ضلع خیرپور
| ضلع خیرپور | |
| عمومی معلومات | |
| ملک | |
| صدر مقام | خیرپور |
| صوبہ | سندھ |
| رقبہ | 15،910 مربع کلومیٹر |
| آبادی | 1،515،000 بمطابق 1998ء |
| زبانیں | سندھی پنجابی اردو |
| منطقۂ وقت | متناسق عالمی وقت +5 |
| رمزِ ڈاک | 66020 |
| رمزِ بعید تکلم | 243 |
| ناظم | سید نیاز حسین شاہ جیلانی |
| نائب ناظم | میر ڈنل خان ٹالپر |
| تحصیل | 8 خیرپور صوبھو دیرو فیض گنج کنگری کوٹ ڈجی گمبٹ میرواہ نارہ |
| صوبہ سندھ میں ضلع خیرپور کا محل وقوع | |
ضلع خیرپور پاکستان کے صوبہ سندھ کا ایک ضلع ہے۔ 15 ہزار 910 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ ضلع صوبے کے بڑے اضلاع میں سے ایک ہے۔ ضلعی صدر مقام خیرپور میرس کا شہر ہے۔
ضلع خیرپور شمالی سندھ میں واقع ہے، جس کے شمال میں سکھر، جنوب میں سانگھڑ اور نواب شاہ، مغرب میں لاڑکانہ اور نوشہرو فیروز کے اضلاع ہیں جبکہ مشرق میں اس کی سرحدیں بھارت سے ملتی ہیں۔
فہرست |
آبادیاتی خصوصیات [ترمیم]
1998ء کی قومی مردم شماری کے مطابق ضلع کی کل آبادی 15،46،587 ہے جس میں سے 23.23 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.71 فیصد ہے۔ ضلع میں کم از کم 10 گھروں کے 1709 دیہی علاقے ہیں جن کی آبادی 200 سے ایک ہزار تک ہے۔
مردم شماری کے مطابق ضلع کی بیشتر آبادی مسلم ہے جو کل آبادی کا 96.86 فیصد ہیں جبکہ ہندو 2.93 فیصد کے ساتھ سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ سندھی 93.85 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے جبکہ پنجابی 3.16 فیصد اور اردو 1.37 فیصد لوگ بولتے ہیں۔
انتظامی تقسیم [ترمیم]
ضلع خیرپور کل 8 تحصیلوں میں تقسیم ہے:
تاریخ [ترمیم]
ضلع خیرپور ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے کیونکہ تقسیم ہند سے قبل یہاں ٹالپر خاندان کی قائم کردہ ریاست خیرپور موجود تھی۔ یہ ریاست 1783ء سے 1955ء تک قائم رہی۔ 14 اگست 1947ء کو ریاست نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ 1955ء میں حکومت کی جانب سے ریاستوں کے خاتمے کے اعلان کے بعد ریاست خیرپور کا خاتمہ کر کے اسے صوبہ مغربی پاکستان میں شامل کر دیا گیا۔
یہ علاقہ شیعہ سنی تنازع کا زبردست مرکز رہا ہے اور 1963ء میں عاشورۂ محرم کے جلوس پر مقامی مدرسے کے طلباء کے حملے میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اہم سیاحتی مقامات [ترمیم]
ضلع خیرپور کئی تاریخی مقامات کا حامل ہے جن میں ٹالپروں کا بنایا گیا قلعہ کوٹ ڈجی معروف حیثیت رکھتا ہے۔ خیرپور میرس شہر میں واقع فیض محل 1798ء میں قائم کیا گیا ایک محل ہے جو شہر کی سب سے اہم عمارت ہے۔ (تصویر بائیں جانب ملاحظہ کیجیے)
ضلع خیرپور کے شمال مغرب میں صحرائے تھر واقع ہے، جو سیاحوں کے لیے پرکشش حیثیت کا حامل ہے۔
اہم شخصیات [ترمیم]
پاکستان کی تاریخ اور قبل از تقسیم ہند کی کئی اہم شخصیات ضلع خیرپور سے تعلق رکھتی تھیں اور ہیں، جن میں شامل ہیں:
- سچل سرمست – آٹھویں صدی کے مشہور صوفی شاعر
- صبغت اللہ شاہ راشدی - حر تحریک کے بانی، انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی معروف شخصیت
- پیر پگارا - فنکشنل لیگ کے سربراہ (بمطابق 2009ء)
- علی مراد ٹالپر – ریاست خیرپور کے سابق حکمراں
- قائم علی شاہ – صوبہ سندھ کے موجودہ وزیر اعلیٰ (بمطابق 2009ء)، پہلے بھی وزارت اعلیٰ پر فائز رہ چکے ہیں
- غوث علی شاہ – سابق وزیر دفاع پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ
زراعت [ترمیم]
ضلع خیرپور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر واقع ہے اور اسی سے نکلنے والی نہروں سے سیراب ہوتا ہے۔ یہاں کی سب سے اہم اور مشہور کاشت کھجور ہے جس کے باعث پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ کھجوریں پیدا کرنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے علاوہ پاکستان میں کھجور کی پیداوار کا سب سے اہم علاقہ ضلع خیرپور ہی ہے۔
تعلیم [ترمیم]
ضلع خیرپور کا سب سے اہم تعلیمی ادارہ جامعہ شاہ عبد اللطیف بھٹائی ہے۔ جبکہ سپیریئر سائنس کالج بھی ایک اہم درسگاہ ہے۔
قبائل [ترمیم]
ضلع میں کئی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہیں جن میں اہم درج ذیل ہیں: سید، جمالی، ٹالپر،بھٹی، ٹگڑ، خواجہ، ابڑو، میمن، شیخ، پھلپوٹو، وسن، سولنگی، میتلہ، سولنگی، شر، بھنگو، جسکانی، خاصخیلی، ملاح، ملک، بیہن، سومرو، جونیجو، رند، لغاری، جتوئی، لاشاری، چنہ، کھرل، چغتائی، عباسی اور بوزدار۔
متعلقہ مضامین [ترمیم]
|
|||||||||||||