ابلیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ابلیس کا اسم ذات۔ عبرانی لفظ ہے مگر اہل عرب اسے بلس سے ماخوذ کہتے ہیں جس کے معنی ناامید ہونے کے ہیں۔ چونکہ ابلیس کو اللہ سے کوئی امید نہیں رہی اس لیے ابلیس کہلایا۔ اسے شیطان اور عدو اللہ ’’خدا کا دشمن‘‘ بھی کہتے ہیں۔ قرآن اس کا ظہور ابتدائے عالم سے بتاتا ہے۔ اس نے آدم اور حوا کو بہکایا اور شجر ممنوعہ کے کھانے کی اس لیے ترغیب دی کہ وہ کہیں ہمیشہ جنت میں ہی نہ رہیں۔ جب اللہ نے آدم میں روح پھونکی تو حکم دیا کہ تمام فرشتے اُسے سجدہ کریں۔ سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم خاک سے۔ اس پر راندہ درگاہ کر دیا گیا۔ اس نے اللہ سے قیامت کے دن تک کی مہلت طلب کی جو دے دی گئی اور لوگوں کو بہکانے کی طاقت بھی دے دی گئی۔

بائبل میں بھی یہ قصہ قریب قریب اسی طرح مذکور ہے۔ علامہ زمخشری اسے جن مانتے ہیں۔ کیونکہ قرآن میں ہے۔ کان من الجن ’’وہ جن تھا‘‘ مگر بہت سے علما اسے فرشتہ مانتے ہیں۔ اور بعض علما نے یہ بھی کہا کہ جن بھی فرشتوں میں شامل تھے جو جنت کے محافظ تھے۔ مگر جن نارسموم سے پیدا کیے گئے۔ اور فرشتے نور سے تخلیق ہوئے۔ ابتدا میں جن زمین پر رہتے تھے۔ وہ آپس میں لڑنے لگے تو اللہ نے ابلیس کو ان کے پاس بھیجا۔ بعض روایات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابلیس ارضی جنات سے تھا۔ ’’تفسیر طبری میں اس پر تفصیلی بحث ہے۔ دیکھیے جلد اول صفحہ 83‘‘ انجام کار شیطان اور اس کے ساتھیوں کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ وہ اپنے دوستوں سے کہے گا کہ تم پر لعنت ہو ۔ اب تم سدا جہنم میں رہو۔ شیطان ابتائے آدم کو بہکانے میں مشغول رہتا ہے ۔ مگر نیک بندوں پر اس کا بس نہیں چل سکتا۔ سورہ 34۔20‘‘

قرآن میں سب سے پہلے اس کا ذکر سورۃ بقر کے تیسرے رکوع میں آتا ہے۔ جہاں ابتدائے آفرینش اور سجدہ آدم کا ذکر ہے۔ ابتدائے آفریشن کے بیان میں اسے ابلس اور دوسرے مقامات پر شیطان کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ لیکن قرآن پاک میں شیطان کی جمع بھی آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پورا گروہ ہے۔ قرآن مں طاغوت بمعنی شیطان بھی جگہ جگہ آیا ہے۔