مشتری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مشتری  Astronomical symbol of Jupiter
Jupiter by Cassini-Huygens.jpg
A composite Cassini image of Jupiter.
تعین کاری
توصیف Jovian
خصوصیات مدار[1][lower-alpha 1]
زمانہ J2000
اوج 816,520,800 کلومیٹر (5.458104 AU)
حضیض 740,573,600 کلومیٹر (4.950429 AU)
نیم مدار مرکزی 778,547,200 کلومیٹر (5.204267 AU)
منحرف المرکزیت 0.048775
گردشی دورانیہ
اوسط مداری رفتار 13.07 km/s[3]
اوسط خروج مرکز 18.818°
میلان محوری
زاویہ عقدۂ صعودی 100.492°
استدلال طرف الشمس 275.066°
سیارچے 67 بمطابق 2012
Physical characteristics
Mean radius 69,911±6 کلومیٹر[5][lower-alpha 2]
خط استواial radius
Polar radius
Flattening 0.06487±0.00015
Surface area
Volume
کمیت
  • 1.8986×1027 کلوگرام[3]
  • 317.8 Earths
  • 1/1047 Sun[7]
Mean density 1.326 g/cm3[3][lower-alpha 2]
Equatorial surface gravity 24.79 m/s2[3][lower-alpha 2]
2.528 g
Escape velocity 59.5 km/s[3][lower-alpha 2]
Sidereal rotation
period
9.925 h[8] (9 h 55 m 30 s)
Equatorial rotation velocity 12.6 km/s
45,300 km/h
Axial tilt 3.13°[3]
North pole right ascension 268.057°
17h 52m 14s[5]
North pole declination 64.496°[5]
Albedo 0.343 (Bond)
0.52 (geom.)[3]
Surface temp.
   1 bar level
   0.1 bar
min mean max
165 K (-108.15°C)[3]
112 K[3]
Apparent magnitude −1.6 to −2.94[3]
Angular diameter 29.8″ to 50.1″[3]
Atmosphere[3]
Surface pressure 20–200 kPa[9] (cloud layer)
Scale height 27 km
Composition
89.8±2.0% hydrogen (H2)
10.2±2.0% helium (He)
≈ 0.3% methane (CH4)
≈ 0.026% ammonia (NH3)
≈ 0.003% hydrogen deuteride (HD)
0.0006% ethane (C2H6)
0.0004% water (H2O)

Ices:

  1. ^ Yeomans, Donald K. (July 13, 2006). "HORIZONS Web-Interface for Jupiter Barycenter (Major Body=5)". JPL Horizons On-Line Ephemeris System. http://ssd.jpl.nasa.gov/horizons.cgi?find_body=1&body_group=mb&sstr=5. Retrieved August 8, 2007.  – Select "Ephemeris Type: Orbital Elements", "Time Span: January 1, 2000 12:00 to 2000-01-02". ("Target Body: Jupiter Barycenter" and "Center: Sun" should be defaulted to.)
  2. ^ Seligman, Courtney. "Rotation Period and Day Length". http://cseligman.com/text/sky/rotationvsday.htm. Retrieved August 13, 2009. 
  3. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام fact کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  4. ^ "The MeanPlane (Invariable plane) of the Solar System passing through the barycenter". April 3, 2009. http://home.surewest.net/kheider/astro/MeanPlane.gif. Retrieved April 10, 2009.  (produced with Solex 10 written by Aldo Vitagliano; see also Invariable plane)
  5. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Seidelmann_Archinal_A.27hearn_et_al._2007 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  6. ^ "Solar System Exploration: Jupiter: Facts & Figures". NASA. May 7, 2008. http://solarsystem.nasa.gov/planets/profile.cfm?Object=Jupiter&Display=Facts. 
  7. ^ "Astrodynamic Constants". JPL Solar System Dynamics. February 27, 2009. http://ssd.jpl.nasa.gov/?constants. Retrieved August 8, 2007. 
  8. ^ Seidelmann, P. K.; Abalakin, V. K.; Bursa, M.; Davies, M. E.; de Burgh, C.; Lieske, J. H.; Oberst, J.; Simon, J. L.; Standish, E. M.; Stooke, P.; Thomas, P. C. (2001). "Report of the IAU/IAG Working Group on Cartographic Coordinates and Rotational Elements of the Planets and Satellites: 2000". HNSKY Planetarium Program. http://www.hnsky.org/iau-iag.htm. Retrieved February 2, 2007. 
  9. ^ Anonymous (March 1983). "Probe Nephelometer". Galileo Messenger (NASA/JPL) (6). http://www2.jpl.nasa.gov/galileo/messenger/oldmess/2Probe.html. Retrieved February 12, 2007. 


مشتری ہمارے نظام شمسی کا سورج سے پانچواں اور سب سے بڑا سیارہ ہے۔ گیسی دیو ہونے کے باوجود اس کا وزن سورج کے ایک ہزارویں حصے سے بھی کم ہے لیکن نظام شمسی کے دیگر سیاروں کے مجموعی وزن سے زیادہ بھاری ہے۔ زحل، یورانس اور نیپچون کی مانند مشتری بھی گیسی دیو کی درجہ بندی میں آتا ہے۔ یہ سارے گیسی دیو ایک ساتھ مل کر جووین یعنی بیرونی سیارے کہلاتے ہیں۔ قدیم زمانے سے لوگ مشتری کو جانتے تھے اور مختلف ثقافتوں اور مذاہب میں مشتری کو نمایاں حیثیت دی گئی تھی۔ رومنوں نے اس سیارے کو اپنے دیوتا جیوپیٹر کا نام دیا تھا۔ زمین سے دیکھا جائے تو رات کے وقت آسمان پر چاند اور زہرہ کے بعد مشتری تیسرا روشن ترین اجرام فلکی ہے۔ مشتری کا زیادہ تر حصہ ہائیڈروجن سے بنا ہے جبکہ ایک چوتھائی حصہ ہیلیئم پر بھی مشتمل ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے مرکزے میں بھاری دھاتیں بھی پائی جاتی ہوں۔ تیز محوری حرکت کی وجہ سے مشتری کی شکل بیضوی سی ہے۔ بیرونی فضاء مختلف پٹیوں پر مشتمل ہے۔ انہی پٹیوں کے سنگم پر طوفان جنم لیتے ہیں۔ عظیم سرخ دھبہ نامی بہت بڑا طوفان سترہویں صدی سے دوربین کی ایجاد کے بعد سے مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ مشتری کے گرد معمولی سا دائروی نظام بھی موجود ہے اور اس کا مقناطیسی میدان کافی طاقتور ہے۔ مشتری کے کم از کم ۶۳ چاند ہیں جن میں چار وہ ہیں جو ۱۶۱۰ میں گلیلیو نے دریافت کئے تھے۔ ان میں سے سب سے بڑا چاند عطارد یعنی مرکری سے بھی بڑا ہے۔ مشتری پر خودکار روبوٹ خلائی جہاز بھیجے گئے ہیں جن میں سے پائینیر اور وائجر اہم ترین ہیں جو اس کے قریب سے ہو کر گذرے تھے۔ بعد میں اس پر گلیلیو نامی جہاز بھیجا گیا تھا جو اس کے گرد محور میں گردش کرتا رہا۔ اس وقت تک کا سب سے آخری جہاز نیو ہورائزن ہے جو فروری ۲۰۰۷ میں اس کے قریب سے گذرا تھا اور اس کی منزل پلوٹو ہے۔ مشتری کی کشش ثقل کی مدد سے اس جہاز نے اپنی رفتار بڑھائی ہے۔ مستقبل کے منصوبوں میں برف سے ڈھکے مائع سمندروں والے چاند یوروپا کی تحقیق شامل ہے۔

بناوٹ[ترمیم]

مشتری زیادہ تر گیسوں اور مائع جات سے بنا ہے۔ نہ صرف بیرونی چار سیاروں میں بلکہ پورے نظام شمسی میں سب سے بڑا سیارہ ہے۔ اس کے خط استوا پر اس کا قطر ۱۴۲۹۸۴ کلومیٹر ہے۔ مشتری کی کثافت 1.326 گرام فی مکعب سینٹی میٹر ہے جو گیسی سیاروں میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے تاہم چار ارضی سیاروں کی نسبت یہ کثافت کم ہے۔

ساخت[ترمیم]

مشتری کی بالائی فضاء کا ۸۸ سے ۹۲ فیصد حصہ ہائیڈروجن سے جبکہ ۸ سے ۱۲ فیصد ہیلیئم سے بنا ہے۔ چونکہ ہیلیئم کے ایٹم کا وزن ہائیڈروجن کے ایٹم کی نسبت ۴ گنا زیادہ ہوتا ہے اس لئے مختلف جگہوں پر یہ گیسیں مختلف مقداروں میں ملتی ہیں۔ بحیثیت مجموعی فضاء کا ۷۵ فیصد حصہ ہائیڈروجن جبکہ ۲۴ فیصد ہیلئم سے بنا ہے۔ باقی کی ایک فیصد میں دیگر عناصر آ جاتے ہیں۔ اندرونی حصے میں زیادہ وزنی دھاتیں پائی جاتی ہیں اور ان میں ۷۱ فیصد ہائیڈروجن، ۲۴ فیصد ہیلیئم اور ۵ فیصد دیگر عناصر بحساب وزن موجود ہیں۔ فضاء میں میتھین، آبی بخارات، امونیا اور سیلیکان پر مبنی مرکبات ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ کاربن، ایتھین، ہائیڈروجن سلفائیڈ، نیون، آکسیجن، فاسفین اور گندھک بھی انتہائی معمولی مقدار میں ملتی ہیں۔ سب سے بیرونی تہہ میں جمی ہوئی امونیا کی قلمیں ملتی ہیں۔ زیریں سرخ اور بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے کی گئی پیمائشوں میں بینزین اور دیگر ہائیڈرو کاربن بھی دیکھی گئی ہیں۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی فضائی خصوصیات قدیم شمسی نیبولا سے بہت ملتی جلتی ہیں۔ تاہم نیون گیس کی مقدار دس لاکھ اجزاء میں محض ۲۰ ہے جو سورج پر موجود مقدار کا محض دسواں حصہ ہے۔ ہیلیئم کی مقدار بھی اب کم ہو رہی ہے تاہم اب بھی اس کی مقدار سورج کی نسبت محض ۸۰ فیصد باقی رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ مشتری کی فضاء میں انرٹ گیس کی مقدار سورج کی نسبت دو سے تین گنا زیادہ ہے۔ سپیکٹرو سکوپی کے مشاہدے کی بناء پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیٹرن کی ساخت مشتری سے مماثل ہے لیکن دیگر گیسی دیو یورینس اور نیپچون پر ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی مقدار بہت کم ہے۔ تاہم چونکہ مشتری سے آگے کسی سیارے کی سطح پر مشاہداتی خلائی جہاز نہیں اتارے گئے اس لئے ان کی فضائی ساخت کے متعلق تفصیل سے کچھ بتانا مشکل ہے۔

کمیت[ترمیم]

مشتری کی کمیت نظام شمسی کے دیگر تمام سیاروں کے مجموعی وزن سے اڑھائی گنا زیادہ ہے۔ زمین کی نسبت مشتری گیارہ گنا زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن اسی نسبت سے اگر وہ زمین جتنا بھاری ہوتا تو اسے زمین کی نسبت 1321 گنا زیادہ بھاری ہونا چاہئے تھا لیکن یہ سیارہ محض 318 گنا زیادہ بھاری ہے۔مشتری کا قطر سورج کے قطر کا دسواں حصہ ہے اور اس کی کمیت سورج کی کمیت کے صفر اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد کے برابر ہے۔ اس لئے سورج اور مشتری کی کثافت برابر ہے۔ مشتری کی کمیت کو پیمائش کی اکائی بنا کر بین النظام الشمسی سیاروں اور بونے ستاروں کی پیمائش کی جاتی ہے۔ مختلف سائنسی مفروضات کے مطابق اگر مشتری کی کمیت زیادہ ہوتی تو یہ سیارہ سکڑ جاتا۔ اگر مشتری کی کمیت میں معمولی سا بھی رد و بدل کر دیا جائے تو اس کے قطر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم اگریہ اضافہ ایک اعشاریہ چھ گنا ہو جائے تو مرکزہ اپنی کشش کے باعث سکڑ نے لگے گا اور کمیت میں اضافے کے باوجود سیارے کا قطر کم ہوتا جائے گا۔ نتیجتاً یہ کہا جاتا ہے کہ مشتری کی طرح کے سیارے دراصل زیادہ سے زیادہ مشتری جتنے ہی بڑے ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر مشتری کی کمیت ۵۰ گنا بڑھ جائے تو پھر یہ بھورا بونا ستارہ بن جائے گا جیسا کہ بعض کثیر الشمسی نظاموں میں ہوتا ہے۔ اگرچہ مشتری کو ستارہ بننے کے لئے ۷۵ گنا زیادہ کمیت درکار ہوگی تاکہ وہ ہائیڈروجن کے ملاپ سے ستارہ بن سکے۔ سب سے چھوٹا سرخ بونا ستارہ دراصل مشتری کےقطر سے محض تیس فیصد بڑا ہے۔ اس کے باوجود مشتری جتنی حرارت سورج سے وصول کرتا ہےا س سے زیادہ واپس لوٹاتا ہے۔ اس وجہ سے مشتری ہر سال دو سینٹی میٹر جتنا سکڑ رہا ہے۔ جب مشتری پیدا ہوا تھا تو بہت زیادہ گرم اور موجودہ حجم سے دو گنا بڑا تھا۔

اندورنی ساخت[ترمیم]

مشتری کے مرکزے میں مختلف عناصر پائے جاتے ہیں جن کے گرد دھاتی ہائیڈروجن بشمول کچھ ہیلیئم کے مائع شکل میں موجود ہے جس کے باہر مالیکیولر ہائیڈروجن ہے۔ اس کے علاوہ مزید باتیں ابھی یقین سے نہیں کہی جا سکتیں۔ مرکزے کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ پتھریلا ہے لیکن مزید تفصیلات معلوم نہیں۔1997 میں کشش ثقل کی پیمائش سے مرکزے کی موجودگی کا ثبوت ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزہ زمین سے 12 تا 45 گنا زیادہ بھاری ہے اور مشتری کے کل کمیت کے 3 سے 15 فیصد کے برابر۔ تاہم یہ پیمائشیں سو فیصد قابل اعتبار نہیں ہوتیں اور عین ممکن ہے کہ مرکزہ سرے سے ہو ہی نہ۔

کرہ فضائی[ترمیم]

حجم کے اعتبار سے مشتری ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا کرہ فضائی رکھتا ہے جو 5000 کلومیٹر تک بلند ہے۔

بادلوں کی تہہ[ترمیم]

مشتری پر امونیا کی قلموں یعنی کرسٹل اور ممکنہ طور پر امونیم ہائیڈرو سلفائیڈ کے بادل مستقل طور پر چھائے رہتے ہیں۔ بعض جگہوں پر 100 میٹر فی سیکنڈ یعنی 360 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی ہوا عام پائی جاتی ہے۔ بادلوں کی یہ تہہ تقریباً 50 کلومیٹر موٹی ہے اور اس میں دوتہیں ہیں۔ اوپری تہہ ہلکی جبکہ نچلی تہہ گہری اور بھاری ہے۔ مشتری پر چمکنے والی آسمانی بجلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان بادلوں کی تہہ کے نیچے پانی کے بادلوں کی بھی ہلکی تہہ موجود ہوگی۔ یہ بجلی زمینی بجلی کی نسبت ہزار گنا زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے۔ بادلوں کے رنگ نارنجی اور بھورے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جس مادے سے بنے ہیں، وہ سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں میں اپنا رنگ بدلتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ بادل فاسفورس، گندھک اور شاید ہائیڈرو کاربن سے بنے ہوں۔ مشتری اپنے محور کے گرد اس طرح گھومتا ہے کہ اس کے قطبین پر سورج کی روشنی نسبتاً کم پڑتی ہے۔

عظیم سرخ دھبہ اور دیگر بھنور[ترمیم]

مشتری کا سب سے نمایاں نشان اس کا عظیم سرخ دھبہ ہے جو خط استوا سے 22 ڈگری جنوب میں موجود ایک اینٹی سائکلونک طوفان ہے اور اس کا رقبہ زمین سے بڑا ہے۔ 1831 سے اس کے بارے معلومات ہیں اور عین ممکن ہے کہ اسے پہلی بار 1665 میں دیکھا گیا ہو۔ریاضیاتی ماڈلوں سے پتہ چلتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ طوفان مشتری کی مستقل خاصیت ہو۔ 12 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ قطر کے عدسے والی دوربین سے اس طوفان کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بیضوی جسم گھڑیال مخالف سمت گھومتا ہوا چھ دن میں ایک گردش مکمل کرتا ہے۔ عظیم سرخ دھبے کی لمبائی اور چوڑائی 24000 سے 40000 ضرب 12000 سے 14000 کلومیٹر ہے اور نزدیکی بادلوں کے بالائی سرے سے آٹھ کلومیٹر اونچا ہے۔ اس طرح کے طوفان دیگر گیسی دیوؤں پر بھی عام پائے جاتے ہیں۔ مشتری پر سفید اور بھورے طوفان بھی ہیں لیکن ان کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہ طوفان نسبتاً ٹھنڈے بادلوں سے بنے ہیں۔

سیاراتی حلقے[ترمیم]

مشتری کے گرد مدھم حلقے پائے جاتے ہیں جس کے تین حصے ہیں۔ ایک اندرونی، ایک درمیانی نسبتاً روشن اور ایک بیرونی۔ یہ حلقے گرد سے بنے ہیں اور زحل کے حلقوں کی مانند سے برف سے نہیں بنے۔ اصل حلقہ شاید مشتری کے اپنے چاندوں ایڈریاسٹا اور میٹس سے خارج شدہ مادے سے بنا ہے۔ عام طور پر خارج ہونے والا مادہ جو واپس اسی چاند میں جا گرنا چاہئے، مشتری کی طاقتور کشش کی وجہ سے مشتری پر جا گرتا ہے۔

مقناطیسی میدان[ترمیم]

مشتری کا مقناطیسی میدان زمین کی نسبت 14 گنا زیادہ طاقتور ہے اور اس کی پیمائش 4.2 سے 10-14 گاز تک ہے۔ یہ مقدار ہمارے نظامِ شمسی میں سورج کے دھبوں کے بعد سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ مشتری کے چاند آئی او کے آتش فشاں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی بہت بڑی مقدار خارج کرتے ہیں۔ مشتری کی 75 جسامتوں کے فاصلے پر اس کا مقناطیسی میدان اور شمسی ہوا ٹکراتے ہیں۔ مشتری کے چاروں بڑے چاند اس کے مقناطیسی میدان میں ہی حرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شمسی ہوا سے بچے رہتے ہیں۔

مدار اور گردش[ترمیم]

مشتری کا مدار سورج سے 77 کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر دور ہے جو زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے کا 5 گنا ہے۔ اس کے علاوہ سورج کے گرد اس کا ایک چکر 11.86 زمینی سالوں میں پورا ہوتا ہے۔ اپنے مدار کی شکل کی وجہ سے مشتری پر زمین کی اور مریخ کے برعکس زیادہ موسمی تبدیلیاں نہیں آتیں۔ مشتری کی اپنے محور پر گردش پورے نظامِ شمسی میں سب سے تیز ہے جو دس گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتی ہے۔ زمین سے اچھی دوربین کی مدد سے مشتری کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی شکل بیضوی ہے جس کی وجہ سے اس کا نصف قطر خطِ استوا پر قطبین کی نسبت بڑا ہے۔ اسی وجہ سے قطبین پر نصف قطر خطِ استوا کی نسبت 9275 کلومیٹر کم ہے۔

مشاہدہ[ترمیم]

مشتری آسمان پر سورج، چاند اور زہرہ کے بعد چوتھا روش ترین اجرام فلکی ہے۔ تاہم بعض اوقات مریخ اس سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ زمین اپنے مدار میں گردش کرتے وقت ہر 398.9 دن بعد مشتری کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ اس وجہ سے جب زمین آگے نکلتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے مشتری نے اچانک ہی اپنی حرکت کی سمت الٹ دی ہو۔ مشتری کی سورج کے گرد بارہ سال میں ایک چکر علم نجوم میں اہمیت رکھتا ہے اور شاید برجوں کا سلسلہ اسی کے مشاہدے سے شروع ہوا تھا۔ چونکہ مشتری کا مدار زمین کے مدار سے باہر کی جانب ہے، اس لئے مشتری ہمیشہ زمین سے روشن دکھائی دیتا ہے۔ خلائی جہاز سے کھینچی گئی تصویر میں مشتری ہلال کی شکل میں بھی دکھائی دے سکتا ہے۔

تحقیق اور مہم جوئی[ترمیم]

ماقبل دوربین[ترمیم]

عہد بابل کے لوگوں نے 7ویں یا 8ویں صدی قبل مسیح میں مشتری کا مشاہدہ کیا تھا۔ چینی فلکیاتی تاریخ دان ژی زیزنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک چینی فلکیات دان نے مشتری کے ایک چاند کو 362 ق م میں بغیر کسی آلے کے دریافت کر لیا تھا۔ اگر یہ بات سچ ہے تو یہ دریافت گلیلیو کی دریافت سے 2000 سال پہلے ہوئی ہوگی۔ دوسری صدی میں بقراط نے مشتری کا ماڈل بنایا تھا جس کے مطابق مشتری سورج کے گرد ایک چکر 11.86 سال میں پورا کرتا ہے۔ 499 عیسوی میں آریا بھاتا نامی ہندوستانی فلکیات دان اور ریاضی دان نے بھی لگ بھگ یہی نتیجہ نکالا تھا۔

ارضی دوربینی مشاہدات[ترمیم]

1610 میں گلیلیو گلیلی نے دوربین کی مد سے مشتری کے چار بڑے چاند آئی او، یوروپا، گائنامیڈ اور کالیسٹو (جنہیں گلیلین چاند بھی کہا جاتا ہے) دریافت کئے۔ دوربین کی مدد سے زمین کے علاوہ کسی بھی سیارے کے چاند کو پہلی بار تبھی دیکھا گیا تھا۔ گلیلیو کا یہ مشاہدہ ثابت کرتا تھا کہ کسی بھی اجرام فلکی کی حرکت اس حساب سے نہیں ہو رہی کہ زمین کو مرکز مانا جائے۔ کوپرنیکس کے نظریے کے حق میں یہ مشاہدہ بہت اہم ثابت ہوا۔ کوپرنیکس کے نظریے کی کھلی حمایت کی وجہ سے گلیلیو کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ 1660 کی دہائی میں کسینی نے ایک نئی دوربین کی مدد سے مشتری پر دھبوں اور دیگر نشانات کو دریافت کیا اور بتایا کہ مشتری گول نہیں بلکہ بیضوی شکل کا ہے اور اس کے قطبین نسبتاً پچکے ہوئے ہیں۔ 1690 میں کسینی نے دریافت کیا کہ مشتری کی پوری فضاء یکساں رفتار سے حرکت نہیں کرتی۔ مشتری کا عظیم دھبہ جو کہ مشتری کی اہم اور مستقل نشانی ہے، کو پہلی بار 1664 میں رابرٹ ہک نے اور پھر 1665 میں جیوانی کسینی نے الگ الگ دیکھا۔ 1831 میں فارماسیسٹ ہنرچ شوابے نے اس عظیم دھبے کی شکل پہلی بار بنا کر پیش کی۔ 1665 سے 1708 کے دوران یہ دھبہ مشاہدے سے اوجھل رہا اور پھر 1878 میں پھر واضح دکھائی دینے لگا۔ 1883 اور پھر 20ویں صدی کے آغاز میں پھر یہ دھندلا ہوتا دکھائی دیا۔ جیوانی بوریلی اور کسینی نے مشتری کے بڑے چاندوں کی گردش کے جدول بنائے کہ کب کون سا چاند مشتری کے سامنے آئے گا اور کب اس کے پیچھے چھپ جائے گا۔ تاہم 1670 میں جب یہ بات پتہ چلی کہ مشتری زمین سے سورج کی دوسری جانب ہے تو یہ حرکات توقع سے 17 منٹ زیادہ تاخیر سے ہوں گے۔ 1892 میں برنارڈ نے 36 انچ دوربین کی مدد سے کیلیفورنیا کی لِک رصد گاہ سے مشتری کا پانچواں چاند دریافت کیا۔ اس چھوٹے چاند کو دیکھنے کی وجہ سے اس کی شہرت جلد ہی ہر طرف پھیل گئی۔ بعد میں اس چاند کو امالتھیا کا نام ملا۔ براہ راست انسانی آنکھ سے دریافت ہونے والا یہ آخری سیاراتی چاند تھا۔ دیگر آٹھ چاند وائجر اول کے 1979 کے چکر سے قبل دریافت ہو گئے۔ 1938 سے تین اینٹی سائیکلون جنہیں سفید بیضے کہا جاتا تھا، مشتری پر دیکھے جاتے رہے اور کئی دہائیوں تک یہ ایک دوسرے کے قریب تو آتے رہے، لیکن ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوئے۔ اخرکار 1998 میں دو اور پھر 2000 میں تیسرا بھی ضم ہو کر ایک بڑا بیضہ بنے۔

ریڈیائی دوربین سے تحقیق[ترمیم]

1955 میں برنارڈ برک اور کینیتھ فرینکلن نے مشتری سے 22.2 میگا ہرٹز کے سگنل وصول کئے جو اس کی محوری گردش کے ساتھ منسلک ہے۔ اسی کی بنیاد پر مشتری کی محوری گردش کی رفتار معلوم کی گئی ہے۔ یہ سگنل دو طرح کے دورانیئے کے ہوتے ہیں۔ لمبے سگنل کئی سیکنڈ تک جبکہ مختصر سگنل ایک سیکنڈ کے سوویں حصے سے بھی کم عرصے کے لئے آتے ہیں۔

خلائی جہازوں سے تحقیق[ترمیم]

1973 سے کئی خودکار خلائی جہاز مشتری تک پہنچ چکے ہیں جن میں سے پاینئر 10 سب سے زیادہ مشہور ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے مشتری کے قریب پہنچا تھا اور نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے کے بارے معلومات دی تھیں۔ عموماً دوسرے سیاروں کو جانے والے راکٹوں پر توانائی پر سب سے زیادہ خرچہ آتا ہے۔ زمین کے نچلے مدار سے مشتری کو جانے کے لئے درکار رفتار 6.3 کلومیٹر فی سیکنڈ درکار ہوتی ہے جبکہ زمین کی کشش پر قابو پانے کے لئے خلائی جہازوں کو 9.7 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار درکار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گریوٹی اسسٹ نامی تکنیک کی مدد سے دیگر سیاروں کی کشش سے رفتار کم کرتے ہوئے خلائی جہاز آسانی سے مشتری کو جا سکتے ہیں لیکن اس سے کل درکار وقت بہت بڑھ جاتا ہے۔

فلائی بائی مشن[ترمیم]

  1. پائینر 10 خلائی جہاز 3 دسمبر 1973 کو 130،000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا
  2. پائینر 11 خلائی جہاز 2 دسمبر 1974 کو 34٫000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا
  3. وائجر 1 خلائی جہاز 5 مارچ 1979 کو 349٫000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا
  4. وائجر 2 خلائی جہاز 9 جولائی 1979 کو 570٫000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا
  5. اُلائیسس خلائی جہاز پہلی بار 8 فروری 1992 کو 408٫894 کلومیٹر جبکہ دوسری بار 4 فروری 2004 کو 12٫000٫000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا
  6. کسینی خلائی جہاز 30 دسمبر 2000 کو 10٫000٫000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا
  7. نیو ہورائزنز خلائی جہاز 28 فروری 2007 کو 2٫304٫535 کلومیٹر سے گذرا

1973 سے مختلف خلائی جہاز مشتری کے اتنے قریب سے گذرے ہیں کہ اس کا مشاہدہ کر سکیں۔ پاینئر مشن نے پہلی بار مشتری کی فضاء اور اس کے کئی چاندوں کی قریب سے کھینچی ہوئی تصویریں زمین کو بھیجی ہیں۔ انہی سے پتہ چلا ہے کہ مشتری کے قطبین پر موجود مقناطیسی میدان توقع سے کہیں زیادہ طاقتور ہے تاہم یہ جہاز بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

چھ سال بعد وائجر جہازوں کی وجہ سے مشتری کے چاندوں اور اس کے دائروں کو سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوا کہ عظیم سرخ دھبہ اینٹی سائیکلونک ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات میں لی گئی تصاویر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاینئر مشنز کے بعد سے اس دھبے کا رنگ بدل رہا ہے اور نارنجی سے گہرا بھورا ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ آئی او پر آتش فشاں بھی موجود ہیں جن میں سے کئی لاوا اگل رہے ہیں۔ مشتری کے پیچھے جب خلائی جہاز گئے تو تاریک حصے میں چمکتی آسمانی بجلیاں بھی دکھائی دی ہیں۔

مشتری کو جانے والا اگلا مشن الائسیس کا سورج کو جانے والا خلائی جہاز سورج کے گرد اپنا مدار قائم کرنے کے لئے مشتری کے پاس سے گذرا۔ چونکہ اس پر کوئی کیمرہ نصب نہیں، اس لئے تصاویر نہیں لی جا سکیں۔ دوسری بار یہ خلائی جہاز چھ سال بعد بہت دور سے گذرا۔ پہلی بار گذرتے ہوئے اس خلائی جہاز نے مشتری کے مقناطیسی میدان پر کافی تحقیق کی۔

زحل کو جانے والا کسینی خلائی جہاز 2000 میں مشتری کے پاس سے گذرا اور اب تک کی بہترین تصاویر بھیجیں۔ 19 دسمبر 2000 کو اس نے ہمالیہ نامی چاند کی تصاویر لیں لیکن دھندلے ہونے کی وجہ سے سطح کے بارے کچھ خاص معلومات نہیں مل سکیں۔

نیو ہورائزنز خلائی جہاز جو پلوٹو کو جا رہا ہے، گریوٹی اسسٹ نامی تکنیک سے فائدہ اٹھانے مشتری کے قریب سے گذرا تھا۔ 28 فروری 2007 کو مشتری کے قریب سے گذرا اور اس نے آئی او کے آتش فشانوں اور دیگر چار بڑے چاندوں پر تحقیق کی اور بہت دور سے ہمالیہ اور ایلارا کی بھی تصاویر کھینچیں۔ چار بڑے چاندوں کی تصویر کشی 4 ستمبر 2006 میں شروع ہوئی۔

گلیلیو مشن[ترمیم]

تاحال مشتری کے مدار میں پہنچنے والا واحد خلائی جہاز گلیلیو ہے۔ یہ جہاز 7 دسمبر 1995 کو مدار میں پہنچا اور سات سال تک کام کرتا رہا۔ اس نے کئی بار تمام چاندوں کے گرد بھی چکر لگائے۔ اسی خلائی جہاز کی مدد سے شو میکرِلیوی 9 نامی دمدار ستارے کو مشتری پر گرتے دیکھا گیا جو ایک انتہائی نادر واقعہ ہے۔ اگرچہ گلیلیو سے بہت قیمتی معلومات ملیں لیکن ایک خرابی کی وجہ سے اس کا اصل اینٹینا کام نہیں کر سکا جس کی وجہ سے ڈیٹا بھیجنے کا عمل سخت متائثر ہوا۔ جولائی 1995 کو گلیلیو نے ایک مشین نیچے اتاری جو پیراشوٹ کی مدد سے 7 دسمبر کو مشتری کی فضاء میں اتری۔ اس نے کل 57.6 منٹ تک کام کیا اور 150 کلومیٹر نیچے اتری اور آخرکار انتہائی دباؤ کی وجہ سے ناکارہ ہو گئی۔ اس وقت اس پر پڑنے والا فضائی دباؤ زمین سے 22 گنا زیادہ اور درجہ حرارت 153 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ اندازہ ہے کہ پگھلنے کے بعد شاید تبخیر کا شکار ہو گئی ہو۔ 21 ستمبر 2003 کو گلیلیو کو بھی اسی مقصد کے لئے مشتری کے مدار سے سطح کی طرف گرایا گیا۔ اس وقت اس کی رفتار 50 کلومیٹر فی سیکنڈ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ناسا نے یوروپا کو کسی قسم کی ملاوٹ سے پاک رکھنے کے لئے یہ فیصلہ کیا تاکہ خلائی جہاز راستے میں ہی تباہ ہو جائے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یوروپا پر زندگی کے امکانات ہیں۔

مستقبل میں بھیجی جانے والی اور منسوخ شدہ مہمات[ترمیم]

مشتری کے قطبین کے بہتر مطالعے کے لئے ناسا جونو نامی کلائی جہاز 2011 میں بھیجنے لگا تھا۔ یوروپا جیوپیٹر سسٹم مشن ناسا اور یورپی خلائی ادارے کا مشترکہ منصوبہ ہے جس میں مشتری اور اس کے چاندوں کے لئے مہم بھیجی جائے گی۔ فروری 2009 میں ناسا اور یورپی خلائی ادارے نے اعلان کیا کہ اس مہم کو ٹائٹن سیٹرن سسٹم مشن پر ترجیح دی ہے۔ یہ مہم 2020 کے آس پاس بھیجی جائے گی۔ اس مہم میں ناسا مشتری اور یوروپا کے لئے جبکہ یورپی خلائی ادارہ مشتری اور گینی میڈ کے گرد گردش کرنے والا خلائی جہاز بھیجے گا۔ چونکہ مشتری کے چاندوں یوروپا، گینی میڈ اور کالیسٹو کی سطح پر مائع سمندر پائے جانے کا امکان ہے اس لئے ان کے تفصیلی مشاہدے کا منصوبہ ہے۔ تاہم سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے یہ منصوبے رکے ہوئے ہیں۔ ناسا کا جیمو یعنی جیوپیٹر آئسی مون آربیٹر مشن 2005 میں منسوخ ہو گیا ہے۔

چاند[ترمیم]

مشتری کے 63 قدرتی چاند ہیں۔ ان میں سے 47 کا قطر 10 کلومیٹر سے چھوٹا ہے اور انہیں 1975 کے بعد دریافت کیا گیا ہے۔ چار بڑے چاند جنہیں گلیلین چاند کہا جاتا ہے، آئی او، یوروپا، گینی میڈ اور کلیسٹو ہیں۔

گلیلین چاند[ترمیم]

آئی او، یوروپا، گینی میڈ اور چند دیگر بڑے چاندوں کی گردش میں لیپلاس ریزونینس پائی جاتی ہے۔ مثلاً آئی او کے مشتری کے گرد ہر چار چکر پر یوروپا اس وقت میں پورے دو چکر کاٹتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گینی میڈ صرف ایک۔ اس وجہ سے ہر چاند دوسرے چاند کو ایک ہی مقام پر ملتا ہے جن کی باہمی کشش کی وجہ سے ان کے مدار گول کی بجائے بیضوی ہیں۔ مشتری کی کشش کی وجہ سے ان چاندوں کے اندر رگڑ کی وجہ سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور آئی او پر آتش فشاں کی یہی وجہ ہے۔

چاندوں کی درجہ بندی[ترمیم]

وائجر مہمات سے قبل مشتری کے چاندوں کو ان کے مدار کی خصوصیات کی وجہ سے چار چار کے چار گروہوں میں رکھا گیا تھا۔ لیکن بے شمار چھوٹے چاندوں کی دریافت کے بعد یہ تقسیم درست نہیں رہی۔ اب چھ اہم گروہ ہیں لیکن اندازہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ گروہ بنیں گے۔ ایک اور درجہ بندی یہ ہے کہ اندرونی آٹھ چاندوں کو ایک گروہ میں رکھا جائے جن کے مدار تقریباً گول اور خطِ استوا کے قریب ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مشتری کے ساتھ ہی پیدا ہوئے تھے۔ باقی سارے چاند ایک ہی درجہ بندی میں آتے ہیں اور خیال ہے کہ وہ شہابیئے ہیں جنہیں مشتری نے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ ان کی شکلیں اور مدار ایک جیسے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے چاند کے ٹوٹنے سے بنے ہوں۔

نظامِ شمسی کے ساتھ عمل دخل[ترمیم]

سورج کے ساتھ ساتھ مشتری کی کششِ ثقل کی وجہ سے ہمارے نظامِ شمسی کی شکل بنانے میں مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ کوئیپر کی پٹی میں بننے والے دمدار ستارے بھی مشتری کی وجہ سے اپنا مدار چھوڑ کر نظامِ شمسی کے اندر کا رخ کرتے ہیں۔

ٹکراؤ[ترمیم]

اپنی بہت زیادہ کششِ ثقل اور نظامِ شمسی کے اندر ہونے کی وجہ سے مشتری کو نظامِ شمسی کا ویکیوم کلینر یا جمعدار کہا جاتا ہے۔ نظامِ شمسی کے سیاروں میں سب سے زیادہ اسی کے ساتھ دمدار ستارے اور شہابیئے ٹکراتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیارہ نظامِ شمسی کے اندرونی سیاروں کو شہابیوں سے بچانے کے لئے ڈھال کا کام کرتا ہے۔ تاہم حالیہ کمپیوٹر سمولیشن کی مدد سے پتہ چلا ہے کہ مشتری جتنے شہابیئے یا دمدار ستارے اپنے مدار میں کھینچتا ہے، اتنے ہی اس کی وجہ سے اپنے مدار سے نکل کر اندرونی نظامِ شمسی کا رخ کرتے ہیں۔ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مشتری اوورت بادل سے آنے والے دمدار ستاروں سے بچاؤ کا کام کرتا ہے۔ 16 جولائی سے 22 جولائی 1994 کے دوران شو میکر لیوی 9 دمدار ستارے نے 20 ٹکڑے مشتری کے جنوبی نصف کرے سے ٹکرائے تھے اور نظامِ شمسی میں ایسا پہلی بار دیکھا گیا کہ نظامِ شمسی کے دو اجسام ایک دوسرے سے ٹکرائے ہوں۔ اس ٹکراؤ کے مشاہدے سے ہمیں مشتری کی فضاء کے بارے قیمتی معلومات ملی ہیں۔ 19 جولائی 2009 کو ایک جگہ دمدار ستارے کے ٹکراؤ کے نشان ملے تھے جسے زیریں سرخ روشنی سے دیکھنے پر پتہ چلا ہے کہ یہاں کا درجہ حرارت کافی بلند ہے۔ اسی طرح کا ایک اور چھوٹا نشان آسٹریلیا کے شوقیہ فلکیات دان نے 3 جون 2010 کو دریافت کیا۔ اسے فلپائن میں ایک اور شوقین نے وڈیو پر ریکارڈ بھی کیا تھا۔

زندگی کے امکانات[ترمیم]

1953 میں ملر اُرے کے تجربات سے ثابت ہوا کہ اولین زمانے میں زمین پر موجود کیمیائی اجزاء اور آسمانی بجلی کے ٹکراؤ سے جو آرگینک مادے بنے، انہی سے زندگی نے جنم لیا۔ یہ تمام کیمیائی اجزاء اور آسمانی بجلی مشتری پر بھی پائی جاتی ہے۔ تاہم تیز چلنے والی عمودی ہواؤں کی وجہ سے ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو سکا ہو۔ زمین جیسی زندگی تو شاید مشتری پر ممکن نہ ہو کیونکہ وہاں پانی کی مقدار بہت کم ہے اور ممکنہ سطح پر بے پناہ دباؤ ہے۔ تاہم 1976 میں وائجر مہم سے قبل نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ امونیا اور پانی پر مبنی زندگی شاید مشتری کی بالائی فضاء میں موجود ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اوپر کی سطح پر سادہ ضیائی تالیف کرنے والے پلانکٹون ہوں اور سطح کے نیچے مچھلیاں ہو جو پلانکٹون پر زندہ ہوں اور اس سے نیچے مچھلیاں کھانے والے شکاری۔ مشتری کے چاندوں پر زیرِ زمین سمندروں کی موجودگی سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہاں زندگی کے پائے جانے کے بہتر امکانات ہوں گے۔

نظام شمسی
سورج عطارد زہرہ چاند زمین فوبوس اور ڈیمیوس مریخ سیرس سیارچوی پٹی مشتری مشتری کے چاند زحل زحل کے چاند یورینس یورینس کے چاند نیپچون کے چاند نیپچون کیرون، نکس اور ہائڈرا پلوٹو کوئپر پٹی ڈسنومیا ارس منتشر طشتری اورت بادلSolar System Right To Left.PNG
سورج · عطارد · زہرہ · زمین · مریخ · مشتری · زحل · یورینس · نیپچون
بونے سیارے
پلوٹو · سیرس · ارس
دیگر اجرام فلکی
چاند · نجمیے · دم دار سیارے · کہکشاں · شہاب ثاقب · سحابیہ · اجرام فلکی کے فاصلے

ِ

ملاحظات[ترمیم]

  1. ^ Orbital elements refer to the barycenter of the Jupiter system, and are the instantaneous osculating values at the precise J2000 epoch. Barycenter quantities are given because, in contrast to the planetary centre, they do not experience appreciable changes on a day-to-day basis due to the motion of the moons.
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 2.4 2.5 2.6 2.7 Refers to the level of 1 bar atmospheric pressure