ضلع چترال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
‎ ‎چترال‎ضلع
—  ضلع  —
پاکستانی ضلعی نقشہ جس میں چترال کو سرخ رنگ دیا گیا ہے۔
ملک پاکستان
صوبہ NWFP
تعمیر 1970
مرکز چترال
رقبہ
 - کُل 14,850 کلومیٹر2 (5,733.6 میل2)
آبادی (2004)
 - کُل 5,0,000
 کثافتِ آبادی 25/کلومیٹر2 (64.7/میل2)
منطقۂ وقت PST (یو ٹی سی+5)
تحصیلوں کی تعداد 6
ویب سائٹ http://www.chitral.gov.pk

چترال صوبہ خیبر پختونخوا کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے۔ چترال پاکستان کے انتہائي شمالي کونے پر واقع ہے۔ یہ ضلع ترچ میر کے دامن میں واقع ہے جو کہ سلسلہ کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کي سرحد افغانستان کی واخان کی پٹی سے ملتی ہے جو اسے وسط ایشیا کے ممالک سے جدا کرتی ہے۔ رياست کے اس حصے کو بعد ميں ضلع کا درجہ ديا گيا۔ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈويژن سے منسلک کيا گيا۔ اپنے منفرد جغرافيائي محلِ وقوع کي وجہ سے اس ضلع کا رابطہ ملک کے ديگر علاقوں سے تقريباپانچ مہينے تک منقطع رہتا ہے۔ اپني مخصوص پُر کشش ثقافت اور پُر اسرار ماضي کے حوالے سے ملفوف چترال کي جُداگانہ حيثّيت نے سياحت کے نقطہءنظر سے بھي کافي اہميّيت اختيار کر لي۔ جنگ افغانستان کے دوران اپني مخصوص جغرافيائي حيثيت کي وجہ سے چترال کي اہميّت ميں مزيد اضافہ ہوا۔ موجودہ دور ميں وسطي ايشيائي مسلم ممالک کي آزادي نے اس کي اہميت کو کافي اُجاگر کيا۔ رقبے کے لحاظ سے يہ صوبہ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔

چترال پاکستان کا قدیمی لوک و تاریخی ورثہ کا حامل ہے ،بادشاہ منیر بخاری کے مطابق چترال میں 17 زبانیں بولی جاتی ہیں اور اس کی کل آبادی چار لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ،لیکن چترال سے تعلق رکھنے والے اردو اور کھوار زبان کے ممتاز ادیب، شاعر، محقق اور صحافی رحمت عزیز چترالی نے چترال میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد چودہ لکھئ ہے۔


تاریخ[ترمیم]

چترال جب پاکستان میں ضم نہیں ہوا تھا تب یہ ایک الگ ریاست تھا پھر بعد میں پاٹا میں شامل ہوگیا اور بالآخر خیبر پختونخوا کا ضلع بن گیا۔

انتظامیہ ،سیاحت و ثقافت[ترمیم]

چترال پاکستان کے تمام تر علاقوں میں اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے۔اس کی طرف سیاحت اور تفریح کے لئے لوگ نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ممالک سے آتے ہیں۔یہاں پہ کلاش نام کے لوگ ہیں جنہوں نے یہاں کی سیاحت کو ایک اور خوبصورت رنگ دیا ہے۔چترال پاکستان کے چند ان علاقوں میں ہے جو بلند سطح پہ واقع ہیں۔چترال میں اکثر تو کھوار زبان بولی جاتی ہے تاہم پشتو زبان کا بھی بہت گہرا رسوخ ہے ۔چترال جانے کے لئے دو راستے ہیں ایک لوری پاس کے ذریعے اور دوسراں دیر (قصبہ) کے ذریعے۔چترال کو انتظامی لحاظ سے دو تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک چترال تحصیل اور دوسرا مستوج۔ان دو تحصیلوں میں 24 یونین کونسلیں ہیں۔

ادبی تنظیمیں[ترمیم]

  • انجمن ترقی کھوار چترال

چترال کے نمایاں شعراء[ترمیم]

کھوار اکیڈمی کے حالیہ سروے کے مطابق کھوار زبان کے شعرا کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ اور شعرا کے مجموعہ کلام بھی شایع ہورہے ہیں۔ چترال کے چند ممتاز شعرا مندرجہ زیل ہیں۔-

تصاویر[ترمیم]

شماريات[ترمیم]

چترال ضلع کا کُل رقبہ14850 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلومیڑ 25 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 378000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 22550 ھيکٹيرزھے

انتظامیہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]