یوسف رضا گیلانی

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
یوسف رضا گیلانی


Incumbent
Assumed office 
25 مارچ 2008
صدر پرویز مشرف
محمد میاں سومرو (عبوری)
آصف علی زرداری
پیشرو محمد میاں سومرو

In office
17 اکتوبر 1993 – 16 فروری 1997
پیشرو گوہر ایوب خان
جانشین الٰہی بخش سومرو

پیدائش 9 جون 1952 (1952-06-09) (عمر 59)
کراچی ، پاکستان
سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی
ازواج فوزیہ گیلانی[1]
سکونت ملتان ، پاکستان
مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور
جامعہ پنجاب
مذہب Islam
اسلام آباد میں وزیرِاعظم کی رہائش گاہ

مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون سنہ 1952 کو جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔ ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بناء پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔۔یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976ر میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت اعظمی پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔


فہرست

[ترمیم] عملی سیاست

انھوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سن1978 میں کیا۔ یوسف رضا گیلانی نے 1983 میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دیکر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔

سنہ 1985 میں انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔ Raja Muhammad Ayub انیس سو اٹھاسی میں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل نواز شریف کو شکست دی جو قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بننے اور اس مرتبہ انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ دو ہزار چھ میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔

یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔

[ترمیم] توہین عدالت

قومی مفاہمت فرمان 2007ء کلعدم ہو جانے کے بعد عدالت اعظمی نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو رکوانے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے دوبارہ مقدمات کھولنے کی درخواست سؤئس احکام کو لکھی جائے۔ گیلانی دو سال ٹال مٹول سے کام لیتا رہا حتٰی کہ عدالت اعظمی نے اسے توہین عدالت پر طلب کر لیا جہاں اس کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ زرداری کو بطور صدر استشنی حاصل ہے جو عدالت نے مسترد کر دیا۔[2] 13 فروری 2012ء کو عدالت نے گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کر دی۔[3] 26 اپریل 2012ء کو عدالت نے گیلانی کو توہین عدالت پر 30 سیکنڈ کی سزا سنائی اور اس طرح گیلانی مجرم قرار پایا۔[4]

[ترمیم] قومی خزانہ پر عیاشی

برطانیہ کے دورہ کے دوران گیلانی نے اسی لاکھ روپے کے تین کوٹ خریدے جس پر سرکاری پیسوں سے ادائیگی کی گئی۔ اس کے خاندان نے بھی زیورات سرکاری پیسے سے خریدے۔[5]

[ترمیم] بیرونی روابط

[ترمیم] حوالہ جات


سیاسی دفاتر
پیشرو
گوہر ایوب خان
سپیکر قومی اسمبلی پاکستان
1993 – 1997
جانشین
الٰہی بخش سومرو
پیشرو
محمد میاں سومرو
وزیراعظم پاکستان
2008ء تا حال
موجودہ
ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں