سلوقی سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سلوکیSeleucids سکندر کی موت کے بعد یونانیوں کی کونسل نے سلوکس کو بابل کا حکمران منتخب کیا، جو خود کو نکوٹار Nocoter فاتح کہتا تھا۔ کیوں کہ اس نے مصر کے یونانی حکمران بطلیموس Ptoarmy کی مدد سے شام فتح کرلیا بلکہ اس نے ایران کارخ یا اور اسے فتح کرکے مشرقی علاقوں کو اپنے تسلط میں لے آیا اور نو سال کی جدوجہد کے بعد 302 ؁ ق م میں اس کی حکومت سیر دریا کے کنارے سے پنجاب تک پھلی ہوئی تھی، جس کی مشرقی حدود برصغیر سے ملتی تھی۔ (پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 217 تا 219) سلوکس نے اب ہند پر چڑھائی کرنی چاہی، کیوں کہ قدرتاََ اس کے دل میں خواہش تھی کہ اپنے آقا کی ہندی مقبوضات اپنے قبضہ میں لے لے۔ اس کے لئے اس نے 305 ؁ ق م میں ہندو پاک کی طرف قدم بڑھایا اور سکند کے مقبوضہ علاقے فتح کرنے کی کوشش کی، مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پنجاب کی سرزمین پر چندر گپت سے شکست کھانے کے بعد ایک شرمناک معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ جس کے تحت وہ نہ صرف ہندی مقبوضات سے بلکہ کابل، قندھار، ہرات، اور بلوچستان سے بھی دستبردار ہوگیا۔ نیز تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لئے اس نے اپنی بیٹی کی شادی چندر گپت سے کردی۔ اس نے اپنا ایک سفیر میگھستینزMaghasthenes کو چندر گپت کے دربار بھیجا۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 297) چندر گپت نے اس کی بات رکھنے کے لئے محض پانسو ہاتھیوں کا تحفہ بھیجا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔ 104) سکندر کے زمانے سے باختر یونانیوں کی نوآبادی تھی۔ سلوکس نے چندر گپت سے شکست کھانے کے بعد جو شرمناک معاہدہ کیا تھا، اس سے بلخ کے یونانیوں کو خدشہ تھا کہ چندر گپت بلخ فتح کرنے کے لئے پیش قدمی کرے گا، اس لئے باختریہ کے یونانیوں نے سلوکیوں کے خلاف بغاوت کردی۔ (پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 234) انطیوکس اعظم Antiochus The Garet (223 تا 187 ق م) نے ایک طویل مقابلے کے بعد باختریہ کی خود مختیاری تسلیم کرلی۔ (ڈاکٹرمعین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔ ۰۴۱) پارتھیا ایک سردار اشک نے سلوکی خاندان سے بغاوت کر کے سمر قند سے مرو تک کا علاقہ آزاد کرالیا تھا۔ کچھ عرصہ تک دونوں کی حکومتیں متوازی چلتی رہیں اور دونوں کے درمیان جنگ و پیکار کا سلسلہ جاری رہا۔ سلوکس حکمران انطیوکس اعظم یا انطوکس سوم Antiochus The Garat or Antiochus 3ed نے اشکانی فرمانروا ارشک سوم Arsaces 3ed کو شکست دے کر اس کے پایہ تخت پر قبضہ کرلیا، مگر زیادہ دن تک تسلط قائم نہیں رکھ سکا اور پارتھیوں کی قزاقانہ یعنی گوریلا جنگ سے تنگ آکر مجبوراََ اس نے صلح کرلی اور اشک کو پارتھیا کا بادشاہ تسلیم کرلیا اور ہمدان کا علاقہ جس پر اس نے قبضہ کر لیا تھا واپس کردیا۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 75۔76) اس دوران سلوکیوں میں تخت نشینی کے لیے آپس میں خانہ جنگی چھڑ گئیں۔ ارشک ششم یا مہرداد اول نے اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینا خوزستان، پارس اور بابل پر قبضہ کرلیا، نیز سلوکی فرمانروا دمیترس دوم Demetius 2edکو گرفتار کر لیا، جس کے بعد ایران سے سلوکی حکومت عملی طور پر ختم ہوگئی، پھر بھی چھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۷۷) 139 ؁ ق م میں دمیترس دوم Demetius 2ed کی گرفتاری کے بعد سلوکس ہفتمSelecus 7th نے ایک بڑی فوج کے ساتھ ایران کی طرف بڑھا اور فرہاد دوم سے تین کامیاب جنگوں کے بعد آرمینا، سلوکیہ اور بابل پر قابض ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انطیوکس اعظم کی تاریخ دہرائی جائے گی اور اشکانی اطاعت کے لئے مجبور ہوں گے۔ فرہادبھی اپنی کمزوری محسوس کرتے ہوئے مصالحت کی کوشش کیں۔ مگر انطیوکس نے مصالحت کے لئے ایسی سخت شرائط رکھیں کہ فرہاد منظور نہ کرسکا اور مجبوراََ جنگ پر آمادہ ہوگیا۔ آخر ہمدان کے قریب سلوکیوں اور اشکانیوں کی فیصلہ کن جنگ ہوئی، جس میں انطیوکس ماراگیا۔ اس کے ساتھ ایران سے یونانی حکومت ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی اور سلوکی صرف شام تک محدود ہوگئے۔ آخر 64 ؁ ق م میں رومیوں نے شام کا الحاق اپنی سلطنت سے کرکے سلوکیوں کا نام و نشان مٹادیا۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 77۔ 78) ( معین انصآری ) {تاریخ ایران}}