لیونارڈو ڈا ونچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


لیونارڈو ڈا ونچی
Leonardo self.jpg
اصل نام لیونارڈو ڈی سر پیئرو ڈا ونچی
پيدائش 15 اپریل 1452ء
ونچی، فلورنس، اطالیہ
وفات 2 مئی 1519ء
امباؤیس، ٹورین، فرانس
قومیت اطالوی

لیونارڈو ڈی سر پِیئرو ڈا وِنچی اس آواز کے متعلق اطالوی تلفظ (انگریزی: Leonardo da Vinci، اطالوی: Leonardo di ser Piero da Vinci) نشاۃ ثانیہ کے ایک تسکانوی عالم، سائنسدان، حساب دان، مہندس، موجد، تشریحدان، مصّور، مجسمہ ساز، معمار، ماہر نباتیات، موسیقار اور مصنف تھے۔ لیونارڈو اکثر نشاۃ ثانیہ کے عظیم ہمہ دان اور ایک مِثلِ اولیٰ شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ اُنکا "ناقابِلِ اتفا تجسس" اور "ہیجان تخیل اِختراع" خوب سراہا جاتا ہے۔[1] ان کو عموماً دُنیا کے معروف ترین مصوّروں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یہ ایک جُداگانہ صلاحیّت کے حامِل شخص تصوّر کیے جاتے ہیں۔[2] معروف تاریخ دان ہیلن گارڈنر کے مطابق، ان کے مفادات کی گنجائش اور گہرائی بے مثال تھی اور "یہ ایک غَير مَعمُولی ذہن اور شخصیت رکھتے تھے جسکی وجہ سے یہ ایک پُر اِسرار اور بے واسطہ انسان ظاہر ہوتے تھے"۔[1] تاہم مارکو روشی بتاتے ہیں کہ اگرچہ لیونارڈو کے بارے میں زیادہ قیاس آرائی ہوتی رہتی ہے، دنیا کے بارے میں اُنکا اپنا تصور بنیادی طور پر پُر اِسرار نہیں بلکہ منطقی تھا اور یہ جو آخباخت طریقے استعمال کرتے تھے وہ اُس وقت کے اعتبار سے غیر معمولی تھے۔[3]

لیونارڈو ایک مُصدق، پیئرو ڈا ونچی، اور ایک کِسان عورت، کٹرینا، کے ہاں فلورنس کے علاقے ونچی میں پیدا ہوۓ۔ انہوں نے فلورنس کے معروف نقاش، ویروچیو, کی کارگاہ میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی ابتدائی پیشہ ورانہ زندگی میلان میں لوڈوویچو اِل مورو کی خدمت میں گزری۔ بعد میں اُنہوں نے روم، بلونیا اور وینس میں کام کیا۔ اپنی زندگی کے آخری کئ سال اُنہوں نے فرانس میں اپنے اُس گھر میں گزارے جو کہ اُنہیں فرانسس اول نے پیش کیا تھا۔

لیونارڈو کو بنیادی طور پر ایک نقاش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔[2] اُن کے کاموں میں مونا لیزہ سب سے مشہور ہے اور دنیا میں اس تصویر کی سب سے زیادہ نقل کی گئی ہے۔ تاہم، انکی تصویر آخری فسح، مذہبی مصّوری کا ایک عالمگیر نمونہ ہے اور اس کے سامنے صرف مائیکل اینجلو کی تصویر آدم کی تشکیل ہی اتنی شہرت کی حامل ہے۔[1]

زندگی[ترمیم]

انچیانو میں لیونارڈو کا گھر جہاں انکا بچپن گزرا
لیونارڈو کی سب سے قدیم ترین تصویر، وادی آرنو ہے، 1473ء میں بنائ گئی تھی - افّزي

بچپن، 1452ء تا 1466ء[ترمیم]

لیونارڈو 15 اپریل 1452ء کو "رات کے تیسرے پہر"،[4] ونچی کے تسکانوی پہاڑی علاقے میں پیدا ہوۓ۔ ونچی، فلورنس میں آرنو دریا کی ایک وادی ہے۔[5] یہ ایک رئیس مُصدق، پیئرو فروسینو ڈی انتونیو ڈا ونچی، اور ایک کسان عورت،[5] کٹرینا[6][7] کے غیر ازدواجی رشتے سے پیدا ہوۓ۔ چونکہ یہ ایک ناجائز اولاد تھے، لیونارڈو کو اپنے والد کا نام بطور آخری نام نہیں دیا گیا اور اس لیے انہیں تاریخ دان "ڈا ونچی" (یعنی "ونچی سے آنے والا") کا نام دیتے ہیں۔ لیونارڈو کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تھوڑا ہی معلوم ہے۔ عمر کے پہلے پانچ سال انہوں نے انچیانو کے گاؤں میں اپنی ماں کے گھر میں گزارے۔ 1457ء کے بعد سے وہ اپنے والد، دادا دادی اور چاچا، فرآنچسکو کے گھر میں رہے جو کہ ونچی کے چھوٹے شہر میں تھا۔

ان کے والد، پیئرو، نے بعد میں البیئرا نامی ایک سولہ سالہ لڑکی سے شادی کی۔ البیئرا نے لیونارڈو کو ماں کی کمی مہسوس نا ہونے دی اور ان سے بہت محبت کی۔ البیئرا کی نوجوانی میں ہی وفات ہوگئ[8] اور جب لیونارڈو سولہ سال کے ہوۓ تو ان کے والد نے دوبارہ شادی کر لی۔ اس بار یہ ازدواجی رشتہ انہوں نے ایک بیس سالہ فرینچسکا لانفرادینی کے ساتھ کیا۔ پیئرو کو اپنے جائز ورثاء چنانچہ دیگر تیسری اور چوتھی شادیوں سے ملے۔[9]

لیونارڈو نے لاطینی، ہندسہ، اور ریاضی میں ایک غیر رسمی تعلیم حاصل کی۔ بعد کی زندگی میں لیونارڈو نے صرف بچپن کے دو واقعات ہی زیر قلم کیے۔ ایک، جس میں انہوں نے ایک شگن کی مانند پتنگ کو آسمان سے گرتے دیکھا جس کی پونچھ ان کے چہرے کو چھوتی گزری۔[10] دوسرا واقع تب پیش آیا جب انہیں پہاڑوں میں ایک گفا ملی جس کو دیکھ کر انکا تجسس بڑھا بھی اور انہیں ڈر بھی لگا۔[8]

لیونارڈو کی ابتدائی زندگی پر تاریخی اعتبار سے کافی موضوع بہث ہوتی رہتی ہے۔[11] نشاۃ ثانیہ کے مشہور نقاشوں کے سوانح نگار، وساری، نے سولہویں صدی میں لیونارڈو کی زندگی کے چند واقعات بیان کیے۔ ایک واقعہ کے مطابق ایک مقامی کسان نے ایک گول ڈھال بنائ اور لیونارڈو کے والد پیئرو سے درخواست کی کہ وہ اس پر نقاشی کرا لیں۔ لیونارڈو کو جب یہ کام کرنے کے لۓ کہا گیا تو انہوں نے اس ڈھال پر ایک آگ پھونکتا درندہ بنا ڈالا۔ پیئرو نے یہ ڈھال لیکر فلورنس کے آرٹ ڈیلر کو بیچ ڈالی اور ایک اور ڈھال خریر لی جس پر ایک دل نقش تھا۔ انہوں نے وہ نئ ڈھال اس کسان کو واپس دے ڈالی۔ دریں اثنا، اس آرٹ ڈیلر نے لیونارڈو کی نقش کندہ ڈھال کو اچھے داموں میلان کے ڈیوک کو بیچ دی۔[2]

مسیح کا بپتسما، اذ ویروچیو اور لیونارڈو (1472ء تا 1475ء) - افّزي

ویروچیو کی کارگاہ، 1466ء تا 1476ء[ترمیم]

1466ء میں چودہ سال کی عمر میں، لیونارڈو نے نقاش انڈریا ڈی شیئون (جوکہ ویروچیو کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) کی کارگاہ میں شاگرد کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ یہ کارگاہ "فلورنس کا بہترین ترین کارگاہ" مانا جاتا تھا۔[حوالہ درکار] اس کارگاہ سے منسلک دیگر شاگردوں میں مشہور مصور ڈومانیکو گھرلانڈایو، پیروجینو، بوٹیچیلی اور لورینزو ڈی کریڈی شامل ہیں۔[حوالہ درکار] لیونارڈو کو یہاں نظریاتی تربیت اور تکنیکی مہارت کی ایک وسیع تعلیم ملی[حوالہ درکار] جہاں انہوں نے مسودہ تیار کرنا، کیمیاء، دھاتیات، کاسٹنگ، پلاسٹر سے سانچے بنانا، چمڑے کا کام کرنا، آلاتیات اور کارپینٹری سیکھی اور ساتھ ساتھ نقاشی، مصوری، مجسمہ سازی، اور ماڈلنگ میں بھی فنکارانہ مہارت حاصل کی۔

ویروچیو کی کارگاہ کی نقش ہوئی تصاویر زیادہ تر اس میں کام کرتے ملازمین ہی بناتے تھے۔ وساری کے مطابق، لیونارڈو نے ویروچیو کے ساتھ ایک تصویر پر تعاون کیا جسکا نام مسیح کا بپتسما تھا۔ لیونارڈو نے ایک جوان انسان نما فرشتے کو بنایا جس کے ہاتھ میں یسوع مسیح کی پوشاک تھی۔ ویروچیو نے جب لیونارڈو کی نقاشی دیکھی تو مان گۓ کہ انکا شاگرد اپنے استاد سے حد درجہ بہتر ہے اور ویروچیو نے پھر کبھی مصوری نہ کی۔

اس تصویر کے قریبی امتحان سے صاف واضح ہوتا ہے کہ تمپرا کی قدیم طرز عمل پر تیل کی پینٹ کی نئی طرزیات کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ اس بات کو صابت کرتی ہے کہ لیونارڈو اس نئ تکنیک کے کم عرصہ میں ہی ماہر ہو چکے تھے اور اس تصویر کی تزئین کو نۓ طور سے رنگنے لگے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ ویروچیو کے بناۓ ہوۓ مجسموں اور تصاویر کے لۓ بھی لیونارڈو نے ماڈلنگ کی، جن میں بارجیلو میں رکھا داؤد کا مجسمہ اور انکی بنائ تصویر ٹوبیس اور فرشتہ شامل ہیں۔ اس تصویر میں لیونارڈو نے فرشتہ اسرافیل کے لۓ ماڈلنگ کی۔[حوالہ درکار]

1472ء میں بیس سال کی عمر میں، لیونارڈو نے سینٹ لیوک کی گلڈ میں ایک ماہر فنکار کے طور پر اہلیپ حاصل کی۔ یہ فنکاروں اور ادویات کے ڈاکٹروں کی ایک گلڈ تھی۔ جب لیونارڈو کے والد نے اپنا ایک کارگاہ کھولی تو لیونارڈو نے ویروچیو کی ساتھ منسلک رہنے کا تہیہ کر لیا اور ان کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیونارڈو کی سب سے قدیم ترین تصویر جو انہوں نے خد اکیلے ہی قلم اور سیاہی کی مدد بنائ تھی، وادی آرنو کہلاتی ہے اور یہ 5 اگست 1473ء کو بنائ گئی تھی۔[حوالہ درکار]

پیشہ ورانہ زندگی، 1476ء تا 1513ء[ترمیم]

ورجن آف دی رؤکز، نیشنل گیلری، لندن - 1505ء تا 1508ء - یہ دنیاوی نوعیت میں لیونارڈو کی دلچسپی کا ثبوت ہے

فلورنس کی عدالت نے 1476ء میں لیونارڈو اور تین دیگر نوجوان مردوں پر ہم جنسی تعلقات کے حوالے سے سنوائی دی۔ لونڈیبازی کو بعد میں بری کر دیا۔ اس دن کے بعد سے 1478 تک، ان کے کام کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور نا ہی ان کے ٹھکانے کا۔ 1478ء میں انہوں نے ویروچیو کا کاخانہ چھوڑ دیا اور ساتھ ساتھ والد صاحب کے گھر پر رہائشی بھی چھوڑ دی۔ ایک مصنف، گادیانو کا دعوی ہے کہ انہوں نے 1480ء میں مدیچی خاندان کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا اور فلورنس میں پیازا سان مارکو کے باغیچوں میں کام کرنا شروع کیا جو کہ ایک فنکاروں، شاعروں اور فلسفیوں کی نو افلاطونی اکیڈمی تھی جس کی بنیاد مدیچی خاندان نے رکھی تھی۔ جنوری 1478ء میں انہوں نے اپنا پہلا آزاد کمیشن حاصل کیا جس میں انہیں ویکچو محل میں سینٹ برنارڈ کے چیپل کے لۓ ایک تصویر بنانے کا کہا گیا۔ پھر مارچ 1481ء میں انہوں نے سان دوناتو اے سکوپیٹو کے راہبوں کے لیے ایک تصویر بنائ جس کا نام مجوسیؤں کا شردقا تھا۔ دونوں اہم کمیشن پورے نہ ہو سکے؛ اس کام میں خلل تب پیدا ہوا جب لیونارڈو کو میلان جانا پڑا۔

وساری کے مطابق، لیونارڈو ایک بہت ہی باصلاحیت موسیقار بھی تھا۔[6] 1482ء میں لیونارڈو نے گھوڑے کے سر کی شکل میں ایک چاندی کا سازدان بنایا۔ لورنزو ڈی مدیچی نے لیونارڈو کو میلان بھیجا تاکہ تحفے کے طور پر میلان کے ڈیوک، لوڈوویچو ال مورو، کو یہ سازدان دے کر اسکے ساتھ امن کی خواہش کا اظہار کرے۔ تب لیونارڈو نے ایک خط کے ذریعہ لوڈوویچو کو بتایا کہ یہ اور بھی بہت کچھ بنا سکتے ہیں اور مصوری بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع کی نضاقت سمجھتے ہوۓ لوڈوویچو کو اپنی مہندس صلاحیت اور حیرت انگیز اور متنوع ایجادات کا بھی بتایا۔

لیونارڈو نے 1482ء سے 1499ء تک میلان میں کام کیا۔ انہوں نے مریم کے بیداگ حمل کے پیروکار برادری کے لیے ورجن آف دی رؤکز نامی تصویر نقش کی اور سانتا ماریا ڈیل گریجی کے خانقاہ کے لئے آخری فسح نامی تصویر بھی بنائ۔ 1493ء اور 1495ء کے دوران، لیونارڈو نے اپنے ٹیکس دستاویزات میں اپنے آشرتوں کے درمیان ایک کٹرینا نامی عورت کا نام درج کیا۔ جب وہ 1495ء میں مر گئی تو جنازے کے اخراجات کی فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عورت انکی ماں ہی تھیں۔

لیونارڈو، لوڈوویچو کیلئے کئی خصوصی مواقع پر احتمام اور تیاریاں کیا کرتے تھے۔ انہوں نے لوڈوویچو کیلئے میلان کے کیتھیڈرل کے گنبد کا ڈیزائن بھی تیار کیا اور لوڈوویچو کے پیشرو، فرینچسکو سفورزا، کو ایک بہت بڑا گھوڑے کا مجسمہ بھی بنا کر دیا جس کو بنانے کیلئے ستر ٹن کے کانسی سانچے کو بھی بنانا پڑا۔ کئی سال کے بعد بھی یہ مجسمہ نامکمل رہا۔ چیزوں کو ادھورا چھوڑنا تو جیسے لیونارڈو کی فطرت بن گئی تھی اور کیلیے یہ غیر معمولی نہیں تھا۔ آخرکار، 1492ء میں گھوڑے کی شکل میں مٹی کا یہ مجسمہ مکمل ہو ہی گیا۔ یہ نشاۃ ثانیہ کی دو بقیہ مجسموں سے سائز میں بڑا تھا، جن میں شامل ڈوناٹیلو کا بنایا مجسمہ گاتاملاتا جو کہ پادوا میں ہے اور ویروچیو کا مجسمہ بارتولیمیو کولیونی جو کہ وینس میں ہے۔ اس بنا پر لیونارڈو کے مجسمے کو لوگ عظیم گھوڑے کے نام سے جاننے لگے۔

لیونارڈو نے جب اپنے عظیم گھوڑے کے سانچے کی تفصیلی منصوبہ بندی شروع کی تو مائیکل اینجلو نے تنزیتا مزاق اڑا کر کہا کہ لیونارڈو اس کام کے قابل نہیں ہے۔ نومبر 1494ء میں لوڈوویچو نے لیونارڈو کی استعمال کردہ کانسی دھات کو چارلس VIII کے حملے کے خلاف ایک توپ بنانے میں صرف کر دیا تاکہ شہر کا دفاع ہو سکے۔

1499ء کی دوسری اطالوی جنگ کے شروع میں، حملہ کرنے والی فرانسیسی فوجیں نے عظیم گھوڑے کے مٹی کے مجسمے کو ہدف کی مشق کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا اور اسے بھسم کر دیا۔ لوڈوویچو سفورزا کا تخت راج جیسے ہی الٹا، لیونارڈو اپنے اسسٹنٹ صالائ اور ریاضی کے ماہر دوست، لوقا پاچیولی کے ساتھ میلان چھوڑ کر وینس فرار ہو گۓ جہاں انہوں نے ایک فوجی معمار اور مہندس کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور بحری حملوں سے شہر کے دفاع کے لیے طریقے ایجاد کرنے لگے۔

1500ء میں فلورنس واپسی پر انہیں گھر والوں سمیت سانتیسیما انونزیاتا کی خانقاہ پر راہبوں نے دعوت دی اور مہمان خصوصی بنایا۔ لیونارڈو کو راہبوں نے ایک کارگاہ بھی بنا کر دی جہاں بقول وساری، لیونارڈو نے ورجن اور بچہ، سینٹ این اور یوحنا بپتسمہ دینے والا کے سنگ نامی کارٹون بنایا۔ ان کے کام کی خوب تعریف ہوئی اور اس کارٹون نے لوگوں کے دل جیت لیۓ اور ہر "مرد اور عورت، نوجوان اور بوڑھا" اسے دیکھنے کے لئے آیا" اور خانقاہ میں ایک عظیم تہوار کا سا ہجوم امڑ پڑا۔

1502ء میں چسنا میں لیونارڈو نے پوپ الیگزینڈر VI کے بیٹے، چیزری بورجیہ، کی خدمت میں داخل ہو کر ایک فوجی معمار اور مہندس کے طور پر کام کیا اور ان کے سرپرست کے ساتھ اطالیہ بھر میں سفر کیا۔ لیونارڈو نے چیزری بورجیہ کی سرپرستی حاصل کرنے کے لئے ان کے مضبوط گڑھ ایمولا کا ایک نقشہ اور اس شہر کا منصوبہ تعمیر کیا۔ نقشہ جات اس وقت انتہائی نایاب تھے اور شہری سفارت کاری کا تصور نا تھا، اس نقشے کو دیکھ کر چیزری نے انہیں فوج کے چیف مہندس اور معمار کے طور پر نوکری دے دی۔ اسی سال، لیونارڈو نے اپنے سرپرست کے لیے تسکانہ کی چیانا وادی کا بھی نقشہ بنایا تاکہ سیزاری کو تسکانوی زمین کا ایک بہتر اور وسیع نظارہ پیش کر سکیں۔ نقشہ جات بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سمندر سے فلورنس میں کھلتی ایک ڈیم کا بھی تعمیراتی منصوبہ بنایا تاکہ تمام موسموں میں نہر کو پانی کی فراہمی برقرار رہے۔

لیونارڈو فلورنس کے لئے واپس آئے، جہاں وہ 18 اکتوبر 1503ء، کو سینٹ لیوک کی گلڈ میں دوبارہ شامل ہوۓ۔ یہاں انہوں نے فلورنس کی حکومت کے لئے ایک دیواری نقاشی کو بنانا شروع کیا جو اب جنگ انگھیاری کہلاتی ہے۔ اسے بنانے میں انکو دو سال لگ گۓ۔ مائیکل انجیلو نے اس نقاشی کا ساتھی ٹکڑا تیار کیا جسے جنگ کسینا کہتے ہیں۔ 1504ء میں فلورنس میں، لیونارڈو ایک تشکیل دی گئی کمیٹی کا حصہ بنے جسکا مقصد مایئکل انجیلو کے بناۓ مجسمے (داؤد کا مجسمہ) کو ہٹا کر منتقل کرنا تھا۔ مائیکل انجیلو اس بات سے ناخوش تھے اور اس فیصلے کے سخت خلاف بھی تھے۔

1506ء میں لیونارڈو میلان واپس گۓ۔ یہاں ان کے دیگر شاگرد یا مصّورانہ پیروکر انکی راہ دیکھتے تھے جن میں برنارڈینو لویئنی، جیووانی انتونیو بولترافیو اور مارکو ڈی اوگیونی شامل تھے۔ تاہم، لیونارڈو میلان میں زیادہ دیر تک نہیں رہ سکے کیونکہ ان کے والد کی 1504ء میں وفات ہو گئی۔ 1507ء میں لیونارڈو فلورنس گۓ تاکہ بھائیوں کے ساتھ اپنے والد کی جائداد کی بانٹ کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر سکیں۔ 1508ء میں لیونارڈو نے پھر میلان کا رخ کیا اور سانتا ببیلا کی ایک پیرش، پورٹا اوریئنٹالے میں اپنے ذاتی گھر میں رہنے لگے۔

کلؤ لوسے نامی گھر جہاں لیونارڈو نے آخری چند برس بتاۓ۔ ان کی موت یہاں ہی 1519ء میں واقع ہوئی۔

بڑھاپا، 1513ء تا 1519ء[ترمیم]

ستمبر 1513ء سے 1516ء تک، لیونارڈو ویٹیکن، روم میں بیلواڈیئر میں رہے جبکہ رافیل اور مائیکل انجیلو، دونوں اس وقت فعال طور پر کام کر رہے تھے۔ اکتوبر 1515ء میں، فرانس کے فرانسس اول نے میلان کو بازیاب کر لیا۔ چنانچہ جب 19 دسمبر 1515ء کو، لیونارڈو، فرانسس اول اور پوپ لیو دہم، کیساتھ بولونیا میں ایک اجلاس میں شریک ہوۓ تو فرانسس نے لیونارڈو سے ایک میکانکی شیر کی مانگ کر ڈالی جو کچھ چل کر نرگس کے پھول اپنی چھاتی میں لگی کھڑکی سے پیش کرے۔ 1516ء میں لیونارڈو فرانسس کی خدمت میں داخل ہوۓ اور انہیں بادشاہ کی رہائش گاہ، امباؤیس کی شاہی حویلی کے قریب کلؤ لوسے نامی گھر رہائش کیلیے دیا گیا۔ یہاں لیونارڈو نے زندگی کے آخری تین برس اپنے دوست اور شاگرد، جناب فرینچسکو میلزی، کے ساتھ گزارے۔ زندگی کے ان ادوار میں انکا سہارا انکی 10،000 سکودی دینار کی پنشن تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 ہیلن گارڈنر (1970)، مختلف ادوار کے فن۔ صص: 450 با 456۔
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 جیورجیو وساری (1568)، دیگر نقاشوں کی ذندگیاں۔ پینگوئن کلاسکس۔ صص: 258 با 259۔
  3. ^ مارکو روشی، لیونارڈو۔ ص: 8۔
  4. ^ رات کا تیسرا پہر عموما 22:30 بجے ہوتا تھا، دعاء مریم پڑھنے کے ٹھیک تین گھنٹے بعد-
  5. ^ 5.0 5.1 لیونارڈو کی پیدائش کا واقعہ اُن کے دادا سر انتونیو نے اپنی ڈائری میں درج کیا-اینجیلا اوٹینو ڈیلا چیسا، لیونارڈو ڈا ونچی کے دیگر نقائش کی فہرست۔ ص: 83۔
  6. ^ 6.0 6.1 ایلیسانڈرو ویزوسی (1997)، لیونارڈو ڈا ونچی: نشاۃ ثانیہ کی مِثل اولیٰ شخصیت۔
  7. ^ اینجیلا اوٹینو ڈیلا چیسا، لیونارڈو ڈا ونچی کے دیگر نقائش کی فہرست۔ ص: 83۔
  8. ^ 8.0 8.1 لیانا بورتولون (1967)، لیونارڈو کی زندگی اور ادوار۔ لندن: پال ہیملن۔
  9. ^ مارکو روشی (1977)، ص: 20۔
  10. ^ مارکو روشی (1977)، ص: 21۔
  11. ^ ہیو برگسٹوک (2001)، مغربی فن کا آکسفرڈ مطعلہ۔ آکسفورڈ، انگلستان: جامعہ آکسفورڈ۔
Salai as John the Baptist (c. 1514)—لووغ


مونا لیزہ or لا گایوکونڈہ (1503–1505/1507)—لووغ, Paris, France