سلطنت اشکانیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(پارتھیا سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تاریخ ایران
سلطنت اشکانیان کا نقشہ


سلطنت اشکانیان یا سلطنت پارثاوا یا پارت یا پارث (انگریزی:Parthian Empire ؛[نقل حَرفی:پارتھیا]) فارس یا ایران کی ایک قدیم سلطنت جس میں ایران کے موجودہ صوبہ جات خراسان اور گورگان اور وسطی ایشیاء کا ایک ملک ترکمنستان کا جنوبی علاقہ شامل تھا۔ اس کو آسان اردو میں "پارثی سلطنت" بھی کہا جاتا ہے جو بعد ازاں اور بھی وسیع ہوگئی تھی-

تاریخ[ترمیم]

سکندرنے ہخامنشی خاندان کا خاتمہ کیا تو پارتی بھی محکوم ہوگئے۔ سکندرکے جانشین سلوکی(Seleucids) ہوئے، مگر تیسری صدی قبل مسیح میں اشکانیان یعنی پارت کے ایک سردارارشک یکم یا اشک (Asaak) یا ارشک (Arsaces) نے سیاسی قوت حاصل کرنے کے بعد249 ق م میںیونانی حکمرانوں یعنی سلوقی سلطنت یا سلوکی خاندان کے خلاف بغاوت کرکے سمرقند سے مرو کا علاقہ آزاد کرالیا اور ایک نئے خاندان اشکانیThe Arsacids اور آزاد اشکانیاں سلطنت کی بنیاد ڈالی۔اس کی سلطنت میں بعد ازاں [عراق]] اور آرمینیا کے علاوہ شمال مغربی ہندوستان اور شام کے سابق ایرانی مقبوضات بھی شامل ہوگئے۔کچھ عرصہ تک اشکانی حکومت سلوکیوں کے متوازی چلتی رہی اور دونوں کے درمیان جنگ و جدل کا سلسلہ جاری رہا۔ سلوکس حکمران انطیوکس اعظم یا انطیوکس سوم Antiochus The Garet Or Antiochus 3ed نے اشکانی فرمانروا ارشک سومArsaces 3ed کو شکست دے کر اس کے پایہ تخت پر قبضہ کرلیا۔ مگر یہ قبضہ زیادہ دیر تک جاری نہ رکھ سکا اور پارتیوں کی قزاخانہ جنگ سے مجبور ہوکر صلح کر لی اور ارشک کو پارتھیا کا بادشاہ تسلیم کرلیا اور ارشک نے انطیوکس کو ہمدان کا علاقہ واپس کردیا، جس پر اس نے قبضہ کرلیا تھا۔[1] ارشک ششم یا مہردادا اول Arsaces 6th Mithradates 1th (170۔ 138 ق م) نے سلوکی حکمرانوں کی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینا، خوزستان، پارس اور بابل پر قبضہ کرلیا۔ نیز سلوکی بادشاہ دمیترس دومDemetius 2ed کو شکست دے کر گرفتار کرلیا۔ اس واقع کے بعد سلوکی حکومت عملی طور پر ایران سے ختم ہوگئی، پھر بھی چھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس خاندان کا دوسرا نامور بادشاہ ارشک ہفتم یا فرہاد دومArsaces 7th or Phrates 2ed (138 . 125 ق م) تھا جو باپ کی موت کے بعد ایران کے تخت پر بیٹھا۔ سلوکیوں کے مکمل اخراج کا سہرا اس کے سر رہا۔ دمیترس دوم Demetius 2edکی گرفتاری کے بعد سلوکس ہفتم Selecus 7th تخت پر بیٹھا۔ 139 ق م میں ایک بڑی فوج کے ساتھ ایران کی طرف بڑھا اور تین کامیاب جنگوں کے بعد اس نے آرمینا، سلوکیہ اور بابل پر قبضہ کرلیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انطیوکس کی تاریخ دہرائی جائے گی اور اشکانی اطاعت پر مجبور ہوں گے۔ فرہادنے بھی اپنی کمزوری محسوس کرتے ہوئے مصالحت کی کوشش کی۔ مگر انطوکس فتوحات کے نشے میں سرشار تھا۔ مصالحت کے لیے ایسی سخت شرائط پیش کیں کہ فرہاد منظور نہ کرسکا۔ مجبوراً آمادہ جنگ ہوا۔ ہمدان کے قریب سلوکیوں اور اشکانیوں کی آخری فیصلہ کن جنگ ہوئی۔ جس میں انظوکس مارا گیا اور اس کے ساتھ ہی ایران سے یونانی حکومت ہمیشہ ہی ختم ہوگئی۔ سلوکی سیادت شام کے صوبوں تک محدود ہوکر رہے گئی۔ اس واقعہ کے بعد سک قبائل نے اشکانی علاقوں میں لوٹ مار کردی۔ اس لئے فرہاد کو ان کی طرف توجہ کرنی پڑی اور فرہاد سھتیوں سے جنگ کرتا ہوا مارا گیا۔[2] ارشک نہم یا مہر داد دومMithradates 2ed Arsaces 9th or (۴۲۱۔ ۰۸) میں سک قبائل کی سرکوبی کی اور اپنی حدودیں مشرق میں پنجاب تک وسیع کرلیں۔ آرمینا کے جو علاقے اشکانی حکومت کے قبضہ سے نکل گئے تھے دوبارہ فتح کئے۔ مگر آرمینا پرسلوکیوں کا دعویٰ تھا، اس لئے دونوں حکومتوں میں کشمکش شروع ہوگئی اور جب رومیوں نے شام پر قبضہ کیا تو یہ کشمکش رومیوں کی طرف منتقل ہوگئی۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 79) 80 ق م میں مہرداداکی موت واقع ہوگئی اور اس کے بعد اشکانیوں کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ ایک طرف خانہ جنگی شروع ہوگئی اور دوسری طرف رومیوں سے جنگوں کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ ارشک سیزدہم Arsaces 13th کے عہد میں حران کے مقام پر رومیوں کو شکست ہوئی اور رومی سلار کراسوس Carassus 53 ق م میں مارا گیا۔ اس واقع کے سترہ سال کے بعد ۶۳ ق م میں دوسری جنگ ہوئی، اس میں بھی رومیوں کو شکست ہوئی اور رومی سالار انطونی Antony جان بچا کر بھاگ نکلا، مگر رومی آرمینا پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔[3] ان دوشکستوں نے رومیوں کی ایشاء کی طرف پیش قدمی روک دی، مگر اس کامیابی کے باجود اشکانی حکومت کمزور ہوتی چلی گئی۔ پھر بھی یہ دو سو سال تک قائم رہی۔ اشکانی عہد کو مسعودی اور دوسرے مورخین نے ملوک الطوف کا دور بتایا ہے۔ اس کو اپنی انحاط کی آخری منزلوں پر ایک نئی طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ جو اسی ایران کی سرزمین سے ابھر رہی تھی، اور ساسانی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اشکانی حکومت اس کا مقابلہ نہیں کرسکی اور 475 سال کے طویل عہد حکومت کے بعد اشکانیوں نے ساسانیوں کے لئے جگہ خالی کردی۔ [4] اس سلطنت کا حکمران طبقہ خود کو ہنحامنشی خاندان کا وارث خیال کرتا تھا۔ایشیا میں ان دنوں یہی سلطنت اتنی طاقت ور تھی جس نے رومن توسیع پسندی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ یہ سلطنت 227ء تک قائم رہی۔ اس کے بعد ایران کی نئی ساسانی سلطنت میں ضم ہوگئی۔

ابتدائی تاریخ[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

توسیع اور اِستَحکام[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

روم اور آرمینیا[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

روم کے ساتھ امن، درباری سازشیں اور چینی سپہ سالاروں کے ساتھ رابطہ[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

رومن دشمنی اور زوال سلطنت اشکانیان[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

دارلحکومت[ترمیم]

اشکانیوں کا پہلا دارلحکومت ہکاتم پیلس Hecatompylus تھا، جس کا صیح تعیین نہیں ہوسکا، غالباََ دامغان کے جنوب میں قومس کے قریب واقع تھا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تک رے، پھر ہمدان ان کا دارلحکومت رہا۔ آخری عہد میں انہوں نے طیسفون Ctesiphonکو اپنا دارلحکومت بنایا۔ [5] بعض مورخین ان کا دارلحکومت اساک Asaka بتاتے ہیں، جسے موجودہ قوجان یا بخیود سے مطابقت دی جاتی ہے۔ بعض مورخین کے نزدیک ان کا دارلحکومت نسا تھا۔ یہ اب ترکستان میں ہے اور عشق آباد اور فیروز کے مابین واقع تھا۔ یہاں کھدائیوں سے اشکانی عہد کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ ان آثار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اشکانی دارلحکومت رہے چکا ہے۔ قرن اسلامی کے بعض مورخین لکھتے ہیں کہ ان کا درلحکومت رے تھا۔ مگر پیری شا Peerisha کا کہنا ہے کہ اشکانی بادشاہوں نے رے میں کچھ عرصہ تک اقامت اختیار کی تھی۔ یونانی مورخین کا کہنا ہے کہ اشکانی بادشاہوں کا دربار کسی ایک شہر میں مستقلاََ نہیں لگتا تھا، بلکہ شہر شہر بدلتا رہتا تھا، مگر مرکزیت طیسفون کو حاصل تھی۔ [6]

تنظیم[ترمیم]

اشکانی بادشاہ مختیار کل نہیں ہوتے تھے۔ اعلیٰ اختیارات کی تین مجلسوں کاپتہ چلتا ہے، جس سے بادشاہ امور سلطنت میں مشورہ کرنا ہوتا تھا۔ ایک مجلس شاہی خاندان کے افراد پر مشتمل تھی اور ہر بالغ شہزادہ خود بخود اس کا رکن بن جاتا تھا۔ دوسری مجلس دینی رہنماؤں پر مشتمل ہوتی تھی، جسے مجلس مغزان کہتے تھے۔ تیسری مجلس کا نام مجلس سہتان تھا، جس میں پہلی دو مجلسوں کے نمائندے شریک ہوا کرتے تھے، تاہم بادشاہ مختارکل ہوتا تھا۔ مجلس سہتان جس کو بادشاہ کا اہل سمجھتی تھی اسے بادشاہ بنا لیتی تھی۔ لیکن بادشاہ کے فوت ہونے پر بیٹا نابالغ ہو یا باشاہت کے لئے ناہل ہو تو مجلس متوفی بادشاہ کے بھائی یا چچا کو باشاہ منتخب کر لیتی تھی۔ ان مجلسوں کو بادشاہوں کے اختیارات پر قید وبند عائد کرنے حاصل تھا۔ بھر بھی ان مجلسوں کی نوعیت اور حقیقت کے بارے میں پورا علم نہ ہونے کی وجہ سے ان پر سیر بحث نہیں کی جاسکتی ہے۔[7] انتظامی لحاظ سے مملکت علاقوں یا صوبوں میں بٹی ہوئی تھی، جس کو سٹراپی کہتے تھے۔ اشکانی عہد میں اکثر ستراپیوں نے نیم آزادی حاصل کرلی تھی۔ بادشاہ ان کے داخلی معاملات میں کم ہی دخل دیتا تھا۔ یوں تو ہخامنشی دور میں وسیع مملکت میں مختلف مذاہب اور نسلوں کے لوگ آباد تھے اور ان کو اپنے طور پر زندگی بسر کرنے کی آزادی تھی، مگر سیاسی معملات میں وہ بادشاہ کے ماتحت تھے۔ اشکانی بادشاہوں نے انہیں آزادی دے رکھی تھی۔ ممکن ہے انہوں نے مرکزی حکومت کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے اس نظام کو گوارہ کرلیا، اوراس پر اکتفاکیا، کہ ماتحت سٹراپیاں انہیں مقرر خراج اور وقت ضرورت پر فوج فراہم کردیا کریں۔ یہی وجہ ہے مسعودی نے اشکانیوں کے دور کو طواف الملوک میں شمار کیا ہے۔ گبن Gibbon کا خیال ہے پارتی نظام یورپ کے جاگیرداری نظام سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ اشکانی عہد میں صوبہ داروں کو ویتا کسا Vitaxa کہتے تھے۔ اشکانیوں نے فوجی تنظیم میں کوئی خاص ترقی نہیں کی، بلکہ ان کے عہد میں باضابطہ فوجوں کی تعداد گھٹ کر حفاظتی دستے تک محفوظ ہوگئی اور جنگ کے وقت حسب قائدہ مختلف سٹراپیوں سے فوج طلب کرلیا کرتے تھے۔[8] ساسانی دور میں بھی پارتھی امرا بااثر تھے، کیوں کہ کچھ ریاستیں ایسی تھیں جو کہ نیم آزاد تھیں، اور داخلی معاملات میں خود مختیار تھیں۔ ایسے والیان ریاست کو شتر ناران یا شہرداران کہتے تھے۔ ساسانی خاندان کے علاوہ سات خاندان ایسے تھے جنہیں یہ عظمت حاصل تھی۔ ان سات خاندانوں میں چار خاندان ایسے تھے، جو اپنا سلسلہ نسب اشکانی حکمرانوں سے جوڑتے تھے۔ بقیہ تین خاندان بھی پارت کے معزز گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان ہفت خانوادہ کو ویس پوران کہتے تھے۔ یہ ملک کے بڑے جاگیر دار تھے اور ان کی جاگیریں مورثی ہوتی تھیں اور نسلاََ بعد نسل منتقل ہوتی رہتی تھیں اور انہیں اپنی جاگیریں بیچنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ ان سات خانوادہ کے مختلف خطاب تھے اور ان کی جاگیریں بھی مختلف مقامات پر تھیں۔ مثلاََ نہاوند میں قارن، سیستان میں سورن، رے میں اسپہد یا اسپہند اور پارس میں مہران جاگیردار تھے۔ یہ شاہانہ کرد و فر کے ساتھ رہتے تھے اور ان کو بادشاہوں سی عزت و افتخار حاصل تھی۔ انہیں فوج رکھنے کا حق حاصل تھا اور بوقت ضرورت شہنشاہ ان سے فوجی مدد طلب کرلیا کرتا تھا۔ نیز ان سے فوج کی سالاری کی خدمت لی جاسکتی تھی۔ اس کے علاوہ بادشاہ کا خاص شاہی دستہ جو دو ہزار پیادوں پر مشتمل تھا اور ہمیشہ بادشاہ کے ساتھ رہتا تھا، اس میں بھی پارت کے امرا اور اشراف شامل ہوتے تھے۔[9] ایران کے قدیمی ماخد سے پتہ نہیں چلتا ہے کہ ان کی سلطنت کی حدودیں کہاں سے کہاں تک تھیں۔ ان کی سلطنت کی کی حدود کا پتہ یونانی، ارمنی، رومی اور یہودی مورخین کی تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ اشکانی Arsacids عہد حکومت میں پارت (خراسان) دامغان، سہنان، ماد بزرگ یا عراق عجم، ہمدان، گروس، کرمان شاہان، نہاوند، نوسیرکات، عراق، یعنی سلطان آباد، ماد کوچک، قزدین، ری، اصفہان، یزد، خواستار گلپا نبگان، پترہ، کلاہ قدیم، بابل سے خلیج فارس تک، خوزستان، پارس،کرمان، سیستان، ساگارتی، شمالی ہند کاسلسلہ کوہ خراسان سے جیحوں تک کے علاقے شامل تھے۔ [10]

حکومت اور انتظامیہ[ترمیم]

مرکزی اختیارات اور نیم خودمختار بادشاہ[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

نوابان سلطنت[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

عسکری[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

رائج سکّہ[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

معاشرہ اور ثقافت[ترمیم]

مذہب[ترمیم]

اشکانی بادشاہوں کے مذہب کے بارے میں بہت کم معلومات میسر آئی ہیں۔ تاریخوں سے اس قدر پتہ چلتا ہے کہ وہ پارت میں وارد ہونے سے پہلے دوسرے آریوں کی طرح مناظر فطرت کی پوجا کیا کرتے ہوں گے۔ یعنی آب و آتش، خاک و باد، آفتاب و ماہتاب اور برق و رعد وغیرہ کی پرستش کرتے ہوں گے۔ خاص کر متھر ایعنی سورج کی نظر و نیاز زیادہ دیتے تھے۔ بعد میں انہوں نے ایرانیوں کے زیر اثر ھرمز Hormuz کی پوجا کرنے لگے اور ھرمز ان کا سب سے بڑا محافظ بن گیا۔ ان کا مذہب بہت سی باتوں میں زرتشتی مذہب سے ملتا جلتا تھا، گو انہوں نے بعد میں زرتشتی مذہب بھی اختیار کرلیا تھا۔ لیکن ساتھ ساتھ دوسرے دیوتاؤں کی پوجا بھی کرتے تھے۔ پارتی زرتشتوں کے برخلاف اپنے مردے نذرآتش کرتے تھے۔ [11]

کاریگری و فنِ تعمیر[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

ملبوسات[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

ادب[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

فہرست شاہان سلطنت اشکانیان[ترمیم]

اس عنوان کے لئے مزید پڑھیں، فہرست شاہان سلطنت اشکانیان

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

  1. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 75۔ 76
  2. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 78
  3. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۹۷
  4. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 80
  5. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 76
  6. ^ پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، ۷۰۳
  7. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 118۔ 119
  8. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 123۔ 124
  9. ^ ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 125۔ 126
  10. ^ پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 307
  11. ^ پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 310۔ 311