کرک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع کرک کا محل وقوع

صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک ضلع۔ باراني اور خشک علا قہ کرک ،ضلع کوہاٹ سے یکم جولائی 1982ء کو الگ ہو کر ضلع کي حيثيت سے وجودميں آیا۔ اس ضلع کي مکمل آبادي ایک ہي قوم خٹک پر مشتمل ہے۔ یہ تين تحصيلوں ؛ کرک ، بانڈہ داؤد شاہ اور تخت نصرتی پر مشتمل ہے۔ ضلع کی سرحدیں ضلع بنوں ۔ کوہاٹ ۔ اور صوبہ پنجاب سے ملتی ہیں۔ کرک ضلع ميں بہادر خیل میں نمک کي کانيںموجود ہيں۔چونکہ يہ ذخائ ربڑے علاقے پرپھيلے ہوئے ہيں لھٰذا اس کے مضر اثرات نے ضلع کي کمزور زراعت کو کمزور کر دےا ہے۔ اس ضلع کابڑا مسئلہ پاني ہے۔جو نہ صرف آبپاشي بلکہ پينےکےلئے بھي ناکافي ہے۔پہلے پشاور سے ڈي آئي خان جانے والي شاہراہ کرک شہر اور آباديوں سے فاصلے پر تھي۔ اب انڈس ہائي وے کرک ہي سے گزرتي ہے۔ جولوگوں کي معاشي اور معاشرتي زندگي ميں انقلابی تبديلياں لا رہي ہے۔ جغرافيائي خصوصيات کے لحاظ سے يہاں سخت بنجر ميد١ن کٹي پھٹي لمبي لمبي سلسلہ وار پھاڈياںہيں۔ يہاں کي افرادي قوت ذہانت اورسخت محنت کے صفات سے آراستہ ہے۔ جو کہ ھماري دفاعي قوت کا ايک قيمتي سرمايہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر فوجی کی نوکری ہے۔ اس علاقے نے بڑي بڑي نامور شخصيات پيدا کي ہيں۔ جن میں اسلم خٹک سابق وزیر موصلات ۔ ظفر اعظم صوبائی وزیر قانون ، نوابزادہ محسن علی خان سابق صوبائی وزیر خزانہ ۔ علی قلی خان، چیف إیکزٹیو إی قرآن نالج٫لیبیا امبیسی { ان لاءن اکیڈ می} [ مفتی عمران خٹک] جو پؤرے دنیا کو اسلامک تعلیم دیتی ھے. وغیرہ۔ ان لوگوں نے اپني ذہانت کي وجہ سے فني و تعليمي اور تجارتي ميدان ميںکافي پيش رفت کي ہے۔ حال ہی میں گرگری کے مقام پر گیس کی دریافت بھی ہوئی۔


شماریات[ترمیم]

ضلع کا کُل رقبہ 3372 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 159 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 536000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 75430 ہيکٹيرزھے


آب

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=کرک&oldid=950318’’ مستعادہ منجانب