عسکریہ پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عسکریہ پاکستان
متحدہ پاکستان سروسز
فوجی افرادی قوت
عمر کی کم از کم حد 16 سال
دستیاب 39,028,014 (2005)
مردوں کے لیے عمر 16-49
دستیاب مرد 1,969,055 (2005)
متحرک دستے 620,000 (7 واں)
فوج پر خرچ
ڈالرز میں $3.848 بلین (2004)
جی ڈی پی کا فیصد 4.9% (2004)
افواجِ پاکستان
پاکستان بری فوج
Pakistani Army Flag.jpg
پاک فضائیہ
Pakistani Air Force Ensign.gif
پاک بحریہ
Naval Jack of Pakistan.svg
پاکستان کوسٹل گارڈز
عہدے
آرمی چیف
جرنلز
پاکستانی فوج کی تاریخ
پاکستانی جنگیں
پاکستانی لڑائیاں
متعلقہ روابط
نشان حیدر
انٹر سروسز انٹیلی جنس


پاکستان کے دفاع کا زمہ دار ادارہ عسکریہ پاکستان یعنی Military Of Pakistan ہے۔ عسکریہ پاکستان کو پاکستان کا سب سے منظم اور ترقی یافتہ ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے تین بڑے حصے یا اعضا ہیں جو یہ ہیں:

اسکی افرادی قوت 619000 ہے جس کے لحاظ سے پاکستان فوجی افرادی قوت کے اعتبار سے 7 ویں نمبر پر ہے۔ اگر 302000 نیم فوجی اداروں کے افراد بھی شامل کر لیئے جائیں تو پاک عسکریہ کی مضبوط افرادی قوت 1000000 تک پہنچ جاتی ہے۔

پاک عسکریہ ایک نہایت منظم ادارہ ہے جس میں اختیاری طاقت کا ایک مکمل اور متوازن نظام موجود ہے۔

1947ء میں قیام پاکستان کے بعد سے اب تک بیشتر عرصہ پاکستان پر پاک فوج حکومت کر چکی ہے ۔ پاکستانی معاشرے میں پاک عسکریہ کو بے پناہ عزت حاصل ہے۔ عوام اس ادارے کو اپنی حفاظت کا ذمہ دار اور اپنی قربانیوں کا امین تصور کرتی ہے۔ قوم 6 ستمبر کو یوم دفاع مناتی ہے، جو کہ پاک بھارت جنگ 1965 میں پاک عسکریہ کی بے مثال جرات و بہادری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

پاک عسکریہ پر جی ڈی پی کا تقریبا 4٫9 فی صد خرچ کیا جاتا ہے۔ جس سے ملکی ترقی اور عام عوامی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان ایسا اپنی کم سے کم دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کرتا ہے جو کہ اس کی سالمیتی کے لیے ضروی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں دفاعی قوت کی زبردست دوڑ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

1947ء میں قیام پاکستان سے پہلے پاک عسکریہ، ہندوستانی فوج کا حصہ تھی۔ اس لحاظ سے اس کے تاج برطانیہ کے زیر اثر پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا ہے۔ تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستانی فوج پاکستان اور بھارت میں بالترتیب 36% اور 64% کت تناسب میں تقسیم ہو گئی۔ اس وقت اعلان ہوا کہ کوئی بھی فوجی جس بھی فوج میں جانا چاہتا ہے تو اسے مکمل اجازت ہے۔ اس وقت بہت سے مسلمان فوجی، پاک عسکریہ میں شامل ہوگئے۔ تقسیم کے وقت بھارت میں 16 آرڈینس فیکٹریاں تھیں جبکہ پاکستان بھی ایک بھی نہیں تھی۔ الحمد اللہ اب پاکستان کافی حد تک دفاعی اعتبار سے خود کفیل ہو گیا ہے لیکن بھارت کے اپنا دفاعی تباسب برقرار رکھنے کے لیے اس بڑی طاقتوں سے خریداری کرنا پڑتی ہے جس پر خطیر زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔

تنظیم اور اختیاری نظام[ترمیم]

ایس ایس جی کمانڈوز کا 23 مارچ، یوم پاکستان کے موقع پر اسلام آباد میں پریڈ کا منظر

جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی[ترمیم]

نام افسر تاریخ تعیناتی عہدہ
جنرل طارق مجید 8 اکتوبر ، 2007 تا حال چئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف
جنرل اشفاق پرویز کیانی 28 نومبر،2007ء تا حال چیف آف آرمی سٹاف
راؤ قمر سلیمان مارچ 2009ء تا حال چیف آف ائیر سٹاف
محمد افضل طاہر اکتوبر 2005ء تا حال چیف آف نیول سٹاف

پاک فوج کی تنظیم[ترمیم]

پاک فوج کی تنظیم ایسی ہی ہے جیسا کہ عام طور پر پوری دنیا میں ہے۔ اس کی کمیشنڈ یافتہ عہدے سکینڈ لیفٹینٹ سے شروع ہوتے ہیں۔

پاکستان کا جنرل صدر پاکستان ، وزیراعظم پاکستان کے مشورے سے منتخب کرتا ہے۔

افرادی قوت[ترمیم]

پاک عسکریہ کے ہر اعضا کی افرادی قوت[ترمیم]

اعضا کل مہیا افرادی قوت (Active) کل افرادی قوت (Reserved)
پاک فوج 550,000 513,000
پاک بحریہ 24,000 5,000
پاک فضائیہ 45,000 10,000
نیم فوجی دستے 302,000 0
پاکستان کوسٹل گارڈز Classified Classified
کل 921,000 528,000

عسکری تربیتی ادارے[ترمیم]

پاکستان ایشیا کے چند بہترین عسکری تربیتی ادارے رکھتا ہے جن کے نام یہ ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]