الاول 107 ھ (675 ) میں پیدا ہوا۔ اس کی ولادت کی رات بھی عجیب تھی ۔ جس میں ایک خلیفہ ( ہادی ) نے وفات پائی۔ دوسرا ( ہارون الرشید ) تخت نشین ہوا اور تیسرا ( مامون ) عالم وجود میں آیا۔ خلیفہ مہدی نے وصیت کی تھی کہ

میرے بعد ہادی تخت نشین ہو اور اس کے بعد ہارون۔

ہادی نے بد نیتی سے ہارون کو محروم کرنا چاہا مگر موت نے اس کی تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ مامون کی ماں ایک کنیز تھی جس کا نام مراجل تھا اور بارغیس ( ہرات کا ایک شہر ) میں پیدا ہوئی تھی۔ علی ابن عیسی گورنر خراسان نے اس کو ہارون کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ مراجل مامون کی پیدائش کے دو چار روز بعد انتقال کر گئی اور مامون کو مادر مہربان کے دامن شفقت میں پلنا نصیب نہ ہوا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

پانچ برس کی عمر میں مامون کی تعلیم و تربیت بڑے اہتمام سے شروع ہوئی۔ کسائی نحوی اور یزیدی قرآن پڑھانے کے لیے مقرر ہوئے۔ ہارون نے خلفا کے دستور کے مطابق مامون کو 182ھ (798 ) جعفر برمکی کے حوالے کیا جس سے مامون کی قابلیت اور لیاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ یزیدی کا بیٹا محمد بھی جو نہایت متبحر اور شاعر تھا مامون کی تربیت پر مامور تھا۔

مامون کو مورخوں نے حافظ القرآن لکھا ہے ( خلفا میں صرف حضرت ابوبکر ، عثمان اور مامون الرشید حافظ القرآن گزرے ہیں بحوالہ سیوطی ص 24)۔

قرآن مجید ختم کرنے کے بعد مامون نے نحو و ادب پڑھنا شروع کیا اور وہ مہارت حاصل کی کہ جب کسائی نے ایک موقع پر امتحان لیا اور نحو کے متعدد مسئلے پوچھے تو اس نے اس برجستگی سے سوالوں کے جواب دیے کہ خود کسائی کو تعجب ہوا اور ہارون نے جوش طرب میں سینے سے لگا لیا ( دراری فی ذکر الزاری ص 29

اخلاق و عادات[ترمیم]

مامون کی نسبت مورخین کے متفقہ الفاظ یہ ہیں۔ تمام خلفائے بنی العباس میں کوئی تخت نشین دانائی ، عزم ، بردباری ، علم ، رائے ، تدبیر ، ہیبت ، شجاعت ، عالی حوصلگی ، فیاضی میں اسے سے افضل نہیں گزرا۔ مامون کا ادعا کچھ بے جا نہ تھا کہ معاویہ کو عمر بن العاص کا بل تھا ، عبدالملک کو حجاج کا اور مجھ کو اپنا۔

ہارون الرشید اکثر کہا کرتا تھا کہ میں مامون میں منصور کا حزم ، مہدی کی خدا پرستی ، ہادی کی شان و شوکت پاتا ہوں۔ ان باتوں پر اگر اس کے عفو و انکسار ، بے تکلفی ، سادہ مزاجی کی صفتیں بڑھائی جائیں تو افضلیت کا دائرہ جس کو مورخین نے بنی العباس تک محدود کیا تھا ، تمام سلاطین اسلام پر محیط ہو جاتا ہے۔

مامون کا اپنا قول تھا کہ مجھ کو عفو میں ایسا مزہ آتا ہے کہ اس پر ثواب ملنے کی توقع نہیں۔

عفو کا واقعہ[ترمیم]

عبداللہ بن طاہر کا بیان ہے کہ ایک بار مامون کی خدمت میں حاضر تھا۔ اس نے غلام کو آواز دی مگر صدائے برنخاست ۔ پھر پکارا تو ایک ترکی غلام حاضر ہوا اور آتے ہی بڑبڑانے لگا کہ کیا غلام کھاتے پیتے نہیں ؟ جب ذرا کسی کام کے لیے باہر گئے تو آپ یا غلام یا غلام چلانے لگتے ہیں۔ آخر “یا غلام“ کی کوئی حد بھی ہے ؟ مامون نے سر جھکا لیا اور دیر تک سربگریبان رہا۔ میں نے سمجھا کہ بس اب غلام کی خیر نہیں۔ مامون میری طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ “ نیک مزاجی میں یہ بڑی آفت ہے کہ نوکر اور غلام شریر اور بد خو ہو جاتے ہیں مگر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ان کے نیک خو کرنے کے لیے میں بد مزاج ہو جاؤں۔

حوالہ جات

مامون از مولانا شبلی نعمانی


تراجم كا شوق:

مامون رشید کو دوسری زبانوں کے تراجم کا از حد شوق تھا، انہوں نے بہت سی یونانی کتابوں کے عربی تراجم کروائے اور ان تراجم پر زر کثیر صرف کیا، ان تراجم میں اقلیدس کا ترجمہ خاص اہمیت کا حامل ہے، مگر ان تمام تراجم اور ان پر کافی تحقیقی کاموں اس وقت دریاء برد کردیا گیا جب ہلاکو خان نے بغداد کوتباہ و تاراج کیا، مامون رشید نے ۱۹۰ھ سے ۲۱۸ھ تک حکومت کی


خلیفہ مامون رشید کے چند سبق آموزاقوالِ :


(۱) اے مامون! طاعت باری تعالیٰ اتنی زیادہ کر جتنی کہ تجھے اس کے ساتھ احتیاج ہے۔

(۲) انسان کو گناہ اتنے ہی کرنے چاہئے جس قدر ان کی عقوبت کی تاب لاسکے۔

(۳) زیر دستوں پر اس قدر ظلم مت کرو کہ اگر خدائے روزگار انہیں تم سے زبردست بنادے تو ان کے انتقام کی تاب نہ لاسکو۔

(۴) جب غصہ تم پر غالب آجائے تو خاموشی اختیار کرو۔

(۵) ایسے فائدوں سے درگذر کرو جس سے دوسروں کا نقصان ہو۔

(۶) اپنے کاموں کی بنیاد محبت و آشتی پر رکھو نہ کہ قہر و غضب پر۔

(۷) دوست اس کو سمجھو جو خلوت میں تمہارے عیب تم پر ظاہر کرکے تمہیں تنبیہ کرے اور تمہارے پیچھے لوگوں میں تمہاری تعریف کرے اور مصیبت کے وقت تمہاری ہمراہی کرے۔

(۸) دو جہاں کی نیکی کا سرمایہ نیک اعتقاد ہے۔

(۹) ایسی راستی سے جو کسی کو فائدہ نہ پہنچائے اور لوگوں کا دل دُکھائے پرہیز کرو۔

(۱۰) جو کوئی سچ بولنے میں مشہور و معروف ہوگیا اگر مصلحت کی وجہ سے کسی وقت جھوٹ بھی بول دے تو سچ سمجھا جاتا ہے، اس کے خلاف اگر مسلسل جھوٹ بولنے والا اگر کسی وقت سچ بھی بولے تو جھوٹ ہی سمجھا جاتا ہے۔

(۱۱) یقین رکھو! جو درہم ناجائز طریقہ سے حاصل کیا جاتا ہے وہ ہزار دینار کے لئے حجاب بن جاتا ہے، جو کوئی اس پر یقین نہ کرے وہ تو شیطان ہی ہے۔

(۱۲) خرچ آمدنی کے حساب کرو تاکہ محتاجی سے بچ جاؤ۔

(۱۳) تونگری قناعت میں ہے اور درویشی زیادہ نہ طلب کرنے میں ہے۔

(۱۴) اگر کسی نے توکل کے برخلاف زیادہ کی طلب کی اگر اس کو بہت سا مال بھی دیدیا جائے تب بھی اس کی طلب ختم نہیں ہوسکتی۔

(۱۵) مال حاصل کرنا آسان ہوسکتا ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانا اور حفاظت کرنا مشکل۔

(۱۶) عاقبت اندیشی کو طلبِ مال پر مقدم رکھو۔

(۱۷) اگر تمہارے اخلاق اچھے ہیں اور تم خوش کلام ہو تو سبھی تم سے محبت کریں گے۔

(۱۸) جو شخص کسی کی عیب جوئی کرے وہ کسی کا دوست نہیں۔



مامون الرشید
پیدائش: 786ء (169ھ) وفات: 833ء (217ھ)
مناصبِ اہل سنت
پیشرو
امین الرشید
خلیفۃ الاسلام
813ء  –  833ء
جانشین
المعتصم