شیخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شیخ عربی زبان کالفظ ہے جس کے معنی بڑے اور عزت دار کے ہیں۔ خطہ عرب میں یہ لفظ عام ہے کیونکہ تمام معزز افراد کے ناموں کے ساتھ تعظیم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مگر برصغیر میں اس لفظ کا استعمال ذرا مختلف ہے۔ وہ اس اعتبار سے کہ یہ عربوں کے جانشین افراد کا لقب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام کے بعد برصغیر کےاونچی ذات کے لوگوں یعنی برہمنوں ،راجپوتوں اور کھتریوں نے اس عربی لفظ کو اپنے لیے اپنایا۔ وسطی ایشائی ممالک اور مشرق وسطیٰ سے جو لوگ ہجرت کر کے برصغیر آئے، وہ بھی شیخ ہی کی حیثیت سے یہاں آباد ہوئے۔ سولہویں صدی عیسوی میں ہونے والے صفوی مظالم کے باعث ایران سے ہجرت کر کے آنے والوں نے بھی شیخ کا لفظ اپنے لیے بطور پہچان استعمال کیا۔ پنجاب میں آباد ہونے والے شیخ وہ ہیں جن کے آباء و اجداد یا تو کھتری تھے یا پھر برہمن جو اسلام قبول کرنے کے بعد شیخ کا لقب استعمال کرنے لگے۔یہ لوگ زیادہ تر شہری اور غیر کاشتکار ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے زیادہ تر کاروباری ہیں یا پھر پبلک سروس سے ہیں۔کاروباری لحاظ سے پنجاب میں ان کا اپنا ایک مقام ہےجو ان کی پہچان ہے۔ کھتری کا لفظ پنجابی زبان میں ، ہندی لفظ کھشتری کا مترادف ہے۔کھتریوں کی زیادہ تر تعداد شمالی ہند خاص طور پر پنجاب میں پائی جاتی ہے۔ مغلیہ دور میں یہ لوگ کاروباری اعتبار سے کافی اہم سمجھے جاتے تھے البتہ کچھ کھتری انتظامی امور اور افواج میں بھی شامل رہے ۔ سکاٹ کیمرون لیوی نے کھتریوں کو ہندِ جدید کی اہم ترین تاجر برادری شمار کیا ہے۔ مذہب کے اعتبار سے کھتری ذیادہ ترہندو ہیں مگر کھتریوں میں بہت بڑی تعداد سکھوں کی ہے اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام سکھ گُرو کھتری ہی تھے۔ بارہویں صدی عیسوی میں کھتریوں کا اسلام کی طرف رحجان ہوا اور قبول اسلام کا یہ سلسلہ آزادیِ ہند تک جاری رہا۔ مسلمان کھتری تاجر ہی بعد میں کھوجہ کہلوائے۔ اور ان کا شمار پنجابی شیخوں میں ہوتا ہے۔

تحقیق وتحریر: شیخ عثمان امرتسری

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=شیخ&oldid=1032254’’ مستعادہ منجانب