انصار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مدینے کے وہ مسلمان جنہوں نے ہجرت کے بعد رسول اللہ صلم اور مکے سے آنے والے مسلمان مہاجرین کی مدد کی۔ انصار و مہاجرین کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور لوگوں کو ان کے اتباع کی تلقین کی گئی ہے۔

مدنی زندگی میں اگرچہ مسلمانوں کی یہ دو تقسیمیں تھیں۔ مگر رسول اللہ نے ابتدا ہی سے ان میں بھائی چارہ کرا دیا تھا۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد انصار نے چاہا کہ خلافت رسول انھیں ملے مگر حضرت عمر کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا اور لوگوں نے حضرت ابوبکر کو خلیفہ منتخب کر لیا۔ غزوہ بدر سے پہلے جب حضور نے صحابہ کرام کو مشورے کے لے جمع کیا تو مہاجرین نے جان نثارانہ تقریریں کیں۔ اس کے بعد حضور نے انصار کی طرف دیکھا۔ کیونکہ ان سے معاہدہ تھا کہ وہ صرف اس وقت تلواریں اٹھائیں گے جب دشمن مدینہ پر چڑھ آئیں گے۔ سعد بن عباد سردار بنو خزرج نے کہا کہ آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں‌ کود پڑیں۔ حضرت مقداد نے کہا کہ ہم حجرت موسی کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے آپ اور آپ کاخدا لڑیں۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم تو آپ کے داہنے سے ، بائیں سے ، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے۔