مریم علیہا السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)

حضرت مریم علیہا السلام بنت عمران اللّٰہ کی برگزیدہ ہستی تھیں، انبیاء کے خاندان سے تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ تھیں۔ قرآن میں ایک پوری سورۃ (سورۃ مریم)ان کے نام سے موجود ہے۔ مریم علیہ السلام(عبرانی و آرامی מרים، یونانی Μαριαμ) عیسیٰ علیہ السلام جن كا لقب مسیح تھا کی والدہ ماجدہ تھیں۔ کیتھولک اور اورتھوڈوکس کلیسیاؤں کے علاوہ آپ کو اسلام میں بھی دیگر تمام انبیاء كی طرح نہایت ہی عقیدت اور احترام کی نگاہ کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ آپ وہ واحد خاتون ہیں جن کا نام قرآن میں درج ہے۔ حضرت مریم علیہ السلام فلسطین کے علاقے گلیل کے شہر ناصرت کی باشندہ تھیں۔ عیسائیت كی مذہبی كتاب (بائبل) کے مطابق آپ روح القدس کی قدرت سے بغیر کسی انسانی دخل کے حاملہ ہوئیں۔ بائبل کے عہد عتیق یا پرانے عہدنامے میں درج پیشگوئیوں میں بھی کنواری سے جنم کی نشاندہی کی گئی ہے جیسے کہ " دیکھو کنواری حاملہ ہوگی اور اس کو بیٹا ہوگا"۔ (اشعیاہ 7: 14)اور بقول موجودہ بائبل ، اس واقعے کے وقت آپ یوسف نامی شخص کی منگیتر بھی تھیں ( متى 20-1:18 ، لوقا 1:35)۔ اس جوڑے کے شادی کے بعد بھی تادمِ زیست کوئی جسمانی تعلقات نہیں تھے۔ اس نسبت سے مقدسہ مریم کو کنواری مریم، سدا کنواری اور ہمیشہ کنواری کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیكن اس كے باوجود بھی بائبل یوسف نامی اُس شخص كو عیسیٰ علیہ السلام كا باپ كہتی ہے جسكو بائبل مریم علیہ السلام كا منگیتر كہتی ہے۔ نیز متی اور لوقا میں مو جود نصب نامہ میں كافی تضاد كے بعد یوسف كو ہی حضرت عیسٰیؐ كا باپ بیان كیا جاتا ہے جبكہ یوسف كی متضاد ولدیت بھی بیان كی گئی ہے اور اُسے ایك جگہ پر یعقوب كا بیٹا جبكہ دوسری جگہ عیلی كا بیٹا بیان كیا گیا ہے۔ ِِِِِمتی ١:١٦ یوسف یعقوب كا بیٹا تھا۔ لوقا ٣:٢٣ یوسف عیلی كا بیٹا تھا۔ اسلام بھی اس بات كی شہادت دیتا ہے كہ حضرت مریم علیہ السلام ایک انتہائی شریف ، عفیفہ اور پارسا خاتون تھیں جو كہ ہر وقت اللّٰه تعالٰی كی عبادت میں مشغول رہتی تھیں اور اُن كو كسی مرد نے كبھی چُھوا تک نہ تھا۔ اور اُن كا بغیر كسی جنسی تعلّق كے حاملہ ہونا اللّٰه تعالٰی كا ایك بہت ہی بڑا معجزہ ہے۔ قران ہمیں بتاتا ہے كہ اللّٰه تعالٰی كا ایك عزیم المرتبت فرشتہ جبرائیل علیہ السلام ، اللّٰه كے حكم سے مریم علیہ السلام كے پاس آیا اور اُن كو بیٹے كی بشارت دی اور خالقِ كائنات كے حكم سے فرشتے نیں اُن میں رُوح پُھونك دی جس سے وہ بغیر كسی جسمانی ملاپ كے حاملہ ہوئیں جو كہ اللّٰه تعالٰی كی نشانیوں میں سے ایك نشانی تھی۔ جبكہ قران میں اللّٰه تعالٰی روح كو اپنا حكم بیان كرتے ہیں یعنی روح اللٰه كا حكم ہے اور یہ عیسٰیؑ كے علاوہ بھی ہر زندہ مخلوق میں موجود رہتا ہے اور جب تك یہ حكم ہمارے اندر موجود رہتا ہے ہم زندہ رہتے ہیں اور جب اللٰه تعالٰی اس حكم كو منسوخ كر دیتے ہیں یا روح كو واپس بُلا لیتے ہیں تو جسم مُردہ ہو جاتا ہے اور انسان فوت ہو جاتا ہے یہ روح كائنات كی ہر ذندہ شے میں تب تك موجود رہتی ہے جب تك كے خالق كائنات اُسے زندہ ركھنا چاہے۔


مسیحی روایات کے مطابق مقدسہ مریم کے والد کا نام یواقیم (دیگر تلفظات الیاقیم، یاقیم، ایلی یا عالی) اور والدہ کا نام حَنّا تھا۔ انجیل بمطابق لوقا میں درج شجرہ نصب دراصل مقدسہ مریم کا ہی شجرہ تصور کیا جاتا ہے۔

انجیل میں تذکرہ

مقدسہ مریم کے بارے میں نئے عہدنامے میں زیادہ معلومات درج نہیں ہیں۔ آپ کے والدین کا ہم کوئی ذکر نہیں پاتے۔ دیگر قدیم ذرائع کے مطابق آپ کے والد کا نام یواقیم اور والدہ کا نام حنّا تھا۔ آپ الیشبع (الیصبات) کی رشتہ دار تھیں جو کہ زکریا کی اہلیہ تھیں اور زکریا ہارون کے گھرانے سے تھے۔ تاہم کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ انجیلِ لوقا میں درج نسب نامہ کنواری مریم کا ہے جب کہ انجیلِ متی میں جنابِ یوسف کا۔ یوں آپ داوﺀد نبی کے گھرانے اور یہودہ کے قبیلے سے تھیں۔ آپ گلیل کے ناصرت میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھیں۔

فرشتے کا پیغام

منگنی کے بعد آپ پر فرشتہ جبرائیل رونما ہوئے اور خوشخبری سنائی کہ آپ مسیح موعود کی والدہ قرار پائیں ہیں۔ چنانچہ انجیلِ لوقا میں یوں مرقوم ہے۔

"اور چھٹے مہینے جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے جلِیل کے ایک شہر میں بھیجا گیا جس کا نام ناصرت تھا۔ داؤد کے گھرانے کی ایک کنواری کے پاس جو یوسف نامی ایک مرد سے بیاہی ہوئی تھی۔ اور اس کنوری کا نام مریم تھا۔ اور فرشتے نے اس کے پاس اندر آکر کہا۔ سلام اے پُرفضل۔ خداوند تیرے ساتھ ہے۔ تو عورتوں میں مبارک ہے۔ اور وہ اس کلام سے گھبراگئی اور سوچنے لگی۔ کہ یہ کیسا سلام ہے؟ اور فرشتے نے اس سے کہا۔ اے مریم نہ ڈر کیونکہ تو نے خدا کے نزدیک فضل پایا ہے۔ اور دیکھ تو حاملہ ہوگی۔ اور تیرا بیٹا ہوگا۔ اور تو اس کا نام یسوع رکھے گی۔ وہ بڑا ہوگا اور حق تعالٰی کا بیٹا کہلائے گا۔ اور خداوند خدا اس کے باپ داؤد کا تخت اسے دے گا۔ اور وہ یعقوب کے گھرانے میں ہمیشہ تک بادشاہی کرے گا۔ اور اس کی بادشاہی کا آخر نہ ہوگا۔ تب مریم نے فرشتے سے کہا یہ کس طرح ہوگا۔ جب کہ میں مرد سے ناواقف ہوں۔ اور فرشتے نے جواب میں اس سے کہا۔ روح القدس تجھ پر نازل ہوگا۔ اور حق تعالے کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالیگی اور اس سبب سے وہ قُدُّوس مولود خدا کا بیٹا کہلائے گا۔ دیکھ تیری رشتہ دار الیصابات کے بھی بڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور یہ اس کا جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے۔ کیونکہ خدا کی کوئی بات ہرگز بے قدرت نہ ہوگی۔ اور مریم نے کوا دیکھ میں خداوند کی بندی ہوں۔ میرے لئے تیرے قول کے مُوافق ہو۔" (لوقا 1: 21-35)

خدا کے فرشتے نے جنابِ یوسف کو بھی خواب میں آگہی دی کہ مریم روح القدس کی قدرت سے حاملہ ہوئیں ہیں اور کہا کہ مریم کو اپنی بیوی بنا لیں۔ مندرجہ بالا واقعہ اناجیلِ بمطابق مرقس اور یوحنا میں درج نہیں ہے۔

مقدسہ الیصابات سے ملاقات، نشیدِ شکرگذاری

جب فرشتے نے مقدسہ مریم کو یہ بھی آگاہی دی کے ان کی رشتہ دار الیصابات (الیشبع)، جو کے قبل ازیں بانجھ تھیں، بھی بچے سے ہیں اور انکو چھٹا مہینہ ہے تو یہ سن کے مقدسہ مریم کوہستان تی طرف روانہ ہو گئیں۔ مریم کو دیکھتے ہی الیصابات برملا چِلّا اٹھیں "تو عورتوں میں مبارک ہے اور تیرے بطن کا پھل مبارک ہے۔ اور میرے لئے یہ بات کیسے ہوئی کہ میرے خداوند کی ماں میرے پاس آئی۔ کیونکہ دیکھ ۔ جونہی تیرے سلام کی آواز میرے کان میں پہنچی۔ تو بچہ میرے بطن میں خوشی سے اچھل پڑا۔" (لوقا 1: 42-44) اسی خوشی اور اطمینان کی شکرگذاری مقدسہ مریم نے نشیدِ مریم کے ذریعے کی۔ دیکھئے لوقا 1: 46-55۔ تین ماہ بعد یعنی جنابِ یوحنا (یحیٰ علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد آپ اپنے وطن کو لوٹ آئیں۔

پیدائشِ مسیح

اسی زمانے میں قیصر اغسطس کا فرمان آیا کہ تمام سلطنت میں مردم شماری کرائی جائے۔ چنانچہ آپ جنابِ یوسف کے ہمراہ اُنکے جدی وطن بیت لحم کو روانہ ہو گئیں۔ بیت لحم میں آپ نے یسوع مسیح کو ایک چرنی میں جنم دیا۔ پیدائش کے بعد 'مشرق سے مجوسیوں' نے آکر خداوند یسوع کی تعظیم کی اور بیابان کے چرواہوں نے سجدہ کیا۔

ہجرتِ مِصر اور مراجعتِ بہ ناصرت

جب شاہ ہیرودیس نے یہ فرمان جاری کیا کہ دو سال سے کم عمر ہر لڑکے کا قتل کر دیا جائے پاک خاندان مصر کو روانہ ہو گیا۔ مصر سے واپسی پر پاک خاندان ناصرت میں آ بسا۔ دیکھئے متی 2: 16-20۔ خداوند یسوع مسیح کی اعلانیہ زندگی سے قبل جنابِ یوسف رحلت فرماگئے تھے۔

دیگر حالاتِ زندگی

آپ خداوند یسوع مسیح کے پہلے معجزے یعنی قانائے گلیل کے معجزے کے موقعے پر موجود تھیں۔ عیسائی روایات کے مطابق یسوع مسیح کی تصلیب کے وقت آپ صلیب کے تلے موجود تھیں۔ صلیب سے اتارے جانے کے بعد آپ نے خداوند یسوع مسیح کو اپنی گود میں لیا۔ بعدازیں مسیح یسوع کے حکم کے مطابق یوحنا رسول نے آپ کی دیکھ بھال کا ذمہ لیا اور اپنے گھر لے گئے۔

"اعمالِ رُسُل" کی کتاب کے مطابق آپ عیدِ خمسین (پینتیکوست) کے دن تقریبا 120 شاگردانِ مسیح کے ساتھ موجود تھیں۔ اس کے بعد بائبل میں ہمیں مقدسہ مریم کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ کتاب مقدس میں آپ کی موت کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

القاب

• مقدسہ مریم کے عمومی ترین القاب یہ ہیں : • مقدسہ کنواری مریم (انگریزیThe Blessed Virgin Mary ، عربی العذراء المبارکہ)، • ہماری خاتون (عربی سیدتنا، انگریزی Our Lady، فرانسیسی Notre Dame، ہسپانوی Nuestra Señora، پرتگالی Nossa Senhora، اطالوی Madonna ، لاطینیNostradamus)، • اللہ واحد کی نیک بندی


•آپ چونکہ ایک نیک خاتون تھی اس لئے محمد (ص) نے انکو بڑی درجے رکھنی والی عورتوں میں بتایا

• مریم علیہا السلام کو حوّا ثانی یعنی دوسری حوّا بھی کہا جاتا ہے اور یہ اس لیے کہ جس طرح پہلی حوا نے شجرِ ممنوعہ سے پھل کھا کر نافرمانی کا ثبوت دیا تھا اس کے عیں برعکس دوسری حوا یعنی مقدسہ مریم نے " میرے لئے تیرے قول کے مؤافق ہو" یہ الفاظ کہہ کر فرمانبرداری کی تاریخ رقم کی اور آپ ہی کی بدولت انسانیت کی خلاصی کا خدائی منصوبہ پایہﺀ تکمیل کو پہنچا۔

مقدسہ مریم در فنون مصوری و مجسمہ سازی

صدیوں سے فنکار فنِ مصوری اور فنِ مجسمہ سازی کے ذریعے آپ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ مسیحی آرٹ میں سب سے مقبول ترین تِھیم ' العذراء مع الصبی' یعنی Virgin with the Child ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی شبیہات میں فرشتے کی بشارت کا منظر نہایت خوبصورتی سے کھینچا گیا ہے۔ دیگر مقبول شبیہات میں Pietà اور عروجِ مریم کے روح پرور مناظر شامل ہیں۔


قرآن میں تذکرہ

قرآن میں ایک پوری سورۃ حضرت مریم علیہ السلام کے نام سے موجود ہے جس کی آیات سولہ تا چھتیس میں آپ کا تذکرہ ہے۔ اس کے علاوہ مختلف جگہ پر تذکرہ ہے۔ قرآن کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے برگزیدہ نبی تھے اور حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے تھے جبکہ حضرت مریم علیہ السلام کنواری تھیں۔ قرآن نے حضرت مریم علیہ السلام کی پاکیزگی کی گواہی دی ہے۔ قرآن میں آپ کا تذکرہ نام لے کر درج ذیل آیات میں ملتا ہے۔

  • (آل عمران آیات 45,44,43,42,37,36 )
  • ( سورۃ مریم آیات 36 تا 16 )
  • (التحریم آیت 12)

اس کے علاوہ بیس مقامات پر بطور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے ان کا نام ملتا ہے۔


سورۃ مریم میں تذکرہ

اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ کتاب (قرآن مجید) میں مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیجئے، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (عبادت کے لئے خلوت اختیار کرتے ہوئے) مشرقی مکان میں آگئیں پس انہوں نے ان (گھر والوں اور لوگوں) کی طرف سے حجاب اختیار کر لیا (تاکہ حسنِ مطلق اپنا حجاب اٹھا دے)، تو ہم نے ان کی طرف اپنی روح (یعنی فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا سو (جبرائیل) ان کے سامنے مکمل بشری صورت میں ظاہر ہوا (مریم علیہا السلام نے) کہا: بیشک میں تجھ سے (خدائے) رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو (اللہ سے) ڈرنے والا ہے (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے: یہ (کام) مجھ پر آسان ہے، اور (یہ اس لئے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنادیں، اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہے پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہوکر دور ایک مقام پر جا بیٹھیں پھر دردِ زہ انہیں ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، وہ (پریشانی کے عالم میں) کہنے لگیں: اے کاش! میں پہلے سے مرگئی ہوتی اور بالکل بھولی بسری ہوچکی ہوتی پھر ان کے نیچے کی جانب سے (جبرائیل نے یا خود عیسٰی علیہ السلام نے) انہیں آواز دی کہ تو رنجیدہ نہ ہو، بیشک تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے (یا تمہارے نیچے ایک عظیم المرتبہ انسان کو پیدا کر کے لٹا دیا ہے) اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ وہ تم پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گا سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو، پھر اگر تم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمان کے لئے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہوئی ہے سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گی پھر وہ اس (بچے) کو (گود میں) اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آگئیں۔ وہ کہنے لگے: اے مریم! یقیناً تو بہت ہی عجیب چیز لائی ہے اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدچلن تھی تو مریم نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کیا، وہ کہنے لگے: ہم اس سے کس طرح بات کریں جو (ابھی) گہوارہ میں بچہ ہے (بچہ خود) بول پڑا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے اور میں جہاں کہیں بھی رہوں اس نے مجھے سراپا برکت بنایا ہے اور میں جب تک (بھی) زندہ ہوں اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور اس نے مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا یہ مریم (علیہا السلام) کے بیٹے عیسٰی (علیہ السلام) ہیں، (یہی) سچی بات ہے جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیں یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ (کسی کو اپنا) بیٹا بنائے، وہ (اس سے) پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے: ”ہوجا“ بس وہ ہوجاتا ہے اور بیشک اللہ میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے سو تم اسی کی عبادت کیا کرو، یہی سیدھا راستہ ہے

مزید دیکھیے