جناح کے چودہ نکات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قائد اعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات


پس منظر[ترمیم]

ہندو مسلم مسئلے کے حل کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح (رحمۃ اللہ علیہ) نے مارچ 1929ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں پیش کیے جو کہ تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں

چودہ نکات[ترمیم]

قائد اعظم کے چودہ نکات درج ذیل ہیں

  1. ہندوستان کا آئندہ دستور دفاقی نوعیت کو ہو گا۔
  2. تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔
  3. ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔
  4. مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائ نمائندگی حاصل ہو۔
  5. ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔
  6. صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔
  7. ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔
  8. مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔
  9. سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔
  10. صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔
  11. سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔
  12. آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔
  13. کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائ وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔
  14. ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

تبصرہ[ترمیم]

قائد اعظم محمد علی جناح (رحمۃ اللہ علیہ) کے نقاط کو گرچہ ہندوؤں اور کانگرس نے تسلیم نہ کیا لیکن قائد اعظم محمد علی جناح (رحمۃ اللہ علیہ) نے حقیقی معنوں میں مسلمانانِ ہند کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے مفادات و حقوق کے حقائق کو مدلل انداز میں پیش کر کے برطانوی حکومت کو یہ بات باور کروانے کی کوشش کی کہ کانگرس محض ہندوؤں ان کی اکثریت ہی کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچتی ہے جبکہ ہندوستان کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو ان کے حقوق و مفادات کے حوالے سے کسی خاطر میں ہی نہیں لاتی۔ یہ چودہ بنیادی نکات تھے جو کہ صحیح معنوں میں ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کا موجب بن سکتے تھے۔ اور ان نقاط کا تمام طبقات ہائے فکر نے مناسب طریقے سے ان کا خیر مقدم کیا۔