اندلس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الاندلس اور عیسائی مملکتیں، 1000ء
غرناطہ, الاندلس میں اسلامی دور کا ایک باغیچہ

الاندلس (انگریزی زبان: Al-Andalus, عربی زبان: الأندلس, کلمہ نویسی al-ʼAndalus; ہسپانوی زبان: Al-Ándalus; پرتگالی زبان: Al-Andalus; اراغونی: Al-Andalus; کٹالا زبان: Al-Àndalus; بربر: Andalus یا Wandalus) یورپ میں موجود ایک سابقہ مسلم ریاست تھی جو ہسپانیہ، پرتگال اور جدید فرانس پر مشتمل تھی، جسے مسلم ہسپانیہ (Muslim Spain) یا اسلامی آئبیریا (Islamic Iberia) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ریاست جزیرہ نما آئبیریا کے علاقے میں تھی۔

فتح اندلس کے بعد اندلس کو پانچ انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جو کہ تقریبا جدید دور کے اندلوسیا، گالیسیا اور پرتگال، قشتالہ اور لیون، اراغون اور پانچویں سبتمانیا پر مشتمل تھی۔ [1]

خلافت امویہ کے خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں یہ خلافت امویہ کا ایک صوبہ تھا۔ 756ء میں امارت قرطبہ کے قیام پر عبد الرحمٰن الداخل یہاں کا امیر بنا۔ 929ء میں عبدالرحمن الثالث نے خلافت سے علیحدہ ہر کر خلافت قرطبہ کے اعلان کے بعد خلیفہ بنا۔

تاريخ[ترمیم]

خلافت کا صوبہ[ترمیم]

اصل مضمون: فتح اندلس

خلافت امویہ کے خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں بربر جرنیل طارق بن زیاد کی قیادت میں اموی افواج 30 اپریل، 711ء کو جبل الطارق کے مقام پر اتریں۔ 19 جولائی، 711 کو لذريق جنگ لکہ میں شکست فاش دی۔ بعد میں عرب النسل موسٰی بن نصیر نے بھی شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے مملکت مغربی گوتھ کا زیادہ تر حصہ فتح کر لیا۔ اسکے بعد کوہ پائرینیس کو عبور کرنے کے بعد مغربی گوتھ کے علاقے سبتمانیا جو کہ جنوبی فرانس میں واقع ہے پر قبضہ کر لیا۔ جزیرہ نما آئبیریا کا زیادہ تر حصہ خلافت امویہ کے تحت الاندلس کے نام سے بطور صوبہ آ گیا، جس کا دارالحکومت قرطبہ تھا۔

تیسری بربر بغاوت کے نتیجہ میں خلافت امویہ کا مغربی صوبوں الاندلس اور المغرب پر اقتداربہت کمزور ہو گیا اور وہ ان دائرہ اختیار سے باہر نکل گئے۔ 745ء کے قریب عقبہ بن نافع کے خاندان فہری کے عبد الرحمن بن حبیب فہری نے افریقیہ (افریقہ نہیں) اور یوسف بن عبد الرحمن فہری نے اندلس پر اپنا اقتدار قائم کیا۔ فہریوں نے خلافت امویہ کے ناطہ ختم کر کے خلافت عباسیہ سے قائم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن عباسیوں کے مکمل اطاعت کے مطالبے پر فہریوں نے آزادی کا اعلان کر دیا بلکہ جلاوطن امویوں کو اپنے پاس پناہ دینے کی پیشکش بھی کی۔

امارت قرطبہ اور خلافت قرطبہ[ترمیم]

756ء میں عبد الرحمٰن الداخل نے یوسف بن عبد الرحمن فہری کو معزول کر کے امارت قرطبہ کی بنیاد رکھی اور اسکے پہلے امیر ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے اندلس کے زیادہ تر حصے پر فہریوں اور عباسیوں کے حامیوں پر قابو پانے کے بعد ایک نسبتا کمزور حکومت قائم کی۔ [2] 912ء میں ان کے پوتے عبدالرحمن الثالث کے نہ صرف تیزی اندلس میں اموی حکومت کو تقویت بخشی بلکہ ایک خلافت قرطبہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Joseph F. O'Callaghan, A History of Medieval Spain, Cornell University Press, 1983, p.142
  2. ^ Roger Collins, "The Arab Conquest of Spain, 710–797", pp. 113–140 & 168–182.


متناسقات: 41°31′N 2°49′W / 41.517°N 2.817°W / 41.517; -2.817