طلیطلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسجد باب المردوم، طلیطلہ کے مسلم دور کی باقی رہ جانے والی واحد مسجد، 12 ویں صدی میں گرجا بنا دی گئی تھی

طلیطلہ (Toledo) ہسپانیہ کا ایک شہر ہے جو دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں دریائے تاخو (Tajo) کے کنارے واقع ہے۔ مسلمانوں کے عہد حکومت میں اس شہر نے عالمی سطح پر شہرت پائی۔ پانچویں صدی ہجری میں ملوک الطوائف کے عہد میں یہ بنو ذوالنون کا دارالحکومت رہا۔ بعد ازاں یہ سلطنت ہسپانیہ کا دارالحکومت بھی رہا۔

رومیوں کے زمانے میں یہ طلیطم (Toletum) کہلاتا تھا جو انہوں نے 193 ق م میں فتح کیا تھا۔ ان کے عہد میں ہسپانیہ میں مسیحیت کا دور دورہ ہوا۔ 418ء میں طلیطلہ میں فسیقوطی (Visigoth) قابض ہوئے۔ انہوں نے طلیطلہ کو پایۂ تخت بنایا اور جب شاہ ریکارڈ نے 587ء میں مسیحت قبول کی تو یہ شہر جزیرہ نما آئبیریا کا مذہبی صدر مقام بن گیا۔

مسجد مسیح نور (Mezquita de Cristo de la Luz) طلیطلہ کی دس مسجدوں میں سے اب باقی رہ جانے والی واحد مسجد ہے۔ یہ مسجد مسلمانوں کی آبادی مدینہ میں واقع تھی۔ واضح رہے کہ المغرب و افریقیہ میں شہر کا وہ علاقہ جو مسلم اکثریتی ہوتا تھا مدینہ کہلاتا تھا بالکل اسی طرح ہسپانیہ پر کیونکہ شمالی افریقہ تہذيب کے گہرے اثرات تھے اس لیے یہاں بھی شہر کے مسلم اکثریتی علاقوں کو مدینہ کہا جاتا تھا۔ اپنے زمانے میں یہ مسجد "مسجد باب المردوم" کہلاتی تھی۔ تاہم اب گرجا بنائی جا چکی ہے۔ اس کے صدر دروازے پر کوفی رسم الخط سے یہ تحریر ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ احمد ابن حدیدی نے اپنے سرمائے سے یہ مسجد تعمیر کرائی، اس کے لیے وہ اللہ سے جنت کا خواستگار ہے۔ یہ اللہ کی مدد سے موسیٰ بن علی ماہر تعمیرات کی زیر ہدایت محرم 390ھ میں مکمل ہوئی

طلیطلہ پر عیسائیوں کے قبضے کے بعد 1085ء میں الفانسو ششم نے اس مسجد کو گرجا قرار دے دیا۔ 1186ء میں الفانسو ہشتم نے مسجد سینٹ جان کے نائٹوں کو دے دی اور پھر اس کا نام کلیسائے صلیب مقدس (Cristo de la Luz) قرار پایا۔

یونیسکو نے 1986ء میں شہر کی ثقافتی و تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔

شہر کی موجودہ آبادی 80 ہزار سے زائد ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]