ٹرائیٹیئم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ٹرائیٹیئم
Hydrogen-3.png

ٹرائیٹیئم

General
Name, symbol tritium, triton,3H
Neutrons 2
Protons 1
Nuclide data
Natural abundance trace
Half-life 12.32 years
Decay products 3He
Isotope mass 3.0160492 u
Spin 12+
Excess energy 14,949.794± 0.001 keV
Binding energy 8,481.821± 0.004 keV
Decay mode Decay energy
Beta emission 0.018590 MeV

ٹرائیٹیئم ایک گیس ہے جو ہائیڈروجن کا ہمجاء (isotope) ہوتی ہے۔ اسے T یا 3H یا ہائیڈروجن-3 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

6 انچ لمبی اور 0.2 انچ چوڑی شیشے کی نلکی جس کے اندر ٹرائیٹیئم گیس بھری ہوئی ہے اور نلکی کے اندر ٹیوب لائٹ کی طرح فاسفور کی کوٹننگ کی ہوئی ہے۔ تابکاری کی وجہ سے اس نلکی سے بغیر کسی بیٹری یا بجلی کے خودبخود روشنی نکلتی رہتی ہے۔ کئی سال بعد اسکی روشنی آدھی رہ جاتی ہے۔

نایابی[ترمیم]

ٹرائیٹیئم انتہائی کم مقدار میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ قدرتی طور پر ملنے والی ٹرائیٹیئم دراصل کوسمک ریز کے نائٹروجن اور ڈیوٹیریئم سے ٹکرانے کی وجہ سے بنتی رہتی ہے۔

14
7
N
 
n  →  12
6
C
 
3
1
T
2
1
D
 
2
1
D
 
→  3
1
T
 
p

نصف زندگی[ترمیم]

یہ پائیدار عنصر نہیں ہے اور اسکی نصف زندگی (half life) صرف 12.32 سال ہوتی ہے۔ یہ بیٹا تنزل (beta decay) کے ذریعے ہیلیئم 3 میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس عمل میں اس میں سے ایک الیکٹران اور ایک الیکٹران اینٹی نیوٹرینو خارج ہوتا ہے۔


3
1
T
 
→  3
2
He1+
 
e  ν
e

ٹرائیٹیئم سے بننے والی یہ ہیلیئم-3 تھرمل نیوٹرون (یعنی سست رفتار نیوٹرون) کے لیئے کافی بڑا cross section رکھتی ہے (یعنی انکے درمیان تعامل ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے)۔ یہ نیوٹرون ہیلیئم-3 میں داخل ہو کر ایک پروٹون کے اخراج کا سبب بنتا ہے جس سے ٹرائیٹیئم دوبارہ بن جاتی ہے۔ ایسا نیوکلیر ری ایکٹر کے اندر ہوتا ہے جہاں نیوٹرونوں کی بہتات ہوتی ہے۔

3
2
He
+ n → 1
1
H
+ 3
1
H

پیداوار[ترمیم]

ٹرائیٹیئم نیوکلیر ری ایکٹر میں لیتھیئم-6 کی نیوٹرون ایکٹیویشن سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ عمل کسی بھی توانائی کے نیوٹرون سے ممکن ہے اور اس میں 4.8 MeV کی توانائی خارج ہوتی ہے۔

6
3
Li
 
n  →  4
2
He
 
2.05 MeV  3
1
T
 
2.75 MeV  )

لیتھیئم-7 بھی تیز رفتار نیوٹرون سے عمل کر کے ٹرائیٹیئم بناتا ہے مگر اس عمل میں 2.466 MeV کی توانائی جذب ہوتی ہے۔ یہ عمل 1954 میں دریافت ہوا تھا جب کاسل براوو میں ہونے والے ہائیڈروجن بم کے تجربے میں توقع سے زیادہ بڑا دھماکہ ہو گیا تھا۔ [1]

7
3
Li
 
n  →  4
2
He
 
3
1
T
 
n


تابکاری[ترمیم]

ٹرائیٹیئم کی تابکاری 9650 کیوری فی گرام ہوتی ہے۔
تابکاری کے نتیجے میں ٹرائیٹیئم سے خارج ہونے والے الیکٹران کی زیادہ سے زیادہ توانائی 18.6 keV ہوتی ہے جبکہ اوسط توانائی 5.7 keV ہوتی ہے۔ اتنی کم توانائی کا الیکٹران ہوا میں صرف 6 ملی میٹر کا سفر طے کر سکتا ہے اور انسانی کھال کی بیرونی ترین مردہ سطح سے گزر کر جسم کے اندر نہیں جا سکتا۔ اس لیئے ٹرائیٹیئم کی تابکاری زیادہ خطرناک نہیں ہوتی۔ البتہ اگر یہ گیس سونگھ لی جائے تو اسکی تابکاری ضرر رساں ہو سکتی ہے۔
گیگر کاونٹر ایک ایسا آلہ ہوتا ہے جو تابکاری کی موجودگی بتاتا ہے۔ لیکن ٹرائیٹیئم کی beta تابکاری اتنی کم ہوتی ہے کہ گیگر کاونٹر اسے پکڑ نہیں پاتا۔[2]

اندھیرے میں چمکتی ہوئی گھڑی میں ٹرائیٹیئم کے مرکبات ہوتے ہیں۔
پستول کی پشت پر دو ٹرائیٹیئم بلب اندھیرے میں نشانہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔

Exit sign[ترمیم]

حال ہی میں ہنگامی خروج کے دروازوں پر لگی Exit sign میں ٹرائیٹیئم کا استعمال بڑھ گیا ہے کیونکہ آگ، زلزلہ یا دھماکے کی صورت میں اکثر بجلی بند ہو جاتی ہے اور اندھیرے میں خروج کا دروازہ نظر نہیں آتا۔ ٹرائیٹیئم والی Exit sign بغیر بجلی یا بیٹری کے کئی سال خودبخود روشن رہتی ہے۔
ماضی میں ایسی Exit sign اور اندھیرے میں چمکنے والی گھڑیوں کے اندر ریڈئیم226 یا پرومیتھیئم147 کا استعمال کیا جاتا تھا۔ ریڈیئم226 سے بیشتر الفا اور کچھ گاما شعاعیں نکلتی ہیں اور اسکی نصف حیات بہت لمبی یعنی 1600 سال ہوتی ہے۔ اسکے برعکس پرومیتھیئم سے beta شعاعیں نکلتی ہیں اور اسکی نصف حیات بہت مختصر یعنی صرف 2.6سال ہوتی ہے۔ الفا اور بیٹا شعاعیں جب زنک سلفائڈ سے ٹکراتی ہیں تو نظر آنے والی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ گھڑیوں میں ریڈیئم کا استعمال اب ترک کر دیا گیا ہے۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

tritium.

حوالہ[ترمیم]

  1. ^ Hisham Zerriffi (January 1996). "Tritium: The environmental, health, budgetary, and strategic effects of the Department of Energy's decision to produce tritium". Institute for Energy and Environmental Research. http://www.ieer.org/reports/tritium.html#(11)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-09-15. 
  2. ^ [1]