سرگودھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش



سرگودھا
عمومی معلومات
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع سرگودھا
محل وقوع 32.084 درجے شمال، 72.671 درجے مشرق
رقبہ 5844
آبادی 1.50,47,79 بمطابق 2011ء
منطقۂ وقت معیاری عالمی وقت +5
سرگودھا is located in پاکستان
سرگودھا

پاکستان میں سرگودھا کا مقام

سرگودھا، پاکستان کے منصوبہ کے تحت آباد یا تیار ہونے والے تین شہروں (باقی دو اسلام آباد اور فیصل آباد) میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ہندو سادھو کے نام پر ہے جو کہ گول کھوہ (کنواں) پر رہتا تھا۔ جہاں دوسرے مسافر بھی آرام کرتے تھے۔ آج وہاں پر ایک خوبصورت سفید مسجد ہے جسکا نام گول مسجد ہے اور اسکے نیچے گول مارکیٹ ہے ۔ انگریز راج میں یہ ایک چھوٹا قصبہ تھا لیکن اسکی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے ایک فوجی ایٔرپورٹ بنایا گیا۔ جو آزادی کے بعد پاکستانی فضائیہ کے لۓ مزید اہمیت اختیار کر گیا ۔ سرگودھا پہلے شاہپور کی ایک تحصیل تھی لیکن اب شاہپور سرگودھا کی تحصیل ہے۔

اعزازات[ترمیم]

ہلال استقلال
پاکستان کے تین شہروں لاہور، سرگودھا اور سیالکوٹ کے شھریوں کو 1965ء کے پاک بھارت جنگ میں بہادری کے لیے ھلال استقلال سے نوازا گیا جو کھ ان کے لیے بہت فخر کی بات ہے ۔ اسی طرح سرگودھا کے لوگ بھی اس پر فخر کرتے ہیں ۔ جو کہ انہیں پاکستان کے باقی شہروں سی نمایاں کرتا ہے۔

شاہینوں کا شہر[ترمیم]

1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کی پاک فضائیہ نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے سرگودھا کے پاک فضائیہ طیاروں نے بہت جواں مردی کے ساتھ دشمن کا منہ توڑ جواب دیا اور سرگودھا سے پرواز کر کے دشمن کی زمین پر جا کر اسکے اہم ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا دشمن کی طرف سے سرگودھا پہ ہونے والے اک حملے میں پاک فضائیہ نے نہ صرف حیران کن دفاع کیا بلکہ پاک فضائیہ کے ایک پائلٹ ایم ایم عالم نے محض تین یا چار سیکنڈ میں دشمن کے 4 طیارے مار گرائے جو کہ اک عالمی دریکاڑ ہے انہوں نے مجموعی طور پر 9 طیارے مار گرا‎ۓ اور دو کو نعقصان پہنچایا ہے اس کے علاوہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے اک یاد گار دفاع کیا اسی مناسبت سے سرگودھا کو "شاھینوں کا شہر" کہتے ہیں

(پھل مالٹے) کنو سنگترے[ترمیم]

ضلع سرگودھا کے علاقوں میں پیدا ہونے والے خوشبودار اور لزیذ مالٹے سنگترے اور کنو معیار اور ذائقے کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں یہ پوری دنیا میں بے حد پسند کیے جاتےہیں اس وجہ سے بھی سرگودھا بے حد شہرت کا حامل شہر ہے

کیرانہ کی پہاڑیاں[ترمیم]

سرگودھا شہر سے 14 کلو میڑ کے فاصلہ پر کیرانہ پہاڑیوں کا سلسلہ شعروع ہوتا ہے جو کہ چنیوٹ شہر تک جاتا ہے ان پہاڑیوں کے دامن میں ایک قدیم تاریخی مندر موجود ہے جو ہنو مان جی کا مندر کہلاتا ہے یہ مقام سیاحت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بہت اہم ہے اس مندر کے حوالے سے مشہور ہندو روایت یہ ہے کہ جب سیتا کو راون اُٹھا کے لے گیا تو ہنو مان جی سیتا کو بچانے کے لئے ان کےپیچھے بھاگے اور بقول ہندو تاریخ کے ہنو مان جی کوہِ ہمالیہ سے پہاڑ اُٹھا اُٹھا کرلا رہے تھے تاکہ لنکا اور بھارت کے درمیان موجود سمندر میں پہاڑ رکھ کر اپنے لئے خشکی کا راستہ بناتے جائیں لہذا وہ بار بار آتے اور پہاڑ لے آتے تھے ان کے ہاتھ سے جو جو پہاڑیاں گرتی رہیں کیرانہ کی پہاڑیاں مشہور ہوگئیں ہندؤ تاریخ کے نزدیک یہ وہی پہاڑیاں ہیں جن کا تذکرہ ہندؤں کی مشہور کتب میں ملتا ہے اِس کے علاوہ تاریخی تذکرے کے مطابق ایک مشہور ہندو شہزارے برتری ہری کا ذکر ملتا ہے جس نے دنیا سے بےگانہ ہو کر اپنے اور یوگ طاری کیا اور دنیا سے بے نیاز ہو کراپنی مذہبی تعلیم حاصل کی اس کے بعد اس نے ایک عبادت گاہ انہیں کیرانہ کی پہاڑیوں میں تعمیر کروائی اور خود یہاں ہی منتقل ہو گیا برتری ہری بہت مشہور شاعر بھی ہوا اس کے اک شعر کا علامہ اقبال نے ترجمہ بھی کیا ہے اِسی پہاڑی سلسلے میں آج کل سرگودھا کے نزیک ترین بلند پہاڑی پہ پاک فضایئہ کا اہم ترین ریڈار نصب ہے

یونیورسٹی آف سرگودھا[ترمیم]

سرگودھا میں موجود یونیورسٹی کا شمار پنجاب کی بہترین جامعات میں ہوتا ہے جس نے کم عرصے میں بہترین خدمات سر انجام دیں ہیں یونیورسٹی کے قیام کی وجہ سے بھی سرگودھا شہر بہت اہمیت کا حامل ہے۔

(رانجھا)تخت ہزارہ[ترمیم]

تحت ہزارہ کا تذکرہ ابوالفل نے اپنی کتاب آئینِ اکبری میں کیا ہے جو کہ اکبر بادشاہ کا مشہور ﻣﺼﺎﺣﺐ تھا اس کے علاوہ تخت ہزارہ کی وجہ شہرت مشہور پنجانی داستان ہیر رانجھا میں تیدو کا کردار ہے جسے تاریخ رانجھا کے نام سے یاد کرتی ہے رانجھا کا تعلق اِسی تخت ہزارہ سے تھا

(مغل شہزارہ) شاہ شجاع[ترمیم]

سرگودھا شہر سے چند کلو میڑ کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا قصبہ دھریمہ ہے تاریخ میں ملتا ہے کہ اک مغل شہزادہ شاہ شجاع جو کہ شاہجہان کا بیٹا تھا اِس نے اپنے سوتیلے بھائی اورنگ زیب کےہاتھوں شکت کھانے کے بعد اس قصبے دھریمہ میں آ کر پناہ لی اوراِس جگہ موجود اک بزرگ جن کا نام حبیب سلطان ناگہ تھا اُن کے ساتھ اپنی بقیہ عمر گزاری دی اسی جگہ پہ شاہ شجاع کی قبر بھی موجود ہے

تاریخی جامع مسجد بھیرہ اور مسجد حافظانی[ترمیم]

سن 1540 میں جب ہمایوں نےشیر شاہ سوری کے ہاتھو شکت کھائی تو وہ بھاگا اور بھیرہ پہنچ کر دم لیا لیکن اُس کا تعاقب کرتے ہوئے شیر شاہ سوری اس کے پیچھے بھیرہ آیا لیکن تب تک ہمایوں بھیرہ سے جا چکا تھا پر بھیرہ کی اینٹ سے اینٹ بج چکی تھی شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا شیر شاہ سوری نے خاص طور پر توجہ دیتے ہوئے بھیرہ شہر کو دوبارہ سے تعمیر کروایا اُن تعمیرات کی بہرین نشانی بھیرہ میں موجود جامع مسجد بھیرہ ہے جو کہ شیر شاہ سوری نے تعمیر کروائی تھی اس کے ساتھ ساتھ بھیرہ شہر میں اک مسجد حافظانی بھی موجود ہے جسے محلہ حافظاں میں اورنگ زیب عالمگیر نے تعمیر کراویا تھا

نوری اصحاب کی قبریں[ترمیم]

مشہور روایت ہے کہ سرگودھا سے چند کلو میڑ کے فاصلہ پہ اک قصبہ دھیریمہ میں دو اصحابِ رسول کی قبریں موجود ہیں جو اشاعتِ اسلام کی غرض سے عرب سے ہجرت کر کے برصغیر ہندوستان آئے اور پھر اسی قصبہ دھریمہ میں مقیم ہوئے اوریہاں پہ ہی وفات پائی دھریمہ کے قبرستان میں ان اصحاب کی قبریں آج بھی موجود ہیں جو نوری اصحاب کے نام سے مشہور ہیں

ریلوے[ترمیم]

سرگودھا ریلوے اسٹیشن پاکستان ریلویز کی لالہ موسیٰ - شور کوٹ برانچ ریلوے لائن پر سرگودھا کے درمیان واقع ہے۔ یہاں تمام اکسپريس ٹرینیں روکتیں ہیں۔ یہ سرگودھا - خوشاب برانچ ریلوے لائن کا جنکشن بھی ہے۔

لکڑی کا کام[ترمیم]

سرگودھا کی تحصیل Silanwali میں کیا جانے والا لکڑی کا کام دنیا بھر میں مشہور ہے