آل طاہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آل طاہر
طاهریان
[[عباسی خلفاء|]]
۸۲۱ء–۸۷۳ء [[آل صفاریان|]]
وہ صوبے جس پر آل طاہر نے حکومت کی
دارالحکومت مرو, بعد میں نیشاپور
زبانیں فارسی زبان[1]
عربی زبان
مذہب اہل سنت
حکومت امارات
امیر
 - ۸۲۱ء طاہر بن حسین
تاریخی دور مشرقی وسطی
 - قیام ۸۲۱ء
 - اختتام ۸۷۳ء
Warning: Value specified for "continent" does not comply
تاریخ ایران

آل طاہر (فارسی: سلسله طاهریان) 821ء سے 873ء تک شمال مشرقی ایرانی علاقے خراسان پر حکومت کرنے والا ایک خاندان تھا جس کی حکومت میں موجودہ ایران، افغانستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے علاقے شامل تھے۔ طاہری حکومت کا دارالحکومت نیشا پور تھا۔

حالانکہ یہ خاندان عباسی خلافت کو تسلیم کرتا تھا لیکن در حقیقت طاہری آزاد تھے۔ اس حکومت کا بانی طاہر ابن حسین تھا جسے عباسی خلیفہ مامون الرشید نے خراسان کا مستقل والی مقرر کیا تھا۔ متوکل باللہ کے انتقال کے بعد اس حکومت نے خود مختاری حاصل کرلی تھی۔

طاہری خاندان کے حکمرانوں میں طاہر کے صاحبزادے عبد اللہ نے اپنی سخاوت، تدبر اور دانش مندی اور رعایا پروری کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل کی۔ عبد اللہ بن طاہر اپنے کارناموں کے لحاظ سے برامکہ سے کسی طرح کم نہ تھا۔

طاہری حکومت کو عباسی خلافت سے آزاد ہونے والی پہلی ریاست سمجھا جاتا ہے۔ 873ء میں صفاریوں نے اس حکومت کا خاتمہ کر دیا۔


آل طاہر کے حکمران[ترمیم]

طاہریوں میں درج ذیل حکمران گذرے ہیں:

نام دورِ حکومت
طاہر بن حسین ۸۲۱ء تا ۸۲۲ء
طلحہ بن طاہر ۸۲۲ے تا ۸۲۸ء
عبد اللہ بن طاہر ۸۲۸ء تا ۸۴۵ء
طاہر ثانی ۸۴۵ء تا ۸۶۲ء
محمد خراسانی ۸۶۲ء تا ۸۷۳ء
بغداد کے گورنر
طاہر بن حسین ۸۲۰ء-۸۲۲ء
اسحاق ابن ابراہیم ۸۲۲ء-۸۴۹ء
محمد ابن اسحاق ابن ابراہیم ۸۴۹ء-۸۵۰ء
'عبدﷲ ابن اسحاق ۸۵۰ء-۸۵۱ء
محمد ابن عبدﷲ ۸۵۱ء-۸۶۷ء
'عبیدﷲ ابن عبدﷲ ۸۶۷ء-۸۶۹ء
سلیمان ابن عبدﷲ ۸۶۹ء-۸۷۹ء
عبیدﷲ ابن عبدﷲ (دوبارہ) ۸۷۹ء-۸۸۴ء
محمد خراسانی ۸۸۴ء-۸۹۰ء
عبیدﷲ ابن عبدﷲ (دوبارہ) ۸۹۰ء-۸۹۱ء

حوالہ[ترمیم]

  1. ^ Bosworth, C. E. (1975), "The Tahirids and Saffarids", in Frye, R. N., The Cambridge History of Iran, Volume 4: From the Arab Invasion to the Saljuqs, Cambridge, UK: Cambridge University Press, p. 91.