تعدیلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

جوہر میں موجود بے بار ذرہ۔

ہر نیوٹرون ایک اپ اور دو ڈاون کوارک سے بنا ہوتا ہے۔ اسکے برعکس ہر پروٹون میں دو اپ اور ایک ڈاون کوارک ہوتا ہے۔

یہ مادے کا بنیادی ذرہ ہے جس پر کوئی برقی چارج (Charge) نہیں ہوتا. یہ 1932 میں ایجاد ہوا تھا۔ ہر نیوٹرون ایک up quark اور دو down quark سے ملکر بنا ہوتا ہے۔ نیوٹرون کے ان تینوں ذیلی ذرات پر نیوکلیئر قوت کے تین مختلف کلر چارج ہوتے ہیں۔
تین کوارک کے مجموعے کو baryon کہتے ہیں۔ پروٹون کی طرح نیوٹرون بھی ایک بیریون ہوتا ہے۔ (اسکے برعکس ایک کوارک اور ایک اینٹی کوارک کا مجموعہ میزون کہلاتا ہے۔ بیریون اور میزون دونوں ہیڈرون کے خاندان کے رکن ہیں۔)


دنیا کے ہر ایٹم میں نیوٹرون موجود ہوتا ہے سوائے ہائیڈروجن1 کے۔ ہائیڈروجن کے دوسرے ہمجا یعنی ڈیوٹیریئم اور ٹرائیٹیئم میں بھی نیوٹرون موجود ہوتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پروٹون پر مثبت (positive) چارج ہوتا ہے اس لیئے مرکزے (nucleus) میں ہر پروٹون دوسرے پروٹون کو دھکیلتا ہے اور مرکزہ نا پائیدار ہو جاتا ہے۔ نیوٹرون کی موجودگی میں نیوکلیئر قوت، دفع (repulsion) کی قوت پر حاوی ہو جاتی ہے اور مرکزہ پائیدار ہو جاتا ہے۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ اگر strong nuclear force صرف دو فیصد اور زیادہ طاقتور ہوتی تو شایئد نیوٹرون کے بغیر بھی مرکزہ پائیدار ہوتا۔

ہیلیئم3 میں دو پروٹون کو جوڑنے کے لیئے صرف ایک نیوٹرون کافی ہوتا ہے لیکن بھاری ایٹموں کے مرکزوں کو جڑا رہنے کے لیئے پروٹونوں کی تعداد سے کہیں زیادہ تعداد میں نیوٹرونوں کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً یورینیئم235 میں 92 پروٹونوں کو جوڑے رکھنے کے لیئے 143 نیوٹرونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

پائیداری[ترمیم]

نیوٹرون ایٹم کے مرکزے کے اندر ہی پائیدار ہوتا ہے اور مرکزے سے باہر آنے کے بعد ناپائیدار ہو جاتا ہے اور اسکی نصف حیات لگ بھگ 15 منٹ ہوتی ہے۔
ناپائیدار ایٹمی ذروں میں یہ سب سے زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔
ایٹم کا مرکزہ بنانے کے لیئے پروٹونوں کی ایک خاص تعداد نیوٹرونوں کی ایک مقررہ تعداد سے ہی ملاپ کر سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کسی بھی تعداد میں پروٹون اور نیوٹرون ملکر مرکزہ نہیں بنا سکتے۔ مثال کے طور پر دو پروٹون اور دو نیوٹرون کے ملنے سے ہیلیئم4 کا مرکزہ بنتا ہے جو بے حد پائیدار ہوتا ہے۔ لیکن 4 پروٹون اور 4 نیوٹرون سے ملکر بننے والا بریلیئم8 یا 19 پروٹون اور 19 نیوٹرون سے ملکر بننے والا پوٹاشیئم38 انتہائی نا پائیدار ہوتا ہے۔
کوئی ایسا ایٹمی مرکزہ وجود نہیں رکھتا جس کا ماس نمبر 5 یا 8 ہو۔ یعنی دو پروٹون اور تین نیوٹرون ملکر ہیلیئم5 نہیں بنا سکتے۔ اسی طرح دو نیوٹرون اور تین پروٹون ملکر لیتھیئم5 نہیں بنا سکتے۔

نیوٹرون کی ایجاد[ترمیم]

1920 میں ردر فورڈ Ernest Rutherford نے نیوٹرون کی موجودگی کا خیال ظاہر کیا تھا۔ لیکن اسکا خیال تھا کہ مرکزے (nucleus) کے اندر کچھ الیکٹران بھی ہوتے ہیں جو اتنے ہی پروٹونوں کا چارج ذائل کرنے کا سبب بنتے ہیں مثلاً نائٹروجن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ اس کے مرکزے میں 14 پروٹون اور سات الیکٹرون ہوتے ہیں اس طرح نائٹروجن کے مرکزے کا چارج 7+ ہے اور کمیت 14 amu ہے۔ سات الیکٹرون اسکے علاوہ ہوتے ہیں جو مرکزے کے باہر چکر کاٹتے رہتے ہیں اور اس طرح ایٹم تعدیلی (neutral) ہو جاتا ہے۔

مگر 1930 میں روس کے دو طبیعیات دانوں Viktor Ambartsumian اور Dmitri Ivanenko نے ریاضیات سے ثابت کر دیا کہ مرکزے میں کوئی الیکٹران نہیں ہو سکتا کیونکہ کوانٹم میکانکس کے مطابق الیکٹران جیسے ہلکے ذرے کو مرکزے جیسی چھوٹی جگہ میں کسی بھی توانائی پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔ (آجکل یہ سمجھا جاتا ہے کہ تابکاری کے نتیجے میں ایٹم کے مرکزے سے جو الیکٹران (beta rays) نکلتے ہیں وہ مرکزے میں موجود نہیں ہوتے بلکہ نیوٹرون کے ٹوٹ کر پروٹون اور الیکٹرون میں تبدیل ہونے کے نتیجے میں اسی وقت وہاں بنتے ہیں اور مرکزے کی طاقتور برقی کشش کے باوجود وہاں ٹھہر نہیں پاتے۔)

1931 میں جرمنی میں Walther Bothe اور Herbert Becker نے دریافت کیا کہ پولونیئم سے تابکاری کے نتیجے میں نکلنے والے تیز رفتار ہیلیئم کے مرکزے جب بریلیئم، بورون اور لیتھیئم سے ٹکراتے ہیں تو ایک ایسی شعاع نکلتی ہے جو گاما ریز سے بھی کئی گنا زیادہ آر پار ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس وقت سمجھا گیا تھا کہ یہ بھی طاقتور گاما شعاعیں ہیں۔
1932 میں James Chadwick نے ثابت کیا کہ یہ گاما شعاع نہیں بلکہ ایک نیا تعدیلی ذرہ نیوٹرون ہے اور 1935 میں نوبل انعام حاصل کیا۔
نیوٹرون کی ایجاد کے صرف دس سال بعد 1942 میں اٹلی کے سائنسدان فرمی Enrico Fermi نے شکاگو میں دنیا کا پہلا نیوکلیئر ری ایکٹر (شکاگو پائیل) بنانے میں کامیابی حاصل کر لی اور اسکے صرف تین سال بعد انسان ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

ہمجاء[ترمیم]

کسی عنصر (element) میں پروٹونوں کی تعداد ہمیشہ مقرر ہوتی ہے جبکہ نیوٹرونوں کی تعداد کم زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس طرح ہمجاء (isotopes) وجود میں آتے ہیں۔ مثلاً یورینیئم کے ہر ایٹم میں 92 پروٹون ہوتے ہیں جبکہ نیوٹرونوں کی تعداد 140 سے 146 تک ہو سکتی ہے۔ 140 سے کم یا 146 سے زیادہ نیوٹرون والے یورینیئم کے ایٹم بھی وجود رکھتے ہیں لیکن وہ زیادہ نا پائیدار ہوتے ہیں۔


مزید دیکھیئے[ترمیم]