عطارد
| عطارد ☿ | ||||||||||
MESSENGER image of Mercury with three visible colors mapped to 1000 nm, 700 nm, and 430 nm wavelengths
|
||||||||||
|
تعین کاری
|
||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| تلفظ | ||||||||||
| توصیف | Mercurian, Mercurial[1] | |||||||||
|
خصوصیات مدار[2]
|
||||||||||
| زمانہ J2000 | ||||||||||
| اوج |
|
|||||||||
| حضیض |
|
|||||||||
| نیم مدار مرکزی |
|
|||||||||
| منحرف المرکزیت | 0.205 630[3] | |||||||||
| گردشی دورانیہ | ||||||||||
| اوسط مداری رفتار | 47.87 km/s[3] | |||||||||
| اوسط خروج مرکز | 174.796° | |||||||||
| میلان محوری |
|
|||||||||
| زاویہ عقدۂ صعودی | 48.331° | |||||||||
| استدلال طرف الشمس | 29.124° | |||||||||
| سیارچے | None | |||||||||
|
Physical characteristics
|
||||||||||
| Mean radius | ||||||||||
| Flattening | 0[6] | |||||||||
| Surface area |
|
|||||||||
| Volume |
|
|||||||||
| Mass |
|
|||||||||
| Mean density | 5.427 g/cm3[5] | |||||||||
| Equatorial surface gravity | ||||||||||
| Escape velocity | 4.25 km/s[5] | |||||||||
| Sidereal rotation period |
||||||||||
| Equatorial rotation velocity | 10.892 km/h (3.026 m/s) | |||||||||
| Axial tilt | 2.11′ ± 0.1′[7] | |||||||||
| North pole right ascension |
|
|||||||||
| North pole declination | 61.45°[3] | |||||||||
| Albedo | ||||||||||
| Surface temp. 0°N, 0°W [11] 85°N, 0°W[11] |
|
|||||||||
| Apparent magnitude | −2.6[9] to 5.7[3][10] | |||||||||
| Angular diameter | 4.5" – 13"[3] | |||||||||
|
Atmosphere[3]
|
||||||||||
| Surface pressure | trace | |||||||||
| Composition | ||||||||||
|
||||||||||
عطارد نظام شمسی کا پہلا اور سورج سے قریب ترین سیارہ ہے۔ یہ زمین کے مقابلہ میں ایک چھوٹا سیارہ ہے۔ درحقیقت یہ نظام شمسی کا سب سے چھوٹا سیارہ ہے جس کا خط استوا کا رداس 2439۔7 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی بیرونی سطح craters یعنی چھوٹے بڑے گڑھوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ سورج کے گرد ایک چکر 88 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔ عطارد اور زہرہ دونوں صبح اور شام کے ستارے لگتے ہیں، مگر عطارد کو دیکھنا زیادہ مشکل ہے۔ عطارد زمیں سے دیکھتے ہوئے درحقیقت کافی روشن نظر آتا ہے، مگر سورج کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کو دیکھنا کافی مشکل ہے۔ نیوٹن کے طریقے سے اس کا نکالا ہوا مدار اس کے اصل مدار سے کچھ مختلف تھا، اس فرق کو آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کے نظریہ کی مدد سے بیسوِیں صدی میں سمجھا گیا ہے۔
فہرست |
اندرونی ساخت[ترمیم]
اگرچہ عطارد سب سے چھوٹا سیارہ ہے مگر اس کی کثافت نظام شمسی میں صرف زمین سے کم ہے۔ اس کی کثافت 5٫247 گرام پر کیوبک سینٹی میٹر ہے۔ اس کی کثافت کی وجہ سے اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں کافی معلومات مل جاتی ہیں۔وہ اس طرح کے زمیں کی زیادہ کثافت ہونے کی وجہ کشش ثقل ہے، مگر چونکہ عطارد ایک بہت چھوٹا سیارہ ہے اس لیے اس کی کشش ثقل زمیں کے مقابلے میں بہت کم ہے اسی لیے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ عطارد کی زیادہ کثافت کی وجہ اس کا لوہے والا زمین سے بڑا مرکزہ ہے۔ ماہرین کے مطابق عطارد کا مرکزہ اس کے کل حجم کا 42 فیصد ہے جبکہ زمین کا مرکزہ اس کے حجم کا صرف 17 فیصد ہے۔ عطارد کے مرکزے میں لوہے کی مقدار نظام شمسی کے کسی بھی سیارے سے زیادہ ہے۔
درجہ حرارت[ترمیم]
چونکہ عطارد کی سطح پر کسی قسم کی فضا موجود نہیں اس لئے دن کے وقت اس کی سطح کا درجہ حرارت °427 تک پہنچ جاتا ہے اور رات کے وقت °183- تک گِر جاتا ہے۔ عطارد کا ایک ’سال‘ زمین کے 88 دنوں کے برابر ہے۔
تاریخ[ترمیم]
ایک امریکی خلائی جہاز مارینر 10 1970 کی دہائی میں عطارد کے بالکل پاس سے گزرا مگر عطارد کا صرف ایک طرف کا حصہ ہی نظر آسکا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس عطارد کی مکمل تصویر موجود نہیں۔ ایک اور امریکی خلائی جہاز میسجنر 17 مارچ 2011ء کو عطارد کے پاس سے گذرا اور انجن بند کرنے کے بعد اسے عطارد نے اپنے مدار میں کھینچ لیا۔ امید ہے کہ یہ جہاز عطارد کے بقیہ حصے کی تصاویر لے لے گا۔
حوالہ جات[ترمیم]
| نظام شمسی |
|---|
|
|
| سورج · عطارد · زہرہ · زمین · مریخ · مشتری · زحل · یورینس · نیپچون |
| بونے سیارے |
| پلوٹو · سیرس · ارس |
| دیگر اجرام فلکی |
| چاند · نجمیے · دم دار سیارے · کہکشاں · شہاب ثاقب · سحابیہ · اجرام فلکی کے فاصلے |
ِ