دولت مرابطین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دولت مرابطین کی حکومت

صحرائے اعظم کا ایک بربر خاندان جس نے 11 ویں صدی میں (1061ء تا 1147ء) شمال مغربی افریقہ اور مسلم اندلس پر عظیم الشان حکومت قائم کی۔

اس حکومت کا بانی تاریخ ملت اسلامیہ کا عظیم حکمران اور فاتح یوسف بن تاشفین تھا جس نے دولت مرابطین پر (1061ء تا 1107ء) کل 50 سال حکومت کی۔

یوسف کے بعد یہ حکومت کل چالیس سال قائم رہی۔

تحریکِ مرابطین[ترمیم]

یوسف کے چچا عبداللہ بن یاسین نے تبلیغی مقاصد کے لیے دریائے سینی گال کے ایک جزیرے میں خانقاہ قائم کی تھی جہاں سے وہ بربروں میں تبلیغ اسلام کا کام سر انجام دیتے تھے۔ یوسف اس تبلیغی کام میں اپنے چچا کے ساتھ ہوتا تھا۔ لیکن بعد میں وہ شمال کی طرف آگیا اور یہاں فاس اور دیگر شہر فتح کرکے کوہ اطلس کے دامن میں شہر مراکیش کی بنیاد ڈالی۔

یوسف بن تاشفین[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں:

یوسف نے اندلسی مسلمانوں کی درخواست پر عیسائی بادشاہ الفانسو کا مقابلہ کیا اور جنگ زلاقہ میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہی جنگ زلاقہ صلیبی جنگوں کے اہم ترین اسباب میں سے ایک ہے۔

اندلس میں مرابطین کی حکومت

اس جنگ کے بعد یوسف وطن واپس آگیا لیکن اندلس کے مسلم حکمرانوں نے عیسائیوں کے ہاتھوں اقتدار بال بال بچنے کے بعد دوبارہ وہی روش اختیار کر لی جس پر غزالی اور طرطوسی سمیت نامور علمائے کرام نے یوسف کے لیے فتویٰ جاری کیا کہ اگر وہ اندلس کے حکمرانوں کی حکومت ختم کردے تو اس پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ اس طرح 1094ء میں اس نے تمام اندلس کو دولت مرابطین میں شامل کرکے اندلس کو مسلمانوں سے چھیننے کی عیسائی کوششوں کو زبردست دھچکا پہنچایا۔ 1097ء میں یوسف نے اپنے لیے امیر المسلمین کا خطاب پسند کیا۔ 1106ء میں 100 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کے انتقال کے سزع مرابطین کی حکومت اپنے عروج پر تھی جس میں تمام شمال مغربی افریقہ اور دریائے تغوس (دریائے تاجہ) کے مغرب کا تمام اسپین اور دریائے ایبرو کے دہانوں تک مشرقی ساحل اور جزائر بیلارک شامل تھے۔

دورِ زوال[ترمیم]

یوسف کے انتقال کے تین سال بعد اس کے جانشیں علی بن یوسف کے دور حکومت میں 1119ء اور 1121ء میں عیسائیوں نے اندلس پر حملے کیے لیکن ناکام رہے۔ ان حملوں میں فرانسیسیوں نے ارغونی عیسائیوں کی مدد کی تاکہ سرقسطہ کو مسلمانوں سے چھین لیا جائے۔ 1138ء میں علی بن یوسف کو قشتالہ اور لیون کے الفانسو ہفتم کے ہاتھوں اور 1139ء میں جنگ اوریک میں افونسو اول کے ہاتھوں شکست ہوئیں۔ 1147ء میں پرتگیزیوں کی جانب سے لزبن کی فتح کے بعد یہی افونسو تخت پر بٹھایا گیا۔

اس عرصے میں موحدین ملک میں بھرپور قوت پکڑ گئے اور 1142ء میں علی کے انتقال کے بعد اس کے صاحبزادے و جانشیں تاشفین بن علی کی حکومت موحدین کے مقابلے میں اپنی ساکھ کھونے لگی۔ اس دوران 1146ء میں تاشفین بن علی کو قتل بھی کر دیا گیا۔

اس کے دو جانشیں ابراہیم بن تاشفین اور اسحاق بن علی بے اختیار حکمران تھے۔ 1147ء میں موحدین کے ہاتھوں مراکش شہر کی فتح نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تاہم مرابطین کا ایک حصہ (بنو غانیہ) جزائر بیلارک اور تیونس میں حکومت بچانے کی جدوجہد کرتا رہا۔


حکمران[ترمیم]

  1. یوسف بن تاشفین 1061ء تا 1106ء
  2. علی بن یوسف 1106ء تا 1142ء
  3. تاشفین بن علی 1142ءتا 1146ء
  4. ابراہیم بن تاشفین 1146ء
  5. اسحاق بن علی 1146ء تا 1147ء