ٹھٹہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ٹھٹہ
Tomb 1 Thatta.jpg
عمومی معلومات
صوبہ سندھ
آبادی 22،000
کالنگ کوڈ 029
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
حکومت
ناظم سید شفقت حسین شاہ شیرازی
یونين کونسلیں 07
علامت
Coat of arms of Sindh Province.svg


ٹھٹہ یا ٹھٹو (اردو: ٹھٹہ, سندھی:ٹھٹو) پاکستان کے صوبہ سندھ مں کینجھر جھیل (جوکہ پاکستان میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے) کے نزدیک واقع تقریباً 22،000 بائیس ہزار نفوس پر مشتمل ایک تاریخی مقام ہے۔ ٹھٹہ کے بیش تر تاریخی مقامات و نوادرات کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ادارے نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔[1] یہ قصبہ کراچی کے مشرق میں تقریباً 98 کلومیٹر یا 60 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کراچی کے قرب میں ہونے کی وجہ سے، اس تاریخی و خوبصورت جگہ پر سیاحت کے دلدادہ لوگوں کی بڑی تعداد آسانی کے ساتھ یہاں پہنچ جاتی ہے، خصوصاً ہفت واری تعطیلات کے ایام میں یہاں لوگوں کی بڑی تعداد سیروسیاحت اور تاریخی مقامات، مزارات، مساجد وغیرہ کی زیارت کے لئے آتی ہے۔ اس کے اطراف میں بنجر اور چٹانی کوہستانی علاقہ اور دلدلی زمین بھی ہے۔ گنا یہاں کی سب سے زیادہ کاشت کی جانے والی فصل ہے جبکہ اونٹوں کی افزائش و پیدائش بھی آمدن کا نہایت عام ذریعہ ہے۔ اس کے اطراف و اکناف کی کھدائی میں قدیم تاریخی نوادرات ملے ہیں جوکہ زمانہ قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔ [2]


تاریخ[ترمیم]

چودھویں صدی عیسوی میں یہ شہر نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اُس وقت یہ نہ صرف اسلامی فنون کا مرکز بلکہ سندھ کا داراالخلافہ بھی تھا، جوکہ 95 سال تک رہا۔ چودھویں صدی سے لے کر 1739ء تک یہاں مغل حکمرانوں کی حکومت قائم رہی۔ تاہم 1739ء کی جنگ کرنال میں ایران کے بادشاہ نادر شاہ نے اس پر قبضہ کرلیا اور اس کے بعد سے اس شہر کو بالکل نظر انداز کر دیاگیا۔ ٹھٹہ اسلامی فنِ تعمیر کی تاریخی وراثت سے مالامال ہے، جوکہ سولہویں اورسترھویں صدی میں بنائے گئے۔ ٹھٹہ کی تاریخ قریباً دوہزار سال پرانی ہے۔ سولہویں صدی میں اس عظیم شہر کی عظمت کی علامتیں اب بھی کہیں کہیں نظر آتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم یہاں اپنی فوج کے ساتھ طویل مسافت کے دوران تازہ دم ہونے کے لئے یہاں اقامت پذیر ہوا تھا۔[2] ٹھٹہ کی باقیات میں یہاں مقبرے، مزارات، مساجد وغیرہ شامل ہیں۔

اہم مقامات[ترمیم]

مائی مکلی قبرستان، ٹھٹہ

ٹھٹہ کے نوادرات میں جامع مسجد (جسے شاہجہانی مسجد اوربادشاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے) جو کہ مغل بادشاہ شاہجہان نے 49-1647ء کے درمیان تعمیر کرائی تھی۔ اس مسجد میں 93 گنبدہیں اور اس مسجد کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ اس میں امام کی آواز بغیر کسی مواصلاتی آلہ کے پوری مسجد میں گونجتی ہے۔ مقبروں میں یہاں سب سے بڑا اور قابلِ دید مقبرہ عیسٰی خان ترکان کا ہے جو کہ 1644ء میں انتقال کر گیا تھا۔ عیسٰی خان ترکان نے یہ مقبرہ اپنی زندگی میں ہی تعمیر کروا لیا تھا۔ مقبرے کی تعمیر مکمل ہوتے ہیں، عیسٰی خان نے مقبرے کو بنانے والے ہنرمند کے ہاتھ کٹوا دئیے تھے تاکہ کوئی دوسرا بادشاہ اس طرح کا مقبرہ نہ بنوا سکے۔[2] عیسٰی خان کے مقبرے کے علاوہ یہاں مرزا جانی بیگ، مرزا تغرل بیگ اور دیوان شرفاء خان کے مقبرے بھی نہایت مشہور ہیں۔

مائی مکلی قبرستان میں موجود مقبرے، ٹھٹہ

اس کے علاوہ دنیا کا سب سے بڑا اور قدیم قبرستان مکلی بھی ٹھٹہ کے قریب واقع ہے۔ یہ قبرستان، جس میں لاکھوں قبورہیں تقریباً آٹھ کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ یہاں کئی بادشاہ، ملکہ، علماء، فلسفی اور جرنیل ابدی نیند سورہے ہیں۔ یہاں کی قبروں کی خاص بات اُن کے دیدہ زیب خدوخال اور نقش و نگار ہیں جوکہ نہ صرف اہلِ قبر کے زمانے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ اُس وقت کی تہذیب، ثقافت اور ہنرمندی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہاں موجود قبریں تاریخی اعتبار سے دو ادوار میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ پہلا سما بادشاہوں کا دور جوکہ (1520 - 1352) تک رہا اور دوسرا ترکان بادشاہوں کا دور جو کہ (1592 - 1556) تک رہا۔ ان عمارتوں کے ڈھانچے نہایت مضبوط، طرزِ تعمیر نہایت عمدہ اور تعمیری مواد بہت ہی اعلیٰ معیار کا ہے۔ ان قبروں پر کی گئی نقاشی اور کشیدہ کاری کا کام اپنی مثال آپ ہے۔ یہ قبرستان تاریخ کا وہ ورثہ ہے جوکہ قوموں کے مٹنے کے بعد بھی اُن کی عظمت و ہنر کا پتہ دیتا ہے۔ اس کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں لوگ اس قبرستان میں آتے ہیں۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ پاکستان کے آثارِ قدیمہ اور یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 پاکستانی سیاحتی رہنائی کا موقع


‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=ٹھٹہ&oldid=809403’’ مستعادہ منجانب