سائمن کمشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

تعارف[ترمیم]

گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کی شق چوراسی ۔ اے کے تحت 1927ء میں تاج برطانیہ کی طرف سے ایک شاہی فرمان کے ذریعے برطانوی ہند کے لیے ایک آئینی کمشن مقرر کیا گیا ۔ اس وقت برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی برسراقتدار تھی۔ اور لارڈ برکن ہیڈ برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔ مذکورہ کمیشن کے چیئرمین چونکہ سر جان سائمن تھے اس لیے اسے عام طور پر سائمن کمیشن کہتے ہیں۔ سائمن کمیشن میں شامل تمام اراکین چونکہ انگریز اور گورے تھے یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین نے اسے White Commissionکا نام بھی دیا۔

مقاصد[ترمیم]

سائمن کمیشن کے مندرجہ زیل مقاصد تھے

1۔ 1919ء میں انگریز سرکار کی طرف سے برطانوی ہند میں کی گئی اصلاحات کا جائزہ لینا

2۔ مستقبل میں ہندوستانی حکومت کے ڈھانچے اور طرز کا تعین کرنا

3۔ ہندوستان میں ’’ذمہ دار حکومت‘‘ کی تشکیل کے بارے میں سفارشات مرتب کرنا

عوامی ردعمل[ترمیم]

چونکہ سائمن کمیشن کے تمام اراکین انگریز تھے اسی وجہ سے برطانوی ہند سے عوام اور سیاسی حلقوں میں احتجاج کی ایک لہر دوڑ گئی۔ برطانوی ہند کے تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں نے اس کمشین کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ بائیکاٹ کرنے والوں میں آل انڈیا کانگریس سنڑل خلافت کمیٹی ، جمعیت العلمائے ہند ، جناح لیگ اورہندوستان کے لبرل رہنما شامل تھے

اس موقع پر آل انڈیا مسلم لیگ دو حصوں میں بٹ گئی۔ پہلا گروہ جناح لیگ دراصل اس کمیشن سے بائیکاٹ کے حق میں تھی جب کہ شفیع لیگ کمیشن ہذا کے ساتھ تعاون کرنے کے حق میں تھی۔

ہندوستان آمد[ترمیم]

عوامی احتجاج اور بائیکاٹ کے باوجود 1928 میں سائمن کمیشن نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ لیکن ہر جگہ ہندوستانیوں نے کالی جھنڈیوں اور احتجاجی نعروں سے اس کے سامنے مظاہرہ کیا۔ اور ’’سائمن واپس چلے جاؤ‘‘ ، ’’ہم سائمن کمیشن کا بائیکاٹ کرتے ہیں‘‘ کے نعروں اور بینروں سے مظاہرین نے کمیشن کے ارکان کو اپنے جذبات سے آگاہ کیا۔ بعض جگہوں پر عوام نے احتجاجی جلسے کیے اور عوام اور پولیس کے درمیان جھڑپین بھی ہوئیں۔ ایک ایسی جھڑپ میں جو لاہور میں سائمن کمیشن کے دوسرے دورے کے موقع پر پیش آئی جب پولیس نے لاٹی چارج کیا اور ایک انگریز افسر نے جب ایک ہندو سیاسی رہنما ، چونسٹھ سالہ لالہ لاچیت رائے جو مظآہرین میں شامل تھے کے سینے پر ڈنڈے سے پے درپے وار کیے تو بعد میں لالہ نے اپنے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’ جوانوں میرے بڑھاپے کی لاج رکھنا۔ آج میرے سینے پر جو سوٹیاں لگی ہیں میری خواہش ہے کہ یہ برطانوی سامراجیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں۔‘‘

جن لوگوں نے عوام کے جذبات کے برعکس سائمن کمیشن کے ساتھ تعاون کیا اور جگہ جگہ گرمجوشی سے کمیشن کا استقبال کیا۔ ان میں نواب صاحبان ، خان بہادر صاحبان ، رائے بہادر صاحبان ، سرکاری ملازمین اور انگریز سرکار کی طرف سے انعام یافتگان قابل ذکر ہیں۔ ان بااثر شخصیات کی بدولت کمیشن ہذا نے ہندوستان کے مختلف حصوں کے نہ صرف دورے کیے بلکہ مختلف لوگوں سے ملاقاتیں اور ان کے انٹرویوز بھی کیے

سفارشات[ترمیم]

سائمن کمیشن نے اپنی روپورٹ میں اہم سفارشات پیش کیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ ہندوستان میں وفاقی طرز حکومت کی تشکیل

2۔ دو عملی نظام کا خاتمہ

3۔ صوبائی انتظامیہ کو صوبائی وزیروں ( جو صوبائی قانون ساز اسمبلی کے سامنے جوابدہ تھے) کے سپرد کرنا۔

4۔ صوبائی سطحوں پر قانون ساز اداروں کو وسیع کرنا

5۔ حق رائے دہی کا دائرہ وسیع کرنا

6۔ وزراء کا انتخاب صوبائی گورنر کے صوابدید اور اسمبلی کے اندر جن اراکین کو اکثریت حاصل ہو ، کی بنیاد پر کرنا

نتائج[ترمیم]

سائمن کمیشن کی رپورٹ 7 جون 1930ء کو شائع ہوئی۔ ہندوستان بھر میں مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر سخت تنقید اور اعتراضات کیے گئے۔ سائمن کمیشن کی رپورٹ کے بعد برطانوی سرکار نے لندن میں گول میز کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اس کانفرنس کے تین دور 10 نومبر 1930ء تا 24 نومبر 1932ء تک منعقد ہوئے۔ ان کانفرنسوں کا بنیادی مقصد ہندوستان کے لیے ایک متفقہ آئین تیار کرنا تھا۔