زبیدہ بنت جعفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ام جعفر زبیدہ بنت جعفر بن ابو جعفر منصور ہاشمی خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ یہ خلیفہ ہارون الرشید کی چچا زاد بہن تھیں ان کا نام ” امۃ العزیز “ تھا۔ ان کے دادا منصور بچپن میں ان سے خوب کھیلا کرتے تھے، ان کو ” زبیدہ “ ( دودھ بلونےوالی متھانی ) کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اور اصلی نام بھول ہی گئے۔ یہ نہایت خوبصورت اور ذہین و فطین تھیں۔ جب جوان ہوئیں تو خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ذوالحجہ165 ھ میں ہوئی۔ ہارون الرشید نے اس شادی کی خوشی میں ملک بھر سے عوام و خواص کو دعوت پر بلایا اور مدعوین کے درمیان اس قدر زیادہ مال تقسیم کیا جس کی مثال تاریخ اسلامی میں مفقود ہے۔ اس موقع پر خاص بیت المال سے اس نے پچاس ملین درہم ( 50,000,000 ) خرچ کئے۔ ہارون رشید نے اپنے خاص مال سے جو کچھ خرچ کیا وہ اس کے علاوہ تھا۔


ہارون رشید ملکہ زبیدہ سے بہت محبت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر پکارا: ھلمی یا ام نھر ” ام نہر! ذرا ادھر آنا “ زبیدہ نے بعد میں مشہور عالم اصمعی کو بلوا کر پوچھا: امیر المومنین مجھے ” ام نہر “ کہہ کر پکارتے ہیں، اس کے کیا معنی ہیں؟ اصمعی نے جواب دیا: چونکہ جعفر عربی لغت میں ” نہر “ کو کہتے ہیں اور آپ کی کنیت ام جعفر ہے، اس لئے نہر معنی مراد لے کے آپ کو اس نام سے پکارا ہو گا۔

دیکھۓ[ترمیم]

٭ نہر زبیدہ