ڈیرہ غازی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ڈیرہ غازی خان
—  پاکستان کا دل  —
غازی یونیورسٹی چوک
عرفیت: ڈیرہ
شعار: Dera phullain da sehra دیرا پھلیں دا سہرا
(ترجمہ: Dera–the garland of flowers)
ڈیرہ غازی خان is located in پاکستان
ڈیرہ غازی خان
پاکستان میں ڈیرہ غازی خان کا مقام
متناسقات: 30°03′N 70°38′E / 30.05°N 70.633°E / 30.05; 70.633
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
علاقہ پنجاب
ضلع ڈیرہ غازی خان
قدیم شہر کی بنیاد 1474
نئے شہر کی بنیاد 1910
آبادی
 شہری 2,512,650
منطقۂ وقت PST (یو ٹی سی+5)
 - موسمِ گرما (د‌ب‌و) +6 (یو ٹی سی)
ڈاک رمز 32200
رموز رقبہ 064[1]
Acronym DGK
Demonym

ڈیرہ غازی خان کی دھرتی تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے مشہور رہی ہے، پندرہویں (15) صدی عیسوی میں بلوچ قبائل نے اس دھرتی کو اپنا مستقر بنایا۔ ایک ممتاز بلوچ سردار میر حاجی خان میرانی نے اپنے لاڈلے بیٹے غازی خان کے نام پر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر ڈیرہ غازی خان کی بنیاد رکھی۔ 1887 میں ڈیرہ غازی خان دریائے سندھ کے کٹاوُ کی لپیٹ میں آگیا۔ اس وقت یہ شہر موجودہ مقام سے 15 کلومیٹر مشرق میں واقع تھا۔ ڈیرہ کا لفظ فارسی سے نکلا ہے جس کے معنی رہائش گاہ ہے۔ تاہم بلوچ ثقافت میں ڈیرہ کو قیام گاہ کے ساتھ ساتھ مہمان خانہ یعنی وساخ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔


محل وقوع کے لحاظ سے ڈیرہ غازی خان ملک کے چاروں صوبوں کے وسط میں واقع ہے، اس کے مغرب میں کوہ سلیمان کا بلند و بالا سلسلہ ہے ، شمال میں تھل اور مشرق میں دریائے سندھ ٹھاٹھیں مار رہا ہے، روحانی حوالے سے مغرب میں حضرت سخی سرور ، شمال میں خواجہ سلیمان تونسوی اور جنوب سے شاعر حسن و جمال خواجہ غلام فرید کا روحانی فیض جاری ہے، طبقات الارض کے حوالے سے یہ خطہ پہاڑی، دامانی ، میدانی اور دریائی علاقوں پر مشتمل ہے، آب و ہوا کے لحاظ سے سردیوں میں سرد اور گرمیوں میں گرم مربوط خطہ ہے۔

علاقے کے رہائشیوں کی اکثریت سرائیکی زبان بولتی ہے جبکہ ارد گرد کے کچھ علاقوں میں سرائیکی کے ساتھ ساتھ بلوچی زبان بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے، لغاری ، کھوسہ، مزاری، میرانی ، گورچانی، کھیتران، بزدار اور قیصرانی یہاں کے تمندار ہیں ، بلوچ قبیلوں کی یہ تقسیم انگریز حکمرانوں نے کی ، انہوں نے قبائلی سرداروں کو اختیارات دئیے۔ عدلیہ کا کام جرگے نے سنبھالا جس کی نشتیں ڈیرہ غازی خان کے صحت افزاء مقام فورٹ منرو کے مقام پر ہوتی ہیں جو سطح سمندر سے 6470 فٹ بلند ہے۔ انتظامیہ کے لئے بارڈر ملٹری پولیس بنائی گئی ہے جو انہی قبائلی سرداروں کی منتخب کردہ ہوتی ہے۔ 1925 میں نواب آف بہاولپور اور گورنر جنرل غلام محمد کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ کے اضلاع کو ریاست بہاولپور میں ضم کر دیا گیا۔ تاہم 1982 میں ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، لیہ، راجن پور وغیرہ کو بہاولپور سے علیحدہ کر کے ملتان ڈویژن میں ضم کر دیا گیا۔ بعد میں اس شہر کو منفرد اور نقشے کے مطابق آباد کرنے کا منصوبہ تیار ہوا۔ شہر کی تمام سڑکوں، گلیوں اور بلاکون کو یکم جولائی 1900 میں مختلف بلاکوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس وقت کے منصوبے کے مطابق ہر گھر کے لئے پانچ مرلے کا رقبہ مختص تھا اور ہر بلاک 112 مرلے پر مشتمل تھا۔ تاہم وراثتی طور پر مکانات کی منتقلی سے گھروں کا حجم بہت فرق ہو گیا۔

ڈیرہ غازی خان کی سرزمین معدنی وسائل سے مالا مال ہے ارد گرد کا علاقہ سنگلاخ پہاڑوں کے باعث ناقابل کاشت ہے، علاقے کے نوجوانوں کی اکثریت روزگار کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رُخ کرتی ہے، تونسہ کے علاقے سے گیس اور تیل نکلتا ہے، علاقے میں موجود یورینیم کے استعمال سے پاکستان آج ایٹمی طاقت بن چکا ہے ، روڑہ بجری ، خاکہ اور پتھر کے تاجر کروڑوں روپے کما رہے ہیں الغازی ٹریکٹر پلانٹ فیٹ ٹریکٹر اور ڈی جی سیمنٹ اس علاقے کی پہچان ہے، اندرون ملک سفر کےليے ریل ، بسوں اور ویگنوں سے ملک کے چاروں صوبوں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے چلتن ایکسپریس کوئٹہ سے لاہور، لاہور سے کوئٹہ کے ليے براستہ ڈیرہ غازی خان چلتی ہے ، خوشحال خان خٹک ایکسپریس کراچی سے پشاور اور پشاور سے کراچی براستہ ڈیرہ چلتی ہے۔

نقل و حمل[ترمیم]

ڈیرہ غازی خان ایر پورٹ

کوئٹہ روڈ پر سخی سرور سے پہلے جدید ائرپورٹ پورٹ تعمیر کیا گیا ہے جہاں سے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دبئی کے ليے پروازیں چلتی ہیں۔

تعلیم اور کھیل[ترمیم]

ڈیرہ غازی خان میڈیکل کالج

کوئٹہ روڈ پر ہی تقریباً 85 کلو میٹر کے فاصلے پر جنوبی پنجاب کا سرد ترین تفریحی مقام فورٹ منرو ہے۔ شہر میں تفریحی سہولتوں کے ليے سٹی پارک ،غازی پارک، وائلڈ لائف پارک، چند کھیل کے میدان اور آرٹ کونسل ہے۔ بلدیہ کی لائبریری میں کتب کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ علاقے کے لوگ بشمول خواتین تعلیم کے حصول میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ شہر میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ليے علیحدہ علیحدہ ایلیمنٹری کالجز ہیں۔ تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرز کے سخی سرور روڈ پر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی قائم ہے۔ جبکہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئیے علیحدہ علیحدہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے موجود ہیں جن میں ریلوے روڈ پر واقع گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، گورنمنٹ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین، گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ آف کامرس برائے خواتین ، ایگری کلچر سکول وغیرہ شامل ہیں۔ شہر میں پرائیوٹ لاء کالجز، پرائیویٹ ہومیو پیتھک کالج، کمپیوٹر کے درجنوں تربیتی ادارے اور درجنوں پرائیویٹ سکول ہیں۔ ڈویژنل پبلک سکول اور کالج، گورنمنٹ کالج، انٹر کالج، سنٹرل ماڈل سکول، جامع سکول، اسلامیہ ہائی سکول اور لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے گورنمنٹ ہائی سکول اور دیگر تمام تعلیمی ادارے شہر میں علم کے فروغ کے لئیے سرگرم عمل ہیں۔ جامعہ رحمانیہ اسلامیہ اور کلیتہ النبات ،سکول نمبر 1، 2 اور 3، للدراسات الااسلامیہ ممتاز دینی مدارس ہیں۔ والی بال یہاں کے لوگوں میں مقبول کھیل ہے لیکن اب کرکٹ اس کی جگہ لے رہا ہے۔

کھانے[ترمیم]

روایتی طور پر مقامی لوگ ناشتہ میں حلوہ پوری، دوپہر کو سری پائے شوق سے کھاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک گھروں میں ڈرائنگ روم یا بیٹھک نہیں ہوتی تھی بلکہ گھروں کے آگے یا چوک میں رکھی ہوئی بڑی بڑی چارپائیاں جنہیں مقامی زبان میں ہماچہ کہتے ہیں، ڈرائنگ روم یا بیٹھک کے نعم البدل کے طور پر استعمال ہوتی تھیں جن پر بیٹھ کر رات گئے تک گپ شپ اور حال احوال کرنا مقامی لوگوں کے مزاج اور ثقافت کا حصہ ہے، مگر بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ ثقافت کو بھی نئے دور کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے چارپائی اور ہماچے کی جگہ اب ڈرائنگ رومز اور بیٹھکوں نے لے لی ہے۔

مسائل[ترمیم]

زیر زمین پانی کافی کڑوا ہے۔ پینے کا صاف پانی ڈیرہ غازی خان کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ شہر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ليے شہر سے کم و بیش دس کلو میٹر دور پمپ لگے ہوئے ہیں جہاں سے پانی پائپوں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ پمپ اکثر خراب رہتے ہیں اور پھر پائپ لائنوں کے پھٹ جانے سے سیوریج ملا پانی پینے کو ملتا ہے۔ شہریوں کی اکثریت گندے پانی کی وجہ سے گردوں اور دیگر امراض کا شکار ہو رہی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے لاکھوں روپے کی لاگت سے 11 اگست 2000 کو واٹر پیور لیفیکیشن پلانٹ کا افتتاح کیا اور اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے بعد تین اور پمپس بھی چالو کئے گئے جنہیں مشرف واٹر پمپس کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مگر محکمہ پبلک ہیلتھ، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی عدم توجہی کی بنا پر پانی صاف کرنے کے یہ پلانٹ بے کار ہو رہے ہیں۔

ڈیرہ غازی خان میں صفائی ستھرائی کا نظام انتہائی ناقص ہے۔ ہر طرف گندگی کے ڈھیر پڑے نظر آتے ہیں۔ سیوریج یہاں کا ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے جسے کسی بھی دور میں حل نہیں کیا گیا۔ اکثر محلوں، بلاکوں اور سڑکوں پر سیوریج کا پانی کھڑا ہوتا ہے۔ چوک چورہٹہ کے مکین سیوریج کی وجہ سے انتہائی پریشان ہیں۔ سجاد آباد، غریب آباد، نورنگ شاہ، مستوئی کالونی، بھٹہ کالونی، نیوماڈل ٹاؤن اور گلستان سرور کے باشندے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ سیوریج کا پانی اب ان کے گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔ سابقہ ادوار میں آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے شہر کی سڑکیں تعمیر کی گئی تھیں جو کچھ عرصے ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔

شہر میں سرکاری ہسپتال کے علاوہ درجنوں پرائیویٹ ہسپتال موجود ہیں۔ سرکاری ہسپتال میں سالانہ لاکھوں روپے کی ادویات کی خریداری کے باوجود عام ادویات بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا سنہرا خواب اور کروڑوں روپے کی گرانٹس کے باوجود ڈیرہ غازی خان کے عوام کی تقدیر نہیں بدل سکی، اس سب کے باوجود بھی ڈیرہ کے شہری اپنے سنہرے مستقبل اور اپنی تقدیر بدلنے کا خواب ضرور دیکھتے ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]