آسیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

آسیہ بنت مزاحم رحمہا اللہ علیہ السلاممصر کے بادشاہ فرعون کی بیوی تھیں۔ بہت پارسا اور ہمدرد خاتون تھیں۔ جب حضرت موسٰی علیہ السلام پیدا ہوئے تو ان کی والدہ صاحبہ نے انہیں ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں بہا دیا۔ تاکہ فرعون کو پتہ نہ لگ جائے اور وہ انہیں قتل نہ کر دے۔ جب یہ صندوق فرعون کے محل کے قریب پہنچا تو آسیہ نے صندوق کو دیکھ کر اسے دریا سے باہر نکلوا لیا۔ پیارا ننھا بچہ نظر آیا تو بڑی محبت سے اس کی پرورش کی۔

آسیہ فرعون سے اپناایمان مخفی رکھتی تھی اوربعد میں اسے اس کے متعلق علم ہوگیا تھا۔ ان کے بارے میں بعض نصوص اور ان کی شروحات والتفسیر پیش خدمت ہے :

1 - فرمان باری تعالٰی ہے :

"اللہ تعالٰی نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی ہے کہ جب اس نے کہا اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا ، اورفرعون اوراس کے عمل سے نجات نصیب فرمااورمجھے ظالموں کی قوم سے بھی نجات عطا فرما۔ التحریم ( 11 )

2 - ابوموسی رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مردوں میں سے توبہت سے درجہ کمال تک پہنچے لیکن عورتوں میں سے سواۓ فرعون کی بیوی آسیہ اورمریم بنت عمران کے کوئی اورعورت درجہ کمال تک نہیں پہنچی، اورعائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا کی باقی سب عورتوں پرفضيلت اسی طرح ہے کہ جس طرح ثرید باقی سب کھانوں پرافضل ہے۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3230 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2431 ) ۔

3 – ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں لگائيں اورفرمانے لگے:

کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضي اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوزيادہ علم ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جنتی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد اورفاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران رضي اللہ تعالٰی عنہن اجمعین ہیں۔ مسنداحمد حديث نمبر ( 2663 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالٰی نےصحیح الجام (1135) میں اسے صحیح قراردیا ہے ۔

4 - انس رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

آپ ک و( کمال کے اعتبارسے ) دنیا کی سب عورتوں سے مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد اورفاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور فرعون کی بیوی آسیہ ( رضي اللہ تعالٰی عنہن ) کافی ہیں ۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 3878 ) امام ترمذي رحمہ اللہ تعالٰی نے اسے صحیح قراردیا ہے ۔

5 - حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالٰی کہ کہنا ہے :

فرعون کی بیوی آسیہ علیہ السلام کے فضائل میں سے ہے کہ انہوں نے دنیا کی ان نعمتوں کے بدلے میں جس میں وہ تھیں دنیا کے عذاب وتکالیف اوربادشاہی کے بدلے میں قتل ہونا اختیارکرلیا، اور ان کی موسی علیہ السلام کے متعلق فراست سچی تھی جب انہوں نے موسی علیہ السلام کے بارے میں ( ان کو دریا سے نکالتے ہوئے ) یہ کہا یہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ فتح الباری ( 6 / 448 ) ۔

بیرونی روابط[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=آسیہ&oldid=786392’’ مستعادہ منجانب