چوہدری شجاعت حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چودھری شجاعت حسین

چودھری شجاعت حسین (ولادت: 1946ء) پاکستان کے ایک سیاستدان ہیں۔ ان کا شمار چند اہم ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اس وقت مسلم لیگ (ق) کے صدر ہیں۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

چودھری شجاعت حسین کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان کے خاندان نے جنرل ایوب خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومتوں سے بھرپور تعاون کیا اور اپنی سیاسی قدر و قیمت بڑھاتا چلا گیا حالانکہ یہ خاندان پنجاب کے ان روایتی سیاسی خاندانوں میں شامل نہیں جو ملک بننے سے پہلے سے قومی سیاست میں نمایاں تھے۔

ظہور الہی[ترمیم]

چودھری شجاعت حسین گجرات کے چودھری ظہور الٰہی کے بیٹے ہیں جو ایک عام نچلے متوسط طبقہ کے آدمی تھے۔ وہ ایوب دور میں سرکاری جماعت کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور ایوب کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں پنجاب میں جاٹ برادری کے ایک نمایاں سیاست دان کے طور پر جانےلگے۔ سیاست میں آنے کے بعد ان کا شمار ملک کے نمایاں کاروباری خاندان کے طور پر ہونے لگا۔


ظہور الٰہی نے ذوالفقار علی بھٹو کی سخت مخالفت کی اور 1977کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء میں ظہور الٰہی وفاقی وزیر بنائے گئے۔ جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء نے جس قلم سے بھٹو کی پھانسی کے پروانہ پر دستخط کیے تھے اسے یادگار کے طور پر حاصل کر لیا۔ انہیں جنرل ضیاء کے دور میں ہی لاہور میں قتل کر دیا گیا تھا۔

عملی سیاست[ترمیم]

شجاعت حسین نے اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور مجلس شورٰی کے رکن رہے۔ 1985 کے انتخابات میں وہ پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔ ان کے کزن چودھری پرویز الٰہی پرویز مشرف دور میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، جنہیں صحیح معنوں میں ظہور الٰہی کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا ہے۔

چودھری شجاعت حسین 1988 ، 1990 اور 1997 میں بھی رکن قومی اسمبلی بنے تاہم 1993اور 2008 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اور معروف صنعت کار احمد مختار کے ہاتھوں شکست کھا گئے، لیکن بعد میں ق لیگ کے سینیٹر بن گئے۔

شریف خاندان سے تعلقات[ترمیم]

1986 میں چودھری خاندان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ لینے کے لیے اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کے خلاف بغاوت کی تھی لیکن اسے ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے شریف خاندان سے ہمیشہ اپنا تعلق استوار رکھا گو ان کے اختلافات اندرون خانہ موجود رہے۔

نواز شریف جب تک اقتدار میں رہے انہوں نے چودھری خاندان کے سیاسی قد میں اضافہ نہیں ہونے دیا اور ان کی خواہش کے برعکس 1990 اور 1997 میں چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نہیں بنوایا۔

شجاعت حسین نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر داخلہ رہے لیکن ان کی وزارت کے زیادہ تر اختیارات احتساب بیور کے سیف الرحمٰن کے پاس تھے یا خود وزیراعظم کے پاس۔

پرویز مشرف[ترمیم]

جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو شجاعت حسین کو دو فائدے ہوئے۔ ایک تو جنرل مشرف سے ان کی واقفیت تھی کہ دونوں ایک زمانےمیں لاہور کے ایف سی کالج میں پڑھتے رہے تھے او دوسری جنرل مشرف کے قریبی معتمد طارق عزیز چودھری خاندان کے دوست تھے۔

چودھری شجاعت حسین نے نواز شریف کی معزولی کے بعد ایک دم تو انہیں نہیں چھوڑا۔ وہ ایک سال تک شریف خاندان کی سربراہی میں مسلم لیگ سے وابستہ رہ کر حیلہ بہانہ سے نواز شریف کی سیاست سے اختلافات کرتے رہے لیکن جب نواز شریف کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا تو انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت میں مسلم لیگ کی تقسیم میں کلیدی کردار ادا کیا اور اس کا الگ دھڑا قائم کر لیا جس کے صدر لاہور کے ارائیں اور سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر بنے۔

مسلم لیگ کی صدارت[ترمیم]

میاں محمد اظہر نے نئی مسلم لیگ کو ایک جواز مہیا کیا کیونکہ وہ ایک بااصول اور کارکنوں کے دوست آدمی سمجھے جاتے تھے لیکن مسلم لیگ نواز شریف سے ٹوٹ کر منظم ہوگئی تو میاں محمد اظہر کو چودھری شجاعت حسین اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے مل کر صدر کے عہدے سے الگ کر دیا اور چودھری شجاعت حسین کو نئی جماعت کا صدر منتخب کر لیا گیا۔

ظفراللہ جمالی کو وزیراعظم بنوانے میں چودھری شجاعت حسین کا خاصا ہاتھ تھا کیونکہ دو ہزار کے انتخابات کے بعد انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم چھوٹے صوبے سے آئے جو صاف طور پر جمالی تھے حالانکہ اس وقت متحدہ مجلس عمل شجاعت حسین کے وزیراعظم بننے پر ان کی حمات کرنے کے لیے تیار تھی۔

تاہم چودھری شجاعت حسین کی زیادہ توجہ اس بات پر تھی کہ ان کے کزن پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن جائیں جو ان کی دیرینہ خواہش تھی اور لوگ مذاق کرنے لگے تھے کہ ان کے ہاتھوں میں وزارت اعلیٰ کی لکیریں نہیں ہیں۔

وزیراعظم جمالی سے شجاعت حسین کے اختلاف کی شروع ہوئے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ شجاعت حسین جمالی کی کابینہ میں اپنے پسند کے وزرا بنوانا چاہتے تھے لیکن ظفراللہ جمالی اس بات پر رضامند نہیں تھے اور انہوں نے اس دباؤ کو قبول نہ کرنے کے لیے کابینہ کی توسیع ہی نہیں کی۔ یوں جمالی صاحب کو بھی اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔

بطور وزیراعظم[ترمیم]

جمالی صاحب نے استعفی کے بعد چودھری شجاعت حسین کو2 مہینے کے وزیراعظم بنا دیا گیا۔ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے بہت سے سیاسی کام کیے۔ بدھ کو صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ہمیں چوہدری شجات حسین کی سیاسی تدابیر اور شوکت عزیز کی اقتصادی مہارت پاکستان کی ترقی اور خوشخالی کے لیے راہ پر لانا ہو گی۔ ایوان صدر میں انہوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ ہمیں سیاست اور معیثت میں ایک معیارحاصل کرنا ہو گا۔ ایک سیاست دان اور ایک ماہر اقتصادیات کا مجموعہ ملک کے مستقبل کے لیے اچھا ہو گا۔ اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بدھ کے دن صبح پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور دوپہر کو نیشنل اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ وزیراعظم ہاؤس کا حصہ بننے کے بعد 189 ارکان نے انکے لیے ووٹ کیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے زیر انتظام نئے وزیراعظم اور ایک 27 رکنی وفاقی کابینہ سمیت سات وزراء نے حلف اٹھایا۔ وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے اسی کابینہ کے تحت کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ظفراللہ جمالی کے پیش رو کیا تھا۔ لیکن انہوں نے دو وفاقی وزیر منتحب کئے۔ سید غازی گلاب اور محمد اجمال خان وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات سے تھے۔ ان محکموں کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حلف برادری کی تقریب کے بعد، صدر مشرف نے کہا اقتدار میں بجلی کی منتقلی پاکستان کی جمہوری تاریح میں ایک تاریخی واقعہ تھا۔ انہوں نے کہا ملک میں بجلی کی اس طرح کی فراہمی کبھی نہی ہوئی۔ صدر نے کہا کہ اختلافی جماعتوں نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ یہ سیاسی بخران تھا۔ انہوں نے کہا کہ انکی خواہشات کے برعکس، سب کچھ آسانی سے ہو گیا۔ کراچی 7جولائی، بدھ کو وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین کی پاکستان واپسی ہم سب کیلئے ایک بڑا تحفہ ہو گی ۔ انہوں نے متحدہ کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کرنے کےلئے نائن زیرو پر ایم کیو ایم کے صدر دفتر کے دورے کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہا ہم سب کو پاکستان کی ترقی اور خوشخالی کے لئے مل بیٹھ کر کام کرنا ہو گا۔ ایک اجتماع سے حطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے الطاف حسین سے فون پر بات کی جنہوں نے ہمارے دورے پر شکریا ادا کیا، اور اس نے ہماری مبارکباد کو اس شرط پر قبول کیا کہ وہ پاکستان لوٹ کر ہمیں تخفہ پیش کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح امن و امان تھی، اور اس مقصد کےلئے انہوں نے اپنی جماعت کی تنقید کیلئے سندھ میں حکومت بنانے کے لئے پی پی پی کو مدعو کیا، لیکن پیپلز پارٹی نے انکی اس پیش کش کی پروا نہ کی۔ مٹھی : چوہدری شجاعت نے کہا کہ کا کالا باغ ڈیم کو کسی بھی نام سے (پیلے، سیاہ یا کسی دوسرے نام سے) تعمیر کیا جائے۔ صدر پرویز مشرف کو یقین تھا، کہ پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ پانی کی قلت ہے، اور اس مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کرنے کے لئے ڈیموں کی تعمیر لازمی ہے۔ شجاعت نے مٹھی کمپلیکس میں ایک انتخابی ایک ریلی کے دوران کہا : وزیر حزانہ شوکت عزیز، وفاقی وزراء شیخ رشید احمد، نصیر خان، خالد احمد، اویس لغاری، سیئنر محمد علی درانی، وزیر اعلی سندھ، ارباب غلام رخیم، صوبائی وزیر صدر الدین شاہ، شبیر احمد، قائم خانی، ایم پی اے پونجمال بھیل، عبدالرزاق، ایم این اے ڈاکٹر غلام حیدر اور سندھ اسمبلی کے سپیکر مظفر حسین بھی ریلی میں شامل تھے۔ اسلام آباد : اتوار کے دن وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حدود و قوانین کی ترمیم اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دی گئی ہیں۔ اور جلد ہی سی آئی آئی اور دینی علماء سے مشاورت کے بعد منظوری کیلئے کابینہ کو بھیج دی جائے گی۔ وزیراعظم ہاؤس میں علماء و مشائح کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، حکومت اسلامی نظریاتی کونسل اور دینی علماء کو مدنظر رکھتے ہوئے حدود قوانین میں ترمیم کر سکتی ہے۔ شجاعت نے کہا کہ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو محدود کرنے کے لئے علماء کی مشاورت سے مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے متحدہ مجلس عمل اور علماء سے اپیل کی کہ وہ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو محدود کرنے کے فیصلے میں حکومت کا ساتھ دیں۔ اسلام آباد 16 جولائی : جمعہ کو حکومت نے قومی اسمبلی میں سیاستدانوں کو بیک وقت اور پارٹی دفاتر کے انعقاد کے مقصد سے ایک بل پیش کیا۔ بل قواعد کو معطل کرنے کے بعد خزب اختلاف کی طرف سے احتجاجً واک آؤٹ کیا۔ بل سے پولیٹکل پارٹیز آرڈر پی پی او، 2002 کی ترمیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ کہ سرکاری دفاتر کہ حامل سلاخکار سیاسی جماعت میں دفاتر انعقادکریں۔ اسمبلی کی طرف سے دفتر میں اپنے انتخاب کے بعد وزیراعظم شجاعت حسین کی طرف سے بنائی گئی۔ پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیراعظم چوہدری نوریز شکور نے اختجاجی شور اور شرمندگی کے نعرے کے دوران سیاسی جماعتوں کے ترمیمی بل بلائے پی پی او کا پابندی کا مضمون چھوڑنے کے لئے مخالف جماعت بلائی۔ اسلام آباد 17 جولائی : وزیراعظم شجاعت حسین نے کاروکی ایک معاشرتی نسوار قرار کے معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور ملک سے لعنت کے خاتمے کا وعدہ کیا۔ ہفتہ کو وزیراعظم شجاعت حسین نے نمائندہ گاہ جماعت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفد کاروکی کے متاثرین کی حمایت کا وعدہ ہے۔ وزیراعظم شجاعت حسین نے کہا کہ زندگی اور مال و جان کی حفاظت کا ذمہ حکومت کے سپرد ہے جو اسے کسی بھی قیمت پر پورا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ میں جلد ہی ایک بل متعارف کروایا جائے گا اور ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ اسلام آباد 27 جولائی : منگل کے دن وزیراعظم شجاعت حسین نے کہا کہ عراق میں اپنی فوج بھیجنے پر حکومت کی پالیسی واضح ہے اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ پارلیمانی سیکرٹریوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پریمیئر شجاعت نے عراق میں فوج بھیجنے کے سوال پر عوام میں غیر ضروری غلط فیہمی پیدا کرنے کی مخالفت کا الظام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور جب کبھی ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت محسوس کی جائے گی تو امت مسلمہ کے مشورے کے مطابق پارلیمنٹ کے ارکان اور لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقطہ نظر میں رکھتے ہوئے لیا جائے گا۔

اندرونی روابط[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]


سیاسی دفاتر
پیشرو
میاں زاہد سرفراز
وزیر داخلہ پاکستان
1990ء  –  1993ء
جانشین
فتح خان بندیال
پیشرو
عمر خان آفریدی
وزیر داخلہ پاکستان - دوسری معیاد
1997ء  –  1999ء
جانشین
معین الدین حیدر
پیشرو
ظفر اللہ خان جمالی
وزیراعظم پاکستان
2004ء
جانشین
شوکت عزیز
سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشرو
میاں محمد اظہر
صدر پاکستان مسلم لیگ ق
2002ء تا حال
جانشین
موجودہ