موریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جزیرہ نما موریہ

موریہ (انگریزی: Moreai)، جسے اب Peloponnesus کہا جاتا ہے، یونان کا ایک جزیرہ نما ہے۔ مسلمان مصنفین اسے لاموریہ، الموریا یا مورہ بھی لکھتے ہیں۔ [1]

تاریخ[ترمیم]

807ء میں سلافی آبادکاروں نے افریقہ سے آنے والے عربوں کی مدد سے موریہ کے شہر پتراس کی ناکہ بندی کی مگر اہل شہر نے انہیں پسپا کر دیا۔ نویں صدی میں سلافی آباد کار عیسائیت اختیار کرنے لگے۔ چوتھی صلیبی جنگ کے بعد اہل وینس نے موریہ کو زیر نگیں کر لیا۔ 1264ء میں موریہ کے حکمران کی درخواست پر دو ترک سرداروں نے بزنطینی فوج کو پے در پے شکست دے کر فرنگیوں کا اقتدار بحال کیا چنانچہ جنگ کے بعد ترکوں کی خاصی تعداد موریہ میں آباد ہو گئی۔ [2]

1392ء میں جزیرہ نما کے متعدد قلعوں پر ترکوں کے قبضے کے بعد موریہ کے گورنر نیریو اول نے سلطان بایزید اول کا خراج گزار بننا قبول کیا۔ 1426ء میں ترک سپہ سالار ترخان نے کورنتھ شہر کے قریب موریہ کے اہم ترین قلعہ جزما حصار پر یلغار کی تو بزنطینی حکمران مینوئل ثانی نے ایک لاکھ سکے خراج دینے کا وعدہ کیا اور جزمہ حصار سے دستبردار ہو گیا۔ سلطان مراد ثانی کے عہد میں ریاست موریہ سلطنت عثمانیہ کی باجگزار بن گئی۔

1460ء میں سلطان محمد فاتح نے اسے اپنی سلطنت میں ضم کر لیا۔ 1502ء میں وینس والوں نے موریہ میں اپنی نو آبادیاں ترکوں کے حوالے کر دیں۔ صلح نامہ کارلووٹز (1699ء) کے تحت ترکوں نے موریہ اہل وینس کی تحویل میں دے دیا مگر جب یونانیوں نے ترکوں کے زیر اقتدار رہنے کی خواہش کی تو سلطنت عثمانیہ نے 1715ء میں اسے دوبارہ فتح کر لیا۔ اس کے بعد بہت سے عیسائیوں نے دوبارہ اسلام قبول کیا۔

1768ء میں سلطنت روس کے اکسانے پر موریہ کے یونانیوں نے ناکام بغاوت کی۔ 1821ء میں جب ترک گورنر خورشید پاشا باغیوں کا محاصرہ کیے ہوئے تھا اس دوران موریہ کے عیسائیوں نے ایک مرتبہ پھر بغاوت کر دی۔ 1827ء میں روس اور برطانیہ نے موریہ اور یونان کے دوسرے حصے ملا کر ایک آزاد ریاست کے قیام کی سازش کی۔ باب عالی نے ان کی مداخلت تسلیم نہ کی تو ان کے متحدہ بیڑے نے حملہ کر دیا اور جنگ نوارینو میں سلطنت عثمانیہ کو شکست دی۔ نتیجتا طویل مذاکرات کے بعد فروری 1833ء میں بویریا (جرمنی) کے شہزادہ اوٹو کو یونان کا پہلا بادشاہ بنا دیا گیا اور اس وقت سے موریہ یونان کا حصہ قرار پایا ۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ اطلس فتوحات اسلامیہ، دارالسلام پبلی کیشنز، صفحہ 347
  2. ^ اطلس فتوحات اسلامیہ، دارالسلام پبلی کیشنز، صفحہ 347
  3. ^ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ:775/21