پاک فضائیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاک فضائیہ کا نشان
عسکریہ پاکستان
متحدہ پاکستان سروسز
فوجی افرادی قوت
عمر کی کم از کم حد 16 سال
دستیاب 39,028,014 (2005)
مردوں کے لیے عمر 16-49
دستیاب مرد 1,969,055 (2005)
متحرک دستے 620,000 (7 واں)
فوج پر خرچ
ڈالرز میں $3.848 بلین (2004)
جی ڈی پی کا فیصد 4.9% (2004)
افواجِ پاکستان
پاکستان بری فوج
Pakistani Army Flag.jpg
پاک فضائیہ
Pakistani Air Force Ensign.gif
پاک بحریہ
Naval Jack of Pakistan.svg
پاکستان کوسٹل گارڈز
عہدے
آرمی چیف
جرنلز
پاکستانی فوج کی تاریخ
پاکستانی جنگیں
پاکستانی لڑائیاں
متعلقہ روابط
نشان حیدر
انٹر سروسز انٹیلی جنس


پاک فضائیہ (Pakistan Air Force) پاکستان کی فضائی حدود کی محافظ ہے۔ یہ زمینی افواج کو بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے پاس 1530 ہوائی جہاز ہیں۔ ان میں میراج، ایف-7، ایف-16 اور کئی دوسرے شامل ہیں۔ پاک فضائیہ کے پاس 2015 میں اسکے اپنے بناۓ گۓ 200 جے ایف-17 تھنڈر ہونگے۔ پاک فضائیہ کے پائلٹوں کا شمار دنیا کے بہترین پائلٹوں میں ہوتا ہے۔

قائداعظم کا فرمان[ترمیم]

قائداعظم نے مندرجہ ذیل الفاظ 13اپریل 1948 کو پاک فضائیہ کی رسالپر اکیڈمی میں کہے۔

ایک طاقتور ہوائی فوج کے بغیر ایک ملک کسی بھی جارح کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، جتنی جلد ہو سکے پاکستان کو اپنی فصائیہ بنا لینی چاہیے یہ لازما ایک بہترین ہوائی فوج ہو جو کسی دوسرے سے پیچھے نہ ہو۔

پاک فضائیہ کی تاریخ[ترمیم]

ابتداء (1947-1951)[ترمیم]

شاہی پاک فضائیہ پاکستان کے وجود میں آنے کے فورا بعد عمل میں آگئی۔ پاک فضائیہ کے پاس اس وقت 2332 کا عملہ اور اسکے علاوہ 24 ہاکر ٹیمپسٹ (Hawker Tempest) لڑاکا جہاز، 16 ہاکر ٹائیفون (Hawker Typhoon) لڑاکا جہاز، 2 ہیلیفیکس (Halifax) بمبار جہاز، 2 اسٹر (Auster) جہاز، 12 ہارورڈ (Harvard) مشقی جہاز اور 10 ٹائگر موتھ (Tiger Moth) عام جہاز۔ اس کے علاوہ اس کے پاس 8 ڈکوٹا (Dakota) جہاز بھی تھے جو کہ بھارت کے خلاف 1948 کی جنگ میں فوجیوں کو میدان جنگ لے جانے کے ليے بھی استعمال ہوئے۔ اسکے 7 ہوائی اڈے بھی تھے جو کہ پاکستان کے تمام صوبوں میں موجود تھے۔ شاہی پاک فضائیہ کا نام صرف پاک فضائیہ 23 مارچ 1956 کو رکھ لیا گیا۔

6 روزہ جنگ[ترمیم]

مکمل مضمون کے لیے دیکھیے 6 روزہ جنگ

6 روزہ جنگ میں پاک فضائیہ کے ہوا بازوں (پائلٹوں) نے بھی حصہ لیا۔ پاکستانی ہوا باز اردن، مصر اور عراق کی فضائیہ کی جانب سے لڑے اور اسرائیلی فضائیہ کے 3 جہازوں کو مار گرایا جبکہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا اسرائیلی پیش قدمی رکنے کی سب سے بڑی وجہ قرار پائے

جنگ یوم کپور[ترمیم]

مکمل مضمون کے لیے دیکھیے جنگ یوم کپور

اس جنگ کے دوران پاکستان نے مصر اور شام کی مدد کے لیے 16 ہوا باز مشرق وسطی بھیجے لیکن ان کے پہنچنے تک مصر نے پہلے ہی جنگ بندی کردی تاہم شام ابھی بھی اسرائیل سے حالت جنگ میں تھا۔ اس لیے 8 پاکستانی ہوا بازوں نے شام کی جانب سے جنگ میں حصہ لیا اور مگ-21 طیاروں میں پروازیں کیں۔ پاکستان کے فلائٹ لیفٹیننٹ اے ستار علوی یوم کپور جنگ میں پاکستان کے پہلے ہوا باز تھے جنہوں نے اسرائیل کے ایک میراج طیارے کو مار گرایا۔ انہیں شامی حکومت کی جانب سے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ ان کے علاوہ پاکستانی ہوا بازوں نے 4 ایف 4 فینٹم طیارے تباہ کئے جبکہ پاکستان کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ یہ پاکستانی ہوا باز 1976ء تک شام میں موجود رہے اور شام کے ہوا بازوں کو جنگی تربیت دیتے رہے ۔

نیا زمانہ (1983-1989)[ترمیم]

جب روس نے افغانستان پر حملا کیا تو پاکستان کو روس سے بہت خطرہ تھا۔ اسلۓ پاک فضائیہ نے اپنے آپ کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا۔

فرانس نے پاکستان کو اپنے نۓ میراج 2000 بیچنے کی پیشکش کی لیکن پاک فضائیہ کے اعلی افسران ایف-16 یا ایف-18 خریدنے کا سوچ رہے تھے۔ لیکن امریکہ نے ایف-16 اور ایف-18 بیچنے سے انکار کر دیا اور انکی جگہ ایف-5، ایف-20 اور اے-10 تھنڈربولٹ بیخنے کی آفر کی۔ لیکن رونلڈ ریگن جب امریکہ صدر بنا تو اسنے ایف-16 کو بیچنے کا فیصلا کیا۔ اس معاملے میں جنرل ضیاء کی ضد کام کر گئی جس ایف 16 لینے پر ڈٹ گئے تھے

1987 سے 1997 تک پاک فضائیہ نے اپنے ایف-7 اور میراج-3 لڑاکا جہازوں کو تبدیل کرنے کے ليے ایف-16 خریدے۔

(1991-2001)[ترمیم]

1990 سے پاکستان پر اسکے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے کئی امریکی پابندیاں لگیں جس کی وجہ سے پاکستان کو امریکی 71 ایف-16 نہیں ملے۔بلاشبہ یہ اس وقت کی بے نظیر حکومت کی بڑی ناکامی تھی بلکہ صحیح معنوں میں   طیارے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی 1998 میں جب پاکستان نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو اس پر نا صرف امریکہ نے بلکہ کئی اور دوسرے یورپی ممالک نے کئی پابندیاں لگا دیں۔ جس کی وجہ سے پاک فضائیہ کئی نۓ لڑاکہ جہازوں خریدنے سے محروم رہی۔ جس کی وجہ سے پاکستان نے خود ہوائی جہاز بنانے کا فیسلہ کیا اور پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر کے-8 تربیتی ہوائی جہاز بنایا اور اس کے علاوہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر جےایف-17 تھنڈر لڑاکا جہاز بھی بنا رہی ہے جس کو کامرہ پاکستان میں بنایا جا رہا ہے۔

موجودہ[ترمیم]

پاک فضائیہ کے پاس اس وقت ایف-7، میراج-3، میراج-5، ایف-16 اور کیو-5 طیارے ہیں۔ ان سب کو ملا کر 1530 کل طیارے بنتے ہیں۔ پاک فضائیہ اپنے میراج-3 طیاروں کو روز-1 اور روز-3 سے ترقی یافتہ بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلکس میں 150 جےایف-17 تھنڈر طیارے بھی بنانا شروع کر دیے ہیں۔ جن کا پہلا سکواڈرن پاک فضائیہ میں شامل ہو چکا ہے

12 اپریل 2006 پاکستانی حکومت نے نۓ 77 ایف-16 طیاروں کو امریکہ سے خریدنے کا سودا کیا۔ جن کی قیمت 3.5 بلین $ ہے۔ لیکن اب پاکستان صرف 44 ایف-16 خریدے گا اور اس میں شاید دوسرے جہاز بھی شامل کیے جاسکتے ہیں مثلا یورو فائیٹر-2000 یا ڈیسالٹ-رافیل وغیرہ۔ پاکستانی حکومت نے چین سے نۓ 50 جے-10 لڑاکا جہاز بھی خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل ہتھیار پاکستان نے ابھی خریدنے ہیں۔

  • 300 ایسڈی-10 ہوا -سے-ہوا میں مار کرنے والا میزائل
  • 500 اے آئی ایم-120 ایمریم ہوا -سے-ہوا میں مار کرنے میزائل
  • 18 نشانہ لینے والے (Targeting Pod)
  • 500 جائنٹ ڈائیرکٹ اٹیک منشن (JDAM) بم

گول نشان[ترمیم]

پاک فضائیہ کا گول نشان

Falcon.png پاک فضائیہ کے جہازوں پر ایک گول نشان ہوتا ہے جو کہ پاکستان کے جھنڈے سے مشابہت رکھتا ہے۔ اسکا باہر والا حصہ سبز ہوتا ہے اور اندرونی حصے میں سفید دائرہ ہوتا ہے۔

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔