قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الادریسی کا نقشہ عالم (بارہویں صدی)۔ واضح رہے کہ جنوب اوپر کے جانب ہے۔
المسعودی کا اطلس عالم
نقشہ بحر ہند اور چینی سمندر جسے 1728ء میں ایک ہنگری نژاد عثمانی نقشہ ساز اور ناشر ابراہیم متفرقہ نے تیار کیا تھا۔

قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی سے مراد جغرافیہ، ترسیم کشی اور زمینیات کے میدان میں وہ ترقی اور پیشرفت جو مسلم سائنس دانوں کے جانب سے قرون وسطی میں ہوئی تھی اور یہ پیشرفت بجا طور پر ان میدانوں میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔

خلافت عباسیہ کی زیر سرپرستی آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم سائنس دانوں نے اس میدان میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ان مسلم سائنس دانوں میں الخوارزمی، ابو زید البلخی (بانی بلخی مکتبہ فکر) اور ابو ریحان البیرونی کافی مشہور ہوئے۔ بارہویں صدی میں محمد الادریسی نے اسلامی جغرافیہ انتہائی عروج پر پہونچا دیا۔ اس کے بعد ترک بالخصوص عثمانی سلطنت کے دور اقتدار میں مسلم سائنس دانوں محمود کاشغری اور پیری رئیس وغیرہ نے اس میدان میں کافی گرانقدر خدمات انجام دیں۔


Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔