میثاق لکھنؤ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

1916ء میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ہونے والا معاہدہ


پس منظر[ترمیم]

غیر منقسم ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں معاہدہ لکھنو کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ یہ معاہدہ آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے درمیان پہلا اور آخری سیاسی سمجھوتہ تھا ۔انگریز کے دور اقتدار میں اگر ہندوستانیوں کی سیاست کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستانیوں کی ایک خاص تعداد اس مفروضے پر یقین رکھتے تھے اگر ہندو اور مسلمان متحد ہو جائیں تو برطانوی سامراجیت کا خاتمہ اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنا ممکن ہے۔ مختلف رہنماؤں نے مختلف اوقات میں اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ ایک زمانے تک خود آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس میں ایسے رہنما موجود تھے جو اس خیال کے بہت بڑے مدعی تھے۔ مگر بیسویں صدی کے اوائل میں ہندوستان کے اندر اور ہندوستان سے باہ چند ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی بنا پر ہندوستان کی سیاست کی کایہ پلٹ گئی اورہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مفاہمت پیدا ہونے کے لیے حالات سازگار ہو ئے۔ مسلمانوں میں تیزی سے انگریز سرکار کے خلاف نفرت کا جذبہ پروان چڑھنے لگا۔ جس کی وجہ انگریز سرکار کی کچھ پالیسیاں تھیں۔ تریپولی میں اٹلی کی کاروائی کی حمایت ، کانپور میں بڑے پیمانے پر قتل عام اور بلقان کی جنگوں میں انگریز کی اسلام دشمن سرگرمیاں اور پالیسوں نے مخالفت کو مزید ہوا دی۔

ان کے علاوہ چند امور ایسے تھے جن پر مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان مکمل اتفاق رائے پایا جاتا تھا ۔ ان میں سیکرٹری آف سٹیٹ کی کونسل کو ختم کرانا، ایمپرئیل لیجسلٹیو کونسل اور بڑے بڑے صوبوں میں صوبائی لیجسلٹیو کونسلز کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ حق انتخاب کا دائرہ وسیع کرانا شامل ہیں۔

اسی سیاسی فضا میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی جس نے ہندو ۔ مسلم اتحاد کے نظریے کو مزید تقویت پہنچائی ۔ اب دونوں قومیں(ہندو اور مسلمان) اپنے مشترکہ دشمن انگریز کے خلاف برسرپیکار ہوگئیں اور کوئی مؤثر اور مربوط لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے پر تول رہی تھیں۔

انہی حالات و واقعات میں بالآخر کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان فاصلے گھٹ گئے ۔ نتیجے کے طور پر 1915ء میں دونوں جماعتوں کے اجلاس ممبئی میں ایک ہی مقام پر منعقد ہوئے جہاں دونوں پارٹیوں کی طرف سے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تاکہ دونوں جماعتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مفاہمت کے کسی فارمولے پر باالمشافہ بات چیت ہو سکے ۔ نومبر 1916ء میں ان کمیٹیوں کا ایک مشترکہ اجلاس لکھنو میں منعقد ہوا اس اجلاس میں کافی غور خوص کے بعد ایک معاہدہ طے پایا ۔ دسمبر 1916ء میں آل انڈیا نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ دونوں نے اپنے اجلاس منعقدہ لکھنو میں اس معاہدے کی توثیق کر دی ۔


معاہدہ لکھنو[ترمیم]

غیر منقسم ہندوستان کی تاریخ میں معاہدہ لکھنو کو ایک اہم سیاسی دستاویز قرار د یا جاسکتا ہے۔ اس کے تحت آل انڈیا نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنماؤں نے نہ صرف ایک دوسرے کے مؤقف کے جاننے اور برداشت کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ انہوں نے اپنے رویوں میں بھی خاصی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس معاہدے کی رو سے جن نکات پر اتفاق رائے کیا گیا ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

1۔ کانگریس نے مسلم لیگ کا مطالبہ برائے جداگانہ انتخاب تسلیم کر لیا

2۔ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں مسلمانوں کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے سے بھی کانگریس نے اتفاق کر لیا

3۔ ہندوؤں کو پنجاب اور بنگال میں Weight ageدیا گیا۔ ان صوبوں میں ہندو نشستوں میں اضافے کے ساتھ مسلم لیگ نے اتفاق کر لیا ۔

4۔ جن جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت نہیں تھی وہاں مسلم نشستوں میں اضافہ کر دیا گیا ۔

5۔ اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ کوئی ایسا بل یا قرارداد جس کے ذریعے اگر ایک قومیت متاثر ہو سکتی ہے اور اسی قومیت کے تین چوتھائی اراکین اس بل یا قرارداد کی مخالفت کرے تو ایسا کوئی مسودہ قانون کاروائی کے لیے کسی بھی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گا۔

تبصرہ[ترمیم]

معاہدہ لکھنؤ انگریز کی پالیسی “Divide and Rule”کے خلاف ایک مؤثر اور بہترین حکمتِ عملی تھی ہم اسے (Be united and get ruined the British Imperialism in India)کا نام دے سکتے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کو اپنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے میں جن زعماء نے بنیادی کردار ادا کیا ہے ان میں معمارِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا نام سرفہرست ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کو ان کی اپنی خدمات کے اعتراف کے طور پر Ambassador of Hindu Muslim unityکے خطابات سے نوازا گیا۔ علاوہ ازیں اس یادگار واقعے کی یاد میں آپ ہی کے نام پر بمبئی میں ’’جناح ہال‘‘ بھی تعمیر کیا گیا۔ یہ قائداعظم کی سیاسی زندگی کا پہلا دور تھا اس پہلے دور میں آپ ہندو ، مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ یہ معاہدہ آپ کی طرف سے ہندو مسلم اتحاد کا پہلا تجربہ تھا۔ لیکن بعد کے حالات و واقعات اور خاص کر ہندوؤں کے رویے نے آپ کو اس نظریے سے منحرف کر دیا۔

انجام[ترمیم]

افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ معاہدہ لکھنؤ جو ہندوستان کی آزادی اور برطانوی سامراجیت کو ختم کرنے کے لیے ایک ٹھوس اقدام تھا یہ بھی ہندوؤں کی تنگ نظر ذہنیت کی بھینٹ چڑھ گیا جس کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اگر اس معاہدے کی شرائط پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ معاہدہ قائداعظم اور ان کے ساتھیوں کی ایک بہت بڑی سیاسی جیت تھی۔ کیونکہ اس کی رو سے انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو ایک علیحدہ اور کامل قوم منوایا بلکہ آل انڈیا مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت بھی تسلیم کروایا۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے اس معاہدے کے ذریعے ویٹو کا حق حاصل کیا وہ بلاشبہ ان کے بہترین مفاد میں تھا کیونکہ اس کے ذریعے وہ ہر ایسے بل کو ویٹو کر سکتے تھے جو ان کے مذہب ثقافت یا روایات پر اثر انداز ہو سکتا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے کی رو سے ہندوؤں کی کوشش یہ تھی کہ کسی طریقے سے مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان نفاق کے بیج بو دیئے جائیں۔ ان کے خیال میں اس کا جو بھی نتیجہ برآمد ہوگا وہ ہندوؤں کے مفاد میں ہوگا لیکن جب پہلی جنگ عظیم کے بعد حالات تبدیل ہو گئے تحریک ہجرت اور تحریک خلافت کے ذریعے انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان براہ راست تصادم کا آغاز ہوا تو اس صورتِ حال میں ہندوؤں کے لیے معاہدہ لکھنو کی اہمیت ختم ہو گئی اس لیے کانگریسی لیڈر شپ نے اس معاہدے کو پس پشت ڈال دیا۔ معاہدہ لکھنو ہندو ، مسلم اتحاد کے لیے ایک آزمائش تھی لیکن ہندو مسلم اتحاد کا نظیرہ اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نہیں نکلا۔