قبائلی علاقہ جات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاکستان کا نقشہ، قبائلی علاقہ جات سرخ رنگ میں نمایاں ہیں
پاکستان

مقالہ بسلسلہ مضامین:
پاکستان کی حکومت اور سیاست



قبائیلی علاقے یا وفاقی منتظم شدہ قبائیلی علاقہ جات، پاکستان کے قبائلی علاقہ جات چاروں صوبوں سے علیحدہ حیثیت رکھتے ہیں اور یہ وفاق کے زیر انتظام ہیں۔ قبائلی علاقہ جات 27 ہزار 220 مربع کلومیٹر کے علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں جو صوبہ سرحد سے منسلک ہیں۔

مغرب میں قبائلی علاقہ جات کی سرحد افغانستان سے ملتی ہیں جہاں ڈیورنڈ لائن انہیں افغانستان سے جدا کرتی ہے۔ قبائلی علاقہ جات کے مشرق میں پنجاب اور صوبہ سرحد اور جنوب میں صوبہ بلوچستان ہے۔

2000ء کے مطابق قبائلی علاقہ جات کی کل آبادی 33لاکھ 41 ہزار 70 ہے جو پاکستان کی کل آبادی کا تقریبا 2 فیصد بنتا ہے۔

یہ علاقے پاکستان کا حصہ تو ہے تاہم ابھی تک صوبے کا حیثیت حاصل نہیں. یہ پاکستان کے دو وفاقی اکائیوں میں سے ایک ہے (دوسرا اکائی اسلام آباد ہے.

قبائیلی علاقوں میں لوگوں مختلف پشتون قبائیل میں تقسیم ہے. علاقائی دارالحکومت پاراچنار ہے . ان علاقوں کو مختلف اجنسیوں میں تقسیم کیا گیا ہے.

قبائلی علاقہ جات کی ایجنسیاں[ترمیم]

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات

قبائلی علاقہ ان 7 ایجنسیوں/اضلاع پر مشتمل ہے:

ان کے علاوہ پشاور، ٹانک، بنوں، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ 6 سرحدی علاقے بھی موجود ہیں۔

قبائلی علاقہ جات کے اہم شہروں میں پارہ چنار، میران شاہ، باجوڑ، وانا اور درہ بازار شامل ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

آج جبکہ پاکستان کے حکمران اپنے دولت بڑهانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تو دوسری طرف انہوں نے ان غریب لوگوں کو تعلیمی سہولیات سے بهی دور رکها. نہ ہی ان کے لئے سکول اور نہ ہی کالج بنائے گئے یہیں وجہ ہے کہ ان لوگوں کے نسبت پاکستان کے دیگر علاقوں کے لوگ خصوصاً پختونخوا اور پنجاب تعلیم میں قبائیل سے بہت آگے گئے لیکن قبائیل جو پاکستانی قوم کا باقاعدہ حصہ ہے وہ اس سہولیات سے محروم رہے.

ملف:Literacy Rate Tribal Areas 2007 FATA excl FRs.jpg

متعلقہ مضامین[ترمیم]