بینظیر بھٹو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بینظیر بھٹو
بينظير ڀٽو


در منصب
19 اکتوبر 1993 – 5 نومبر 1996
صدر وسیم سجاد
فاروق لغاری
پیشرو معین قریشی (نگران)
جانشین ملک معراج خالد (نگران)
در منصب
2 دسمبر 1988 – 6 اگست 1990
صدر غلام اسحٰق خان
پیشرو محمد خان جونیجو
جانشین غلام مصطفی جتوئی (نگران)

در منصب
5 نومبر 1996 – 12 اکتوبر 1999
پیشرو نواز شریف
جانشین فضل الرحمٰن
در منصب
6 نومبر 1990 – 18 اپریل 1993
پیشرو خان عبدالولی خان
جانشین نواز شریف

در منصب
26 جنوری 1994 – 10 اکتوبر 1996
پیشرو بابر علی (نگران)
جانشین نوید قمر
در منصب
4 دسمبر 1988 – 6 دسمبر 1990
وزیرِ اعظم غلام مصطفےٰ جتوئی (نگران)
نواز شریف
پیشرو محبوب الحق (نگران)
جانشین سرتاج عزیز

در منصب
4 دسمبر 1988 – 6 اگست 1990
پیشرو محمود ہارون (نگران)
جانشین غوث علی شاہ

در منصب
12 نومبر 1982 – 27 دسمبر 2007
10 جنوری 1984 تک بطور نگران
پیشرو نصرت بھٹو
جانشین آصف علی زرداری
بلاول زرداری بھٹو

پیدائش 21 جون 1953 (1953-06-21)
کراچی، پاکستان
وفات 27 دسمبر 2007 (عمر 54 سال)
راولپنڈی، پاکستان
سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی
ازواج آصف علی زرداری (1987–2007)
بچے بلاول
بختاور
آصفہ
مادر علمی جامعہ ہاروڈ
لیڈی مارگریٹ ہال، آکسفورڈ
سینٹ کیتھرین کالج، آکسفورڈ
کراچی گرامر سکول
مذہب اسلام
دستخط
موقع جال پاکستان پیپلز پارٹی کا رسمی موقع

بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 1988ء میں پاکستان کی وزیراعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بے پناہ بدعنوانی کے باعث اپنے خصوصی اختیارت کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کو ختم کرتے ہوئے نئے الیکشن کروائے ۔

بینظیر بھٹو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو 21 جون، 1953 میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ بینظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم لیڈی جیننگز نرسری اسکول (Lady Jennings Nursery School) اور کونونٹ آف جیسز اینڈ میری (Convent of Jesus and Mary) کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال راولپنڈی پریزنٹیشن کونونٹ (Rawalpindi Presentation Convent) میں بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے جیسس اینڈ میری میں داخلہ دلوایا گیا۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969ء میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے Radcliffe College میں داخلہ کیا۔ بے نظیر بھٹو نے ہارورڈ یونیورسٹی (Harvard University) سے 1973 میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ وہ اکسفورڈ یونیورسٹی میں دیگر طلبا کے درمیان کافی مقبول رہیں

حالات زندگی[ترمیم]

بینظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جون 1977ء میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کے خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی۔ لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد حالات کی خرابی کی بنا پر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ اپریل 1979ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازعہ کیس میں پھانسی کی سزا سنا دی۔ ١٩٨١ میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف ١٤ اگست ١٩٨٣ سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر ١٩٨٣ میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ ١٩٨٤ میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لاء اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل ١٩٨٦ میں بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو ١٩٨٧ میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ ١٧ اگست ١٩٨٨ میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ ١٦ نومبر ١٩٨٨ میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر ١٩٨٨ میں ٣٥ سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست 1990ء میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993ء میں اس وقت کے صدر نے غلام اسحاق خان کے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر 1993ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے 1996ء میں بدامنی اور بد عنوانی,کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

بدعنوانی اور دیگر الزامات[ترمیم]

بے نظیر بھٹو پر اقتدار میں آتے ہیں سب سے پہلے بھارت میں سکھوں کی علیحدگی کی تحریک تحریک خالصتان بند کروائی جو جنرل ضیاءالحق نے اپنے  دور میں شروع کروئی تھی تاکہ بھارت سے بنگلہ دیش کا بدلہ لیا جاسکے وہ تحریک کامیابی کے نزدیک تھی کہ اطلاعات کے مطابق بے نظیر بھٹو نے  بیرسٹر اعتزاز احسن کے ہاتھوں ان سارے سکھ لیڈروں کے نام اور ٹھکانے بھارت بھجوا دئیے جو تحریک کو لیڈ کر رہے تھے اس طرح انڈیا جو تقریبا تحریک کو دبانے کو ناکام ہو چکا تھا اس نے راتوں رات ان سب کو  گرفتار کر کے تحریک کا خاتمہ کر دیا اسکے علاوہ بے نظیر اپنے پہلے دور میں پاکستان کو ایٹمی پروگرام کو امریکہ کے کہنے پر رول بیک کرنے  کے لیے تیار ہوگئیں تھیں لیکن آرمی کے دباو کی  وجہ سے نہ کر سکیں اس بات کو بے نظیر کی پاکستان دشمنی تصور کیا گیاآپ اور آپ کے خاوند آصف علی زرداری پر مالی بدعنوانی کے بیشتر الزامات ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سلسلہ میں مقدمات قائم ہیں ۔[1] اکتوبر 2007ء میں بینظیر نےامریکی امداد سے پرویز مشرف کی حکومت سے سازباز کے نتیجے میں اپنے خلاف مالی بدعنوانی کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی۔[2][3] قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز آثاثے حاصل کیے۔[4][5]

بینظیر نے فوجی آمر پرویز مشرف کی طرف سے 3 نومبر 2007ء کو ہنگامی حالات کے نفاذ اور منصف اعظم افتخار محمد چودھری کو ہٹانے کی درپردہ حمایت کی۔[6] تاہم بیان بازی کی حد تک بینظیر نے اس فوجی اقدام پر کچھ عرصہ تنقید کی، مگر بعد میں کھلم کھلا حمایت کی اور اپنے دوغلے پن کا ثبوت دیا۔[7]

قبل از قتل[ترمیم]

بے نظیر نے اپنے بھائی مرتضٰی کے قتل اور اپنی حکومت کے ختم ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں دبئی میں قیام کیا۔ اسی دوران بے نظیر، نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر لندن میں اے آر ڈی کی بنیاد ڈالی۔ اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا۔ ان کی جلاوطنی کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی۔ جب 14 مئی 2006ء میں لندن میں نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے جمہوریت کو بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ دوسری پیش قدمی اس وقت ہوئی جب 28 جولائی 2007ء کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن تقریباً ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18 اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں ١٥٠ کو موت کی نیند سلا دیا گیا، جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ قیامت صغریٰ کے اس منظر کے دوران بے نظیر کو بحفاظت بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ) سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی بے نظیر دبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔

متنازعہ بیانات[ترمیم]

  • بے نظیر کے نے لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی
  • ایک انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ امریکی افواج کو پاکستانی سرزمین پر کاروائی کی اجازت دے دیں گی۔جس کے بعد وہ پاکستان کے وجود کے لیے ایک خطرہ بن گئیں
  • ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ ملک کے عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو پوچھ گچھ کے لئے امریکہ کے حوالے کردیں گی۔

محترمہ کے ان بیانات نے پاکستانی قوم میں بڑا اضطراب پیدا کردیا۔قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئ کہ کرسی کے حصول کے لۓ امریکہ اور مغرب کو خوش کرنے کی خاطر محترمہ کس حد تک گر سکتی ہیں۔

عورتوں کے لئے پالیسی[ترمیم]

کتابیں[ترمیم]

daughter of east

قتل[ترمیم]

27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بینظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے، اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بینظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔[8] بینظیر کی وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے 19 سالہ بیٹے بلاول زرداری بھٹو کو وراثت میں سپرد کر دی گئی۔[9]

2 نومبر 2007ء کو ڈیوڈ فراسٹ سے بات چیت میں بینظیر نے دعوی کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کو عمر شیخ نے قتل کر دیا تھا۔[10] عمر شیخ کو پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں برطانوی خفیہ ایجنسی MI5 کا ایجنٹ بتایا ہے۔

قتل کی تحقیقات[ترمیم]

پیپلزپارٹی نے حکومت بنانے کے بعد بینظیر کی قتل کی تحقیقات اپنے پرانے مطالبے کے مطابق اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے درخواست دی جو اس نے قبول کر لی۔ آصف علی زرداری نے بینظیر کے قتل کی پہلی برسی پر دعوٰی کیا کہ انھیں معلوم ہے کہ قاتل کون ہیں۔ البتہ صدر مملکت بن جانے کے بعد قتل کی دوسری برسی پر اپنی تقریر میں اس بارے کچھ نہ بتا سکے۔ اس تقریر کو مبصرین نے گھٹیا درجہ کا بتایا۔[11]

سابق رئیس عسکریہ مرزا اسلم بیگ نے دعوی کیا کہ بینظیر کو بلیک واٹر نے قتل کیا تھا۔[12] بعض حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ قتل ڈک چینی کے حکم پر ہوا۔لیکن اکثر کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اس کے قتل سے سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو   ہوا کیوںکہ اس نے کچھ ایسی امریکی خدمات سر انجام دینے کا وعدہ کیا تھا جس سے  امریکہ کو پاکستان کے اندر اپنے مفادات حاصل کرنا بلکل آسان ہوجاتا


  1. ^ روزنامہ دا ایج، آسٹریلیا، 31 دسمبر 2007ء، "Corruption shadow casts Bhutto in a different light"
  2. ^ روزنامہ نیشن، 11 اکتوبر 2007ء، "Benazir to escape Swiss court trial"
  3. ^ انڈیپینڈنٹ، 8 اکتوبر 2007ء، "Britain and US in 'safe return' deal for Bhutto"
  4. ^ آسٹریلین، 18 دسمبر 2009ء، "Asif Ali Zardari on shaky ground after amnesty overturned "
  5. ^ دی آسٹریلین 10 دسمبر 2009ء، "Watchdog claims Zardari reaped $1.7bn during Bhutto's rule "
  6. ^ روزنامہ نیشن، 4 نومبر 2007ء، "'Phone call' that led to emergency"
  7. ^ روزنامہ ڈان، "کامران شافی:Boycott, that’s what "
  8. ^ روزنامہ نیشن، 28 دسمبر 2007ء، "Nation outraged at Benazir's assassination"
  9. ^ انڈیپنڈنٹ، 31 دسمبر 2007ء، "Tariq Ali: My heart bleeds for Pakistan. It deserves better than this grotesque feudal charade"
  10. ^ یو ٹیوب یوٹیوب پر
  11. ^ روزنامہ نیشن، 28 دسمبر 2009ء، "President's threat perception"
  12. ^ "بینظیر بھٹو کو امریکہ نے بلیک واٹر کے ذریعے قتل کرایا: جنرل (ر) اسلم بیگنوائے وقت، 29 دسمبر 2009ء، http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/National/28-Dec-2009/18477. 



سیاسی دفاتر
خالی
عہدے پر پچھلی شخصیت
محمد خان جونیجو
وزیراعظم پاکستان
1988 – 1990
جانشین
غلام مصطفی جتوئی (نگران)
ان کے بعد نواز شریف
پیشرو
محبوب الحق
وزیر خزانہ پاکستان
1988ء  –  1990ء
جانشین
سرتاج عزیز
پیشرو
محمود ہارون
وزیر دفاع پاکستان
1988ء  –  1990ء
جانشین
غوث علی شاہ
پیشرو
معین الدین قریشی (نگران)
وزیراعظم پاکستان
1993ء  –  1996ء
جانشین
معراج خالد (نگران)
ان کے بعد نواز شریف
پیشرو
سید بابر علی
وزیر خزانہ پاکستان
1994ء  –  1996ء
جانشین
نوید قمر
سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشرو
نصرت بھٹو
چئیرپرسن پاکستان پیپلز پارٹی
1982–1984 نصرت بھٹو کی جگہ قائم مقام چئیرپرسن

1982 – 2007
جانشین
بلاول بھٹو زرداری
بحیثیت شریک چئیرمین
جانشین
آصف علی زرداری
بحیثیت شریک چئیرمین