سورج گرہن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سورج گرہن

زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب، دورانِ گردش، چاند زمین اور سورج کے درمیان آجائے اور سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جائے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے چار سو گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط چاند کےمحیط سے چار سو گنا زیادہ ہے اس لیے یہ ممکن ہے کہ چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لے۔ بعض لوگ جن میں سائنسدان شامل ہیں، دور دراز سے سفر طے کر کے سورج گرہن کا مشاہدہ کرتے ہیں کیونکہ سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو آپ سال میں کئی دفعہ دیکھ سکتے ہیں۔ 1999 کا مکمل سورج گرہن جو یورپ میں دیکھا جا سکتا تھا، تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا سورج گرہن تھا۔ سورج گرہن کئی قسم کا ہو سکتا ہے۔

  • مکمل سورج گرہن
  • حلقی سورج گرہن
  • مخلوط سورج گرہن
  • جزوی سورج گرہن

یہ ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں زمین کے ایک حصے میں مکمل سورج گرہن ہو اور دوسرے حصے میں جزوی گرہن ہو۔

مکمل سورج گرہن[ترمیم]

1999 کا مکمل سورج گرہن

مکمل سورج گرہن اس وقت لگتا ہے۔ جب چاند کا فاصلہ زمین سے اتنا ہو کہ جب وہ سورج کے سامنے آئے تو سورج مکمل طور پر چھپ جائے۔ چونکہ چاند اور زمین کے مدار بیضوی ہیں اس لیے کے مدار چاند کا زمین سے فاصلہ بدلتا رہتا ہے اس لیے ہر دفعہ مکمل سورج گرہن نہیں لگتا۔ مکمل سورج گرہن کے وقت چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس میں سورج کے مکمل چھپ جانے کی وجہ سے نیم اندھیرا ہو جاتا ہے اور دن کے وقت ستارے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ زیادہ سے زیادہ ایک مقام پر سات منٹ چالیس سیکنڈ کے لیے ہو سکتا ہے مگر دورانیہ اکثر اس سے کہیں کم ہوتا ہے۔ 3000 قبل مسیح سے 5000 عیسوی تک کے 8 ھزار سالہ عرصہ کا سب سے لمبا مکمل سورج گرہن 16جولائی 2186 عیسوی کو لگے گا جو سات منٹ اور انتیس سیکنڈ کا ہوگا۔ مکمل سورج گرہن زمین پر بہت تھوڑے علاقے پر ایک وقت میں نظر آتا ہے۔ اور ایک ہی مقام پر دوبارہ 370 سال بعد ہی نظر آ سکتا ہے۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل سورج گرہن ھمیشہ نہیں ہوتے رہیں گے کیونکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہو تاکہ وہ سورج کی ٹکی کو مکمل طور پر چھپا سکے۔ افزائش مدوجزری کی وجہ سے چاند کا مدار ھر سال 3.8 سنٹی میٹر بڑھ جاتا ہے۔ ساٹھ کروڑ سال کے بعد چاند کا کم ترین فاصلہ زمین سے اتنا بڑھ جائے گا کہ کبھی مکمل سورج گرہن نہیں لگے گا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رہے کہ اتنے سال بعد سائنسدانوں کے مطابق سورج کا حجم بھی کچھ بڑھ چکا ہوگا۔ یوں مکمل سورج گرہن پھر کبھی نہیں ہو سکے گا۔

حلقی سورج گرہن[ترمیم]

حلقی(Annular) سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان میں آ جائے مگر اس کا فاصلہ زمین سے مکمل سورج گرہن سے نسبتاً زیادہ ہو۔ اس سے چاند کی جسامت زمین سے کم محسوس ہوگی اور وہ سورج کو مکمل طور پر چھپا نہیں سکتا۔ اس وقت اگر چاند سورج کے بالکل درمیان میں نظر آئے تو اس کا سایہ زمین پر پڑتا ہے اور ہمیں سورج کاصرف وہ حصہ نظر آئے گا جسے چاند نہیں چھپا رہا اور اس کی شکل ایک حلقہ کی طرح ہوگی۔ یوں سمجھئیے کہ روشنی کا ایک حلقہ نظر آئے گا جو بعض اوقات باریک ہوتا ہے اور بعض اوقات موٹا۔ ۔ بائیں ہاتھ پر دی گئی تصویر سے میں آپ ایک حلقی سورج گرہن دیکھ سکتے ہیں۔ سورج گرہن حلقی ہوگا یا مکمل، اس کا انحصار کئی عوامل پر ہے۔ مثلاً چاند کا زمین سے فاصلہ۔ چاند کا زمین سے فاصلہ افزائش مدوجزری کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے جس سے ایک وقت کے بعد مکمل سورج گرہن نظر نہیں آ سکے گا۔ مگر حلقی سورج گرہن کا امکان کچھ زیادہ عرصہ تک رہے گا۔

حلقی سورج گرہن میں چاند سورج کے آگے سے گذرتا ہوا

یہ صرف چاند کے زمین سے فاصلہ پر منحصر نہیں بلکہ زمین سے سورج کے فاصلے پر بھی منحصر ہے۔ جولائی میں جب زمین سورج کے گرد اپنے بیضوی مدار میں جنوری کی نسبت دور ہوتا ہے تو سورج کی جسامت زمین پر کم نظر آتی ہے چنانچہ مکمل سورج گرہن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جنوری میں جب زمین اپنے مدار میں سورج کے قریب ترین فاصلہ پر ہوتا ہے تو سورج نسبتا بڑا نظر آتا ہے اور چاند کے لیے اسے مکمل طور پر چھپانا مشکل ہوتا ہے چنانچہ حلقی سورج گرہن کا امکان زیادہ ہوگا۔ حلقی، مخلوط اور مکمل گرہنوں کو مرکزی گرہن بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ چاند تقریباً سورج کے بالکل درمیان آجاتا ہے۔ مرکزی گرہنوں میں سے ساٹھ فی صد کے قریب حلقی ہوتے ہیں۔ حلقی سورج گرہن مخلوط قسم کا بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی کہیں حلقی نظر آئے تو زمین کے کسی حصے پر مکمل بھی نظر آ رہا ہو۔

مخلوط سورج گرہن[ترمیم]

بعض اوقات سورج گرہن اس طرح لگتا ہے کہ دنیا کے بعض حصوں میں مکمل سورج گرہن نظر آتا ہے اور بعض حصوں میں حلقی۔ اسے مخلوط سورج گرہن(Hybrid Solar Eclipse) کہتے ہیں جو مرکزی سورج گرہن کی ایک اور قسم ہے۔۔ اس صورت میں حلقی سورج گرہن کا حلقہ بہت باریک ہوگا۔ مخلوط قسم کے سورج گرہن بہت کم ہوتے ہیں۔

جزوی سورج گرہن[ترمیم]

یکم اگست 2008 کا سورج گرہن پاکستان میں بھی نظر آئے گا۔ چاند کا سایہ پاکستان پر سے گذرے گا

جزوی سورج گرہن ایسی صورتحال کو کہتے ہیں جب دورانِ گرہن چاند سورج کے بالکل درمیان میں نہ نظر آئے بلکہ صفر جزوی طور پر سورج کو زمین والوں کی نظروں سے چھپا رہا ہو۔ یہ ممکن ہے کہ زمین کے ایک مختصر حصے پر تو مرکزی سورج گرہن ہو مگر ایک بڑے حصے پر جزوی گرہن نظر آئے جیسا کہ شروع میں دی گئی ایک تصویر میں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دورانِ گرہن کہیں بھی مرکزی گرہن نظر نہ آئے اور گرہن صرف جزوی ہو۔ زیادہ تر گرہن جزوی ہوتے ہیِں۔ جزوی سورج گرہن کو ننگی آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہوتا ہے۔ اس سے بصارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے لیے فلٹراستعمال کرنا چاہئے۔ صرف دھوپ کے چشمے کافی نہیں کیونکہ ان سے روشنی سے تو بچت ہوگی مگر زیریں سرخ شعائیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جزوی سورج گرہن کے دوران مکمل اندھیرا نہیں ہوتا۔

سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق[ترمیم]

کسی بھی چاند گرہن اور سورج گرہن میں 13.9 سے 15.6 دن کا فرق ہوتا ہے۔ عموماً چاند گرہن اسلامی مہینے کی 13، 14 یا 15 کو اور سورج گرہن اسلامی مہینے کی 28 یا 29 کو ہوتا ہے۔


سورج گرہن اور مذہب[ترمیم]

سورج گرہن کو قدیم و جدید سب مذاہب میں خدا کی نشانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بعض مذاہب اسے منحوس سمجھتے ہیں اور بعض کے نزدیک یہ خدا کے ناراض ہونے کی نشانی ہے۔ اسلام میں اس کی سائنسی حقیقت کو تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ سورج اور چاند خدا کے معین کردہ راستے پر چلتے ہیں اور گردش میں ہیں۔ مگر سورج گرہن کے بعد ایک نماز پڑھی جاتی ہے جسے صلوۃ کسوف یا نمازِ خوف یا نمازِ آیات کہا جاتا ہے۔ آیات یہاں نشانات کے معنی میں آتا ہے۔

اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن[ترمیم]

22 جولائی 2009ء کی تاریخ کا گرہن میں اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن ہے۔ اس کا دورانیہ ساڑھے پانچ گھنٹے ہے۔ یہ پاکستان، بھارت اور چین میں نظر آئے گا۔ اس قسم کا طویل سورج گرہن اس کے بعد 123 سال بعد 2132ء میں دیکھا جا سکے گا۔

بیرونی روابط[ترمیم]