یوسف رضا گیلانی
| یوسف رضا گیلانی | |
|
|
|
| در منصب 25 مارچ 2008 – 26 اپریل 2012ء (19 جون 2012ء) |
|
| صدر | پرویز مشرف محمد میاں سومرو (عبوری) آصف علی زرداری |
|---|---|
| پیشرو | محمد میاں سومرو |
| جانشین | راجہ پرویز اشرف |
|
|
|
| در منصب 17 اکتوبر 1993 – 16 فروری 1997 |
|
| پیشرو | گوہر ایوب خان |
| جانشین | الٰہی بخش سومرو |
|
|
|
| پیدائش | 9 جون 1952 کراچی ، پاکستان |
| سیاسی جماعت | پاکستان پیپلز پارٹی |
| ازواج | فوزیہ گیلانی[1] |
| سکونت | ملتان ، پاکستان |
| مادر علمی | گورنمنٹ کالج لاہور جامعہ پنجاب |
| مذہب | Islam |
مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون سنہ 1952 کو جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔ ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بناء پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔۔یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
فہرست |
عملی سیاست[ترمیم]
انھوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سن1978 میں کیا۔ یوسف رضا گیلانی نے 1983 میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دیکر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔
سنہ 1985 میں انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔ Raja Muhammad Ayub انیس سو اٹھاسی میں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل نواز شریف کو شکست دی جو قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بننے اور اس مرتبہ انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ دو ہزار چھ میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔
یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔
توہین عدالت[ترمیم]
قومی مفاہمت فرمان 2007ء کلعدم ہو جانے کے بعد عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو رکوانے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے دوبارہ مقدمات کھولنے کی درخواست سؤئس احکام کو لکھی جائے۔ گیلانی دو سال ٹال مٹول سے کام لیتا رہا حتٰی کہ عدالت عظمیٰ نے اسے توہین عدالت پر طلب کر لیا جہاں اس کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ زرداری کو بطور صدر استشنی حاصل ہے جو عدالت نے مسترد کر دیا۔[2] 13 فروری 2012ء کو عدالت نے گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کر دی۔[3] 26 اپریل 2012ء کو عدالت نے گیلانی کو توہین عدالت پر 30 سیکنڈ کی سزا سنائی اور اس طرح گیلانی مجرم قرار پایا۔[4] 19 جون 2012ء کو عدالت نے مکلم پارلیمان کے فرمان کے خلاف مقدمے کے فیصلہ[5] میں لکھا کہ سزا کے بعد گیلانی پارلیمان کی رکنیت سے نااہل ہو چکا ہے اور اسطرح وزیراعظم نہیں رہ سکتا۔ انتخابی محکمہ کو عدالت نے ہدایت کی اس کی معزولی کا حکم جاری کرے جو فیصلے کے چند گھنٹہ بعد جاری کر دیا گیا کہ گیلانی 26 اپریل 2012ء سے معزول سمجھا جائے۔[6]
قومی خزانہ پر عیاشی[ترمیم]
برطانیہ کے دورہ کے دوران گیلانی نے اسی لاکھ روپے کے تین کوٹ خریدے جس پر سرکاری پیسوں سے ادائیگی کی گئی۔ اس کے خاندان نے بھی زیورات سرکاری پیسے سے خریدے۔[7]
بیرونی روابط[ترمیم]
| ویکیمیڈیا العام میں یوسف رضا گیلانی سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |
حوالہ جات[ترمیم]
- ^ http://pakistaniat.com/2008/03/24/profile-yousuf-raza-gllani-pakistan/comment-page-1/
- ^ سعید شاہ (2 فروری 2012ء). "Pakistan court to charge Yousaf Raza Gilani with contempt". گارڈین. http://www.guardian.co.uk/world/2012/feb/02/pakistan-court-charge-prime-minister?newsfeed=true. Retrieved 2 فروری 2012ء.
- ^ اینڈریو بنکومب. "Pakistan's PM is charged with contempt". انڈپنڈنٹ. http://www.independent.co.uk/news/world/asia/pakistans-pm-is-charged-with-contempt-6894761.html. Retrieved 13 February 2012.
- ^ "PM convicted of contempt of court". ڈان. 26 اپریل 2012ء. http://dawn.com/2012/04/26/pm-arrives-at-sc-for-contempt-verdict/.
- ^ "فیصلہ". http://dawncompk.files.wordpress.com/2012/06/supreme-court-short-order-na-speaker-ruling-june19-2012.pdf. Retrieved 19 June 2012.
- ^ "Gilani no more PM, rules SC". 19 جون 2012ء. http://dawn.com/2012/06/19/speaker-ruling-case-sc-resumes-hearing-2/.
- ^ "مجھے کون روک رہا ہے؟...چوراہا …حسن نثار". ڈان. 28 اپریل 2012ء. http://jang.net/urdu/details.asp?nid=623993.
| سیاسی دفاتر | ||
|---|---|---|
| پیشرو گوہر ایوب خان |
سپیکر قومی اسمبلی پاکستان 1993 – 1997 |
جانشین الٰہی بخش سومرو |
| پیشرو محمد میاں سومرو |
وزیراعظم پاکستان 2012 - 2008 |
جانشین راجہ پرویز اشرف |
|
|||||||