لارڈ ولیم بنٹنک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
لارڈ ولیم بنٹنک

William Cavenmsh Bentinck

پیدائش: 1774ء

وفات: 1839ء

ہندوستان کا نواں گورنر جنرل ’’1828ء تا 1835ء‘‘ پہلی مرتبہ 1803ء میں مدراس کا گورنر بن کر آیا۔ ویلور کی بغاوت کے بعد واپس چلا گیا۔ 1828ء میں گورنر جنرل بنا کر بھیجا گیا۔ 1831ءمیں رنجیت سنگھ سے روپڑ کے مقام پر مل کر سکھوں اور انگریزوں کے تعلقات کو استوار کیا۔ اس کے بعد امیران سندھ کے ساتھ معاہدہ کیا جس کی رو سے انگریزوں کو سندھ کے دریاؤں اور سڑکوں کو تجارت کی غرض سے استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ 1831ء میں میور کے راجا کرشن کو پینشن دے کر ریاست کا نظم و نسق انگریزی حکومت کے ہاتھ دے دیا۔ جنٹیا آسام کا علاقہ مارچ 1834ء میں لے لیا گیا۔ 7 مئی 1834ء کو کورگ کا علاقہ ہی انگریزی حکومت میں شامل کر لیا گیا۔
اس نے ملک میں بعض مفید اصلاحات جاری کیں۔ 1829ء میں ستی کو خلاف قانون قرار دیا۔ اس زمانے میں بنارس گجرات میں لڑکی کی پیدائش پر اسے قتل کر دینے کا رواج تھا اور راجپوت، جٹ، جھاریجہ اور میواٹی عموماً ایسا کرتے تھے۔ بنگال کے کچھ علاقوں میں بچوں کی بلی ( قربانی ) دی جاتی تھی اور اس مقصد کے لیئے دشمن قبیلے کے بچے اغوا کر لیئے جاتے تھے۔ لارڈ ولیم بنٹنک نے قانون بنا کر ان برایئوں کو ختم کر دیا۔[1]
ٹھگوں کے انسداد کے لیے سرولیم سیلمین کو مقرر کیا۔ 1831ء سے 1837ء تک ہزاروں ٹھگ گرفتار کر لیے گئے۔ اور ملک کو اس لعنت سے نجات حاصل ہوئی۔ شمال مغربی صوبحات میں بندوبست دوامی کی جگہ پر تیس سالہ بندوبست جاری کیا۔افیون پر ٹیکس عائد کیا۔ ہندوستانیوں پر ہر قسم کی ملازمت کے دروازے کھول دیے۔ فارسی کی جگہ اردو عدالتی زبان قرار دی گئی۔ لارڈ کارنوالس نے جو عدلیہ کا نظام قائم کیا تھا۔ بنٹنک نے اس میں بعض ترامیم کرکے عدلیہ کی کاروائی کو زیادہ مؤثر بنایا۔