معراج خالد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ملک معراج خالد


در منصب
5 نومبر 1996 – 17 فروری 1997
صدر فاروق لغاری
پیشرو بینظیر بھٹو
جانشین نواز شریف

پیدائش 20 ستمبر 1916 (1916-09-20)
لاہور, پاکستان
وفات 13 جون 2003 (عمر 86 سال)
اسلام آباد, پاکستان
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور
مذہب اسلام

در منصب
27 مارچ 1977 – 5 جوالائی 1977
پیشرو صاحبزادہ فاروق علی
جانشین سید فخر امام
در منصب
3 دسمبر 1988 – 4 نومبر 1990
پیشرو حامد ناصر چٹھہ
جانشین گوہر ایوب خان

سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی Flagge der Pakistanischen Volkspartei.svg

ملک معراج خالد پاکستان کے سیاستدان اور عبوری دور میں نگران وزیراعظم تھے۔ آپ لاہور کے قریب ایک گاوں میں پیدا ہوئے۔ آپ نے قانون کی تعلیم حاصل کی ۔ معراج خالد پیشہ کے اعتبار سے وکیل تھے اور لاہور کے نواحی علاقہ برکی کے ایک چھوٹے کاشکار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز 60 کی دہائی میں ایوب خان کے دور میں مسلم لیگ سے کیا اور بعد میں ’ضمیر کے بحران‘ کے عنوان سے ایک پمفلٹ لکھ کر ایوب خان کی حکومت پر تنقید کی جسے بہت شہرت ملی۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو وہ لاہورمیں ملک معراج خالد کی بنائی ہوئی ایک تنظیم ایفروایشین پیپلز سالیڈیریٹی کے پلیٹ فارم سے پہلی بار حزب مخالف کے رہنما کے طور پر عوام کے سامنے آۓ۔

معراج خالد پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ابتدائی لوگوں میں شامل تھے اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے 1970کے انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوۓ۔

اس وقت کے آئین کے مطابق ایک رکن قومی اسمبلی کو6 ماہ کے لیے کسی صوبہ کا وزیراعلی بھی منتخب کیا جاسکتا تھا۔ اس شق کے تحت وہ6 ماہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے اور ان کا اس وقت کے طاقت ور گورنر غلام مصطفے کھر سے اختیارات پر تناؤ رہا۔

بعد میں انھیں ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وفاقی وزیر زراعت بنا دیا گیا اور 1977 کے متنازعہ انتخابات کے بعد مختصر مدت تک رہنے والی قومی اسمبلی میں وہ اسپیکر منتخب کیے گۓ۔

معراج خالد تحریک بحالی جمہوریت میں بہت متحرک رہے اور انھوں نے کئی بار جیل کاٹی۔جب بے نظیر بھٹو 1986 میں ملک واپس آئیں تو معراج خالد کا شمار پارٹی کے ’انکلوں‘ میں کیا جانے لگا جنھیں بے نظیر بھٹو نے آہستہ آہستہ پارٹی کے معاملات سے دور کردیا۔ 1988کے انتخابات کے بعد منتخب ہونے والی پیپلز پارٹی کی حکومت میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں اور انھوں نے ایک بار پھر معراج خالد کو قومی اسمبلی کا اسپیکر بنایا۔

جب صدر غلام اسحاق خان اور فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو رخصت کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ در پردہ ملک معراج خالد کو بےنظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد لا کر وزیراعظم بننے کی دعوت دیتے رہے جو انھوں نے قبول نہیں کی۔

تاہم ملک معراج خالد کے بے نظیر بھٹو سے اختلافات شدت اختیار کرگۓ تھے اور1993 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی سربراہ نے انھیں لاہور سے ان کی روایتی نشست پر انتخاب لڑنے کے لیے پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا۔

اسی دوران میں ملک معراج خالد پیپلز پارٹی کی سیاست سے دور ہوگۓ اور انھوں نے اخوان المسلمون نامی تنظیم بنا کر لاہور کے دیہی علاقہ میں اسکول کھولنے اور انھیں چلانے پر توجہ مرکوز کرلی۔ وہ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر بھی مقرر ہوگۓ۔

جب صدر فاروق لغاری نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو 1993 میں برطرف کیا تو معراج خالد کو نگران وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ انھوں نے 3 ماہ کی مقررہ مدت میں انتخابات کرواکے اقتدار نوازشریف کے سپرد کردیا۔

انھوں نے کبھی با ضابطہ طور پر پیپلز پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا لیکن وہ 10 سال سے اس سے لاتعلق رہے۔

معراج خالد ایک سادہ انسان تھے جنھیں اکثر لاہور کی مال روڈ پر گھومتے ہوۓ اور باغ جناح میں سیر کرتے ہوۓ دیکھا جا سکتا تھا۔جب وہ نگراں وزیراعظم بنے تو انھوں نے وی آئی پی کلچر کے تحت ملنے والی مراعات کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ایئرپورٹ پر عام مسافروں کے راستے کو استعمال کرنا شروع کیا۔

لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔


سیاسی دفاتر
پیشرو
عبدالحمید خان دستی
وزیراعلٰی پنجاب
1972ء  –  1973ء
جانشین
غلام مصطفٰی کھر
پیشرو
صاحبزادہ فاروق علی
سپیکر قومی اسمبلی پاکستان
1977ء
جانشین
سید فخر امام
پیشرو
حامد ناصر چٹھہ
سپیکر قومی اسمبلی پاکستان
1988ء  –  1990ء
جانشین
گوہر ایوب خان
پیشرو
بینظیر بھٹو
وزیراعظم پاکستان (نگران)
1996ء  –  1997ء
جانشین
نواز شریف