گندھک
گندھک ایک ایسا کیمیائی عنصر ہے جس کا عنصری عدد ۱۶ ہے۔ انگریزی میں اسے S سے ظاہر کرتے ہیں۔ قدرتی طور پر بکثرت پایا جانے والا یہ غیر دھاتی عنصر ہے۔ گندھک اپنی خام حالت میں چمکدار پیلے رنگ کا ٹھوس قلمی عنصر ہوتا ہے۔ قدرت میں گندھک اور زندگی کا قریبی تعلق ہے۔ تجارتی پیمانے پر اسے کھادوں میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم ماضی میں اسے کالے بارود، ماچسوں، کُرم کُش ادویات اور پھپھوندی مارنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
فہرست |
[ترمیم] خصوصیات
[ترمیم] طبعی خصوصیات
کمرے کے عام درجہ حرارت پر گندھک نرم اور چمکدار پیلے رنگ کا ٹھوس ہوتا ہے جس سے ہلکی سی ماچسوں والی بو آتی ہے۔ گندھک کو بجلی کے غیر موصل کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ ۱۰۰ ڈگری سے ذرا اوپر یہ پگھل جاتا ہے۔
[ترمیم] کیمیائی خصوصیات
گندھک جلتے ہوئے نیلا شعلہ خارج کرتا ہے اور سلفر آکسائیڈ بناتا ہے۔ گندھک پانی میں حل نہیں ہوتا لیکن کاربن ڈائی سلفائیڈ میں حل ہو جاتا ہے۔
گندھک کسی حد تک بینزین اور ٹالوین میں بھی حل پذیر ہے۔ گندھک کی قلمیں کافی پیچیدہ ہوتی ہیں۔
دیگر عام مائع کے برعکس ۲۰۰ ڈگری درجہ حرارت والے پگھلے ہوئے گندھک کی لزوجت یعنی وسکاسٹی بڑھ جاتی ہے۔ اس درجہ حرارت پر پگھلا ہوا گندھک شوخ سُرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ تاہم اس سے زیادہ بلند درجہ حرارت پر گندھک کی لزوجت کم ہونے لگ جاتی ہے۔
[ترمیم] ہم جاء
گندھک کے کل ۲۵ معلوم شدہ ہم جاء ہیں جن میں صرف ۴ ہی مستحکم ہیں۔
[ترمیم] منبع
عام حالت میں گندھک کا سب سے عام ہم جاء گندھک ۳۲ ہے جو انتہائی بڑے اور انتہائی گرم ستاروں کا جزو ترکیبی ہے جو چقمین اور شمصر کے ایک ایک مرکزے کے ملاپ سے بتا ہے۔
مشتری کے آتش فشانی چاند ای او کے شوخ رنگ گندھن کی مختلف حالتوں سے بنے ہیں۔
زمین کے چاند کے ایک گڑھے کے نزدیک موجود تاریک نشان کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں گندھک کا ذخیرہ موجود ہے۔
بہت سارے شہابیوں میں بھی گندھک موجود ہوتی ہے۔
کرہ ارض پر گندھک گرم پانی کے چشموں اور آتش فشانی علاقوں کے آس پاس بالخصوص بحرالکاہل کے حلقہ آتش کے ساتھ ساتھ پائی جاتی ہے۔ ایسے ہی ذخائر کی کان کنی انڈونیشیا، چلی اور جاپان میں کی جاتی ہے۔ سسلی بھی گندھک کی کانوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
خلیج میکسیکو کے کنارے نمک کے گنبدوں میں گندھک کی بہت بڑی مقدار دریافت ہوئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گندھک بیکٹیریا نے پیدا کیا ہے۔ تاہم یہ ذخائر فطری طور پر بھی بنے ہو سکتے ہیں۔ متحجروں کے ساتھ موجود گندھک کے ایسے ذخائر جو نمک کے گنبدوں میں موجود ہوں، سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ، پولینڈ، روس، ترکمانستان اور یوکرائن میں گندھک کا اہم ذریعہ تھے۔ تاہم اب ان کا استعمال متروک ہو چکا ہے۔
عام طور پر گندھک سلفائیڈ اور سلفیٹ کی معدنی شکل میں ملتا ہے۔ جپسم سلفیٹ کی عام مثال ہے۔ قدرتی طور پر آتش فشاں سے نکلنے والے مادے میں گندھک شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بیکٹیریا بھی گندھک رکھنے والی نامیاتی مادے کی توڑ پھوڑ سے گندھک پیدا کرتے ہیں۔
[ترمیم] تیاری
ماضی میں گندھک کو خالص حالت میں نکالتے تھے تاہم اب اسے صنعتی تعامل میں اضافی پیداوار کے طور پر الگ کیا جاتا ہے۔ ان تعامل میں عموماً گندھک مرکب شکل میں موجود ہوتا ہے جسے خالص حالت میں الگ کرلیا جاتا ہے۔ ایسے تعاملوں کی عام مثال تیل کی صفائی ہے۔
آج کل گندھک کو پیٹرولیم، قدرتی گیس اور دیگر متحجر ذرائع سے تیار کیا جاتا ہے۔ عموماً ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس کی شکل میں اسے حاصل کرتے ہیں۔
ایسی گیسیں جن میں ہائیڈروجن سلفائیڈ موجود ہو، سے بھی گندھک کو الگ کیا جاتا ہے۔ اتھابسکا کی آئل سینڈز میں گندھک کی بھاری مقدار شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے کینیڈا کے صوبے البرٹا میں خالص گندھک کے ڈھیر عام دکھائی دیتے ہیں۔
[ترمیم] تاریخ
[ترمیم] ماضی بعید
چونکہ گندھک عام پایا جانے والا عنصر ہے، اس لئے اسے قبل از تاریخ سے جانا جاتا ہے۔ توریت میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔
گندھک چھٹی صدی قبل مسیح سے چین میں عام جانا جاتا تھا۔ تیسری صدی عیسوی میں گندھک کو اس کے مرکب سے الگ کرنے کا طریقہ چینیوں نے جان لیا تھا۔ ۱۰۴۴ء میں سونگ شہنشاہ کے دور میں فوجی استعمال کے لئے کالے بارود میں اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لئے پوٹاشیم نائٹریٹ، کوئلہ اور گندھک کو ملا کر بارود بنایا جاتا تھا۔
روایتی دوا کے طور پر گندھک کو جلد سے متعلقہ امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔
[ترمیم] دور جدید
۱۷۷۷ میں گندھک کو بطور عنصر تسلیم کیا گیا جبکہ اس سے قبل یہ مرکب مانا جاتا تھا۔
۱۸۶۷ میں امریکی ریاستوں لوئیزیانا اور ٹیکساس میں گندھک کے زیرِزمین ذخائر دریافت ہوئے۔ اس کو نکالنے کے لئے عملِ فراش استعمال کیا جاتا تھا۔
۱۸ویں صدی کے اواخر میں گندھک کو فرنیچر کو دیدہ زیب بنانے کے لئے کچھ عرصہ تک استعمال کیا تھا۔ پگھلے ہوئے گندھک کو بعض اوقات عمارت کی بنیادوں میں سوراخ کر کے ڈالا جاتا ہے جہاں فولادی پیچ ڈالے جانے مقصود ہوں۔ خالص حالت میں پسے ہوئے گندھک کو بطور ٹانک اور قبض کُش دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
[ترمیم] استعمال
[ترمیم] گندھک کا استعمال
گندھک کا تیزاب گندھک سے تیار ہوتا ہے۔ عالمی معیشتوں کے لئے گندھک کا تیزاب انتہائی اہم ہے۔ اس کی استعمال شدہ مقدار سے کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس تیزاب کو سب سے زیادہ کھاد کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دیگر استعمال میں تیل کی صفائی، گندے پانی کی صفائی اور معدنیات کو نکالنا شامل ہیں۔
[ترمیم] دیگر استعمال
گندھک کے دیگر استعمالات میں پلاسٹک اور ریون کی تیاری شامل ہیں۔ ربڑ کی تیاری میں بھی گندھک استعمال ہوتا ہے۔ کاغذ کی بلیچنگ کے لئے بھی گندھک کے مرکب استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ واشنگ پاؤڈر بھی اس سے بنائے جاتے ہیں۔ جپسم کو پورٹ لینڈ سیمنٹ سیمنٹ اور کھادوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
بارود کی تیاری میں بھی گندھک استعمال ہوتا ہے۔
[ترمیم] نفیس کیمیکل
گندھک کے مرکبات کو ادویہ سازی، ڈائیاں بنانے اور زرعی کیمیکل بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ بہت ساری ادویات میں گندھک استعمال ہوتا ہے جس کی اولین مثال سلفا ڈرگز تھیں۔ بہت سارے بیکٹیریا گندھک کو اپنے دفاع کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پینسلین وغیرہ میں بھی گندھک استعمال ہوتی ہے۔
میگنیشیم سلفیٹ یعنی اپسم سالٹ کو قبض کُشا کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔
[ترمیم] پھپھوند کُش اور کُرم کُش
عنصری گندھک دنیا کی اولین پھپھوند کُش اور کُرم کُش ادویات میں شامل ہے۔ انگور، سٹرابیری، سبزیوں اور دیگر فصلوں پر باریک پسی ہوئی گندھک چھڑکنے سے پھپھوندی سے دفاع ہو جاتا ہے۔
چیچڑ وغیرہ سے بچاؤ اور انہیں مارنے کے لئے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔
[ترمیم] احتیاطیں
عنصری گندھک زہریلا نہیں ہوتا لیکن جلنے پر یہ سلفر ڈائی آکسائیڈ بناتا ہے۔ معمولی مقدار میں یہ گیس کھانوں میں استعمال کیا جا سکتی ہے لیکن زیادہ استعمال سے پھیپھڑے، آنکھیں اور دیگر پٹھے متائثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے جاندار جن میں پھیپھڑے نہیں ہوتے جیسا کہ پودے یا کیڑے مکوڑے، ان میں سانس لینے کے عمل کو بھی روکتی ہے۔ سلفر ٹرائی آکسائیڈ اور سلفر ایسڈ اگر پانی سے مل جائیں تو بہت تیز تیزاب بناتے ہیں۔
بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں میں کوئلے اور تیل کو جلانے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ بنتی ہے جو فضاء میں پانی اور آکسیجن سے مل کر گندھک کا تیزاب بناتی ہے۔ اس طرح تیزابی بارش ہوتی ہے جو زمین اور پانی میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ ان کارخانوں میں نئے قوانین کے مطابق یا تو تیل سے گندھک کو الگ کر کے پھر تیل کو جلاتے ہیں یا پھر گیس کو خارج ہونے سے قبل صاف کر دیا جاتا ہے۔
ہائیڈروجن سلفائیڈ زہریلی گیس ہے تاہم اس کی ناقابلِ برداشت بو کی وجہ سے اتفاقی حادثات کا خطرہ انتہائی کم ہوتا ہے۔ تاہم یہ بو شروع میں انتہائی شدید محسوس ہوتی ہے لیکن اس بو کی وجہ سے قوتِ شامہ یعنی سونگھنے کی حس کی تیزی سے کام چھوڑ جاتی ہے۔ اس وجہ سے نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔